رسائی کے لنکس

logo-print

برما حکومت مسلمانوں کے قتل ِ عام میں ملوث تھی: ہیومن رائیٹس واچ


نیویارک سے شائع ہونے ہیومن رائیٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے نہ صرف اپنے سامنے مسلمانوں کا قتل ِ عام ہونے دیا بلکہ وہ خود بھی اس میں شریک ہوئے۔

ہیومن رائیٹس واچ کی جانب سے جاری کردہ ایک رپورٹ میں برما کی حکومت کو گذشتہ برس مغربی صوبے رکھائین میں انسانی حقوق کی خلاف ورزی اور وہاں رہنے والے روہنگا مسلمانوں کے قتل ِ عام میں ملوث ہونے کا ذمہ دار ٹھہرایا گیا ہے۔ رپورٹ کے مطابق حکومت نے جو کیا وہ ’یکطرفہ‘ اور ’ناقابل ِ قبول‘ تھا۔

رپورٹ کے مطابق سیکورٹی فورسز روہینگا مسلمانوں سے ان کے عارضی اور معمولی ہتھیار چھینے اور ان کا قتل ِ عام کرنے کی سازش میں شامل ہوئے۔2012 میں جون اور اکتوبر کے مہینوں میں رکھائین بدھ مت کے پیروکاروں کے مجمعے نے سیکورٹی فورسز کی موجودگی میں مسلمان مردوں، عورتوں اور بچوں کو بے دریغ قتل کیا۔ نیویارک سے شائع ہونے ہیومن رائیٹس واچ کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ سیکورٹی فورسز نے نہ صرف اپنے سامنے مسلمانوں کا قتل ِ عام ہونے دیا بلکہ وہ اس میں خود بھی شریک ہوئے۔

ہیومن رائیٹس واچ میں ایشیاء کے ڈپٹی ڈائریکٹر فل رابرٹ سن کا کہنا ہے کہ ان واقعات کی چھان بین، مکمل تفتیش کی ناکامی اور ملوث عہدیداروں کو سزا نہ ملنے کی وجہ سے ملک کے دوسرے حصوں میں بھی مسلمانوں کے خلاف جذبات کو مزید بھڑکنے میں مدد ملی۔ ان کا اشارہ پچھلے ماہ مارچ میں وسطی میانمار میں ہونے والی ان پرتشدد کارروائیوں پر تھا جس میں تینتالیس افراد قتل جبکہ بارہ سو سے زائد بے گھر ہو گئے تھے۔

فل رابرٹ سن کے الفاظ، ’’ رکھائین میں جو کچھ ہوا اس نے مسلمانوں کے خلاف جذبات بھڑکانے اور پرتششد کارروائیاں کرنے میں چنگاری کا کام کیا۔‘‘

میانمار کے صدر کے ترجمان اور ڈپٹی وزیر برائے اطلاعات یہہ ٹوٹ نے فیس بک پر ایک پیغام میں ہیومن رائیٹس واچ کی رپورٹ کی تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ رپورٹ ’یکطرفہ‘ خبروں پر مبنی ہے۔ ان کے الفاظ، ’’رپورٹ کے مندرجات ناقابل ِ قبول ہیں۔ میانمار کی حکومت کسی یکطرفہ رپورٹ کو اہمیت نہیں دے گی۔‘‘

XS
SM
MD
LG