رسائی کے لنکس

logo-print

روہنگیا مسلمانوں کی اجتماعی قبروں کی رپورٹ غلط ہے: میانمار


پناہ گزین کیمپ میں مقیم روہنگیا مسلمان (فائل فوٹو)

میانمار کی حکومت نے امریکی خبر رساں ایجنسی 'ایسوسی ایٹڈ' پریس کی اس رپورٹ کو مسترد کیا ہے جس میں روہنگیا مسلمانوں کی پانچ اجتماعی قبروں کا انکشاف کرتے ہوئے کہا گیا تھا کہ ان افراد کو فوج نے مقامی بدھ مت برادری کے ساتھ مل کر ہلاک کیا۔

حکومت کے مطابق مارے جانے والے افراد "دہشت گرد" تھے اور انھیں "احتیاط کے ساتھ دفن کیا گیا۔"

ایسوسی ایٹڈ پریس نے جمعرات کو دعویٰ کیا تھا کہ گو دار پیئن نامی گاؤں میں ان اجتماعی قبروں کا پتا ان دو درجن سے زائد افراد سے لیے گئے انٹرویو سے چلا جو یہاں سے جان بچا پر بنگلہ دیش نقل مکانی پر مجبور ہوئے۔

مزید برآں سیٹیلائیٹ سے حاصل ہونے والی تصاویر سے بھی پتا چلا کہ یہاں گھروں کو تباہ کیا گیا اور گاؤں بری طرح متاثر ہوا۔

لیکن حکومت کی انفارمیشن کمیٹی نے ایک بیان میں کہا کہ سرحدی محفاظ پولیس سمیت 17 سرکاری عہدیداروں نے اس گاؤں کا دورہ کیا اور وہاں کے عمائدین نے بتایا کہ "ایسا کچھ بھی نہیں ہوا۔"

بیان کے مطابق روہنگیا نسل سے تعلق رکھنے والے "دہشت گردوں" کے ایک گروپ کی یہاں عسکریت پسندوں کے خلاف فوجی آپریشن کے دوران سکیورٹی فورسز سے مڈھ بھیڑ ہوئی تھی۔

حکام کے بقول تقریباً 500 دیہاتیوں نے سکیورٹی فورسز پر چاقوؤں اور لاٹھیوں سے حملہ کیا جس پر فورسز کو اپنے دفاع میں فائر کرنا پڑا۔

بیان کے مطابق اس میں 19 "دہشت گرد" ہلاک ہوئے جن کی لاشوں کو "احتیاط کے ساتھ" سکیورٹی فورسز نے سپردخاک کر دیا۔

حکام نے انسانی حقوق کی کسی بھی طرح کی خلاف ورزی کی تحقیقات کا عزم ظاہر کرتے ہوئے کہا کہ ایسے واقعات سے قانون کے مطابق نمٹا جائے گا۔

بیان میں کہا گیا کہ تحقیقات کے ابتدائی طور پر سامنے آنے والے نتائج کی روشنی میں یہ کہا جا سکتا ہے کہ ایسوسی ایٹڈ پریس کی رپورٹ غلط ثابت ہوئی ہے۔

گزشتہ سال اگست سے راخائن ریاست میں سکیورٹی فورسز کی کارروائیوں کے باعث چھ لاکھ 80 ہزار سے زائد روہنگیا مسلمان پڑوسی ملک بنگلہ دیش نقل مکانی کرنے پر مجبور ہوئے۔

میانمار کی حکومت روہنگیا مسلمانوں کو اپنا شہری تسلیم نہیں کرتی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG