رسائی کے لنکس

logo-print

میانمار میں فوج مخالف مظاہروں میں مزید ہلاکتیں


فوج مخالف مظاہرے میں آگ بجھائی جا رہی ہے۔ 8 مارچ 2021

میانمار میں گزشتہ ماہ سویلین حکومت کا تختہ الٹ کر فوجی حکومت قائم کرنے کے خلاف جاری مظاہروں میں پیر کے روز کم از کم مزید دو افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

تازہ ہلاکتیں، شمالی صوبے کاچن کے دارالحکومت ماکینا میں ہوئیں۔ وائس آف امیریکہ کی برمی سروس کے نامہ نگاروں کی جانب سے کھینچی گئی تصاویر میں گولی لگنے کے بعد، سڑک پر خون میں لت پت پڑے افراد کو دیکھا جا سکتا ہے۔ ان میں سے چند کو طبی عملہ ابتدائی طبی امداد دے رہا ہے۔ ایک دوسری تصویر میں، ایک عورت کا بازو سخت زخمی ہے اور وہ سہارا لیکر کھڑی ہو رہی ہیں۔

تازہ ہلاکتیں ایک ایسے وقت میں ہوئی ہیں جب میانمار میں 9 مزدور یونینوں کے اتحاد نے ہڑتال پر جا کر فوج کے خلاف احتجاجی مظاہروں میں شمولیت اختیار کر لی ہے تا کہ فوج پر دباؤ ڈالا جا سکے۔

مزدور یونینوں کا کہنا ہے کہ معمول کے مطابق کاروبار جاری رکھنے کا مطلب فوجی حکومت کی حمایت کرنا ہو گا جو عوام پر ظلم و ستم روا رکھے ہوئے ہے۔ مزدور یونینوں نے ایک مشترکہ بیان میں کہا ہے کہ جمہوریت کی بقا کیلئے عملی قدم اٹھانے کا وقت آ گیا ہے۔

ینگون میں دکانیں، فیکٹریاں اور بینک بند ہیں اور لوگ بڑی تعداد میں میانمار کے تمام بڑے شہروں کی سڑکوں پر بھرپور احتجاجی مظاہرے کر رہے ہیں۔

میانمار میں فوج کے اقتدار پر قبضے کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ 7 مارچ 2021
میانمار میں فوج کے اقتدار پر قبضے کے خلاف مظاہرے جاری ہیں۔ 7 مارچ 2021

منڈالے میں لوگوں کی بڑی تعداد نے دھرنا دیا۔ ان میں سے 70 مظاہرین کو گرفتار کر لیا گیا۔ پولیس نے تاریخی بودھ مندر بگان میں مظاہرین کو منتشر کرنے کیلئے آنسو گیس کا استعمال کیا۔

برخواست کی گئی آنگ ساں سوچی کی حکمران جماعت نیشنل لیگ فار ڈیموکریسی (NLD) کے ایک اہل کار نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ پولیس نے پارٹی کے اہل کار خِن ماؤنگ لٹ کو ہلاک کر دیا ہے۔

پارٹی کے رکنِ پارلیمان سدھو ماؤنگ کے مطابق مذکورہ پارٹی اہل کار کو ینگون میں گرفتار کیا گیا تھا اور حِراست کے دوران اس کی ہلاکت ہو گئی۔ ہلاکت کی وجہ کے بارے میں کوئی اطلاع فراہم نہیں کی گئی ہے۔

تاہم سیاسی قیدیوں کی مدد کرنے والی تنظیم کے ترجمان تُن کی نے وائس آف امریکہ کی برمی سروس سے بات کرتے ہوئے بتایا ہے کہ ہلاک ہونے والے شخص کے سر سے خون بہہ رہا تھا۔ اس کی انگلیوں کا رنگ سیاہ پڑ چکا تھا اور اس کی کمر پر بھی زخم تھا۔ تنظیم کے ترجمان کا کہنا تھا کہ فوج نے اب تک 1,700 افراد کو گرفتار کر لیا ہے۔

آسٹریلیا نے میانمار کی فوج کے ساتھ دفاعی تعاون کا پروگرام ختم کر دیا ہے اور امدادی رقوم روہنگیا اور دیگر اقلیتی گروپوں کی مدد کیلئے براہ راست غیر سرکاری تنظیموں کو فراہم کرنا شروع کر دی ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG