رسائی کے لنکس

logo-print

میانمار: سیاسی و فوجی رہنماؤں کا اجلاس، پیش رفت نہ ہو سکی


صدر تھائن سین سے ٹیلی فون پر گفتگو میں، مسٹر اوباما نے حکومت برما پر اس بات کی اہمیت اجاگر کی کہ وہ تناؤ کے ماحول کا مداوا کرنے اور رخائین کی ریاست میں صورت حال میں بہتری لانے کے حوالے سے اضافی اقدامات کرے

میانمار کے صدر اور فوج نے جمعے کے دِن چوٹی کے سیاست داں اور نسلی اقلیت کے رہنماؤں سے ملاقات کی۔ یہ اپنی نوعیت کا پہلا سربراہ اجلاس تھا جو ملک میں عشروں تک جاری رہنے والی فوجی حکمرانی کے بعد اب بہتری کی طرف قدم بڑھا رہا ہے۔

وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ دارالحکومت، نیپئدا میں منعقدہ اس سربراہ اجلاس کے تمام شرکاٴ نےسیاسی اصلاحات کو جاری رکھنے، ملکی سطح پر جنگ بندی کی کوششیں کرنے اور 2015ء میں پارلیمانی انتخابات کرانے سے متعلق امور پر رضامندی کا اظہار کیا۔

اجلاس میں کسی پیش رفت کی کوئی اطلاع نہیں ملی۔ لیکن، وزیر اطلاعات نے کہا ہے کہ شرکاٴجن میں حزب اختلاف کی قائد آنگ سان سوچی شامل تھیں، آئندہ کسی تاریخ پر مزید مذاکرات کرنے سے اتفاق کیا۔

میانمار، جو برما کے نام بھی جانا جاتا ہے، اُسے کئی ایک چیلنج درپیش ہیں، ایسے میں جب وہ دنیا کے سخت آمرانہ دور سے باہر نکلنے کی تگ و دو کر رہا ہے۔

ملک کی مغربی ریاست، رخائین میں تشدد پر مبنی کشیدگی کے حالات ہیں، جہاں روہنگیا کی نسلی اقلیت کو حکومت اور معاشرے کی طرف سے مظالم کی شکایت ہے۔

حکومت اس بات کی کوشاں ہے کہ معاشی اعتبار سے اقلیتی گروہوں کے ساتھ ملکی سطح پر جنگ بندی پر عمل درآمد یقینی بنایا جائے۔ یہ گروہ کئی دہائیوں سے حکومت سے لڑتے آ رہے ہیں۔

ساتھ ہی،حزب مخالف کی طرف سے آئین میں تبدیلی لانے کی کوششوں کے باعث تناؤ جاری ہے، جس کی رو سے ملکی سیاست میں فوج کو ایک واضح فوقیت حاصل ہے۔

جمعرات کے روز امریکی صدر براک اوباما نے میانمار پر زور دیا ہے کہ آئندہ سال ہونے والے انتخابات میں’سب کی شمولیت کو یقینی بنانے، اور اُنھیں تمام طبقوں کے لیے قابل اعتماد بنانے‘ کی جستجو کی جائے۔

صدر اوباما نے یہ بیان صدر تھاین سین اور آنگ سان سوچی کے ساتھ علیحدہ علیحدہ ٹیلی فون گفتگو میں کیا۔

طویل عرصے تک جدوجہد کرنے والی جمہوریت نواز رہنما سے گفتگو میں مسٹر اوباما نے ملک میں جاری سیاسی اور معاشی اصلاحات کی کوششوں اور 2015ء میں منعقد کیے جانے والے عام انتخابات میں سب کی شرکت کو یقینی بنانے اور اِنھیں تمام طبقوں کے لیے قابل اعتماد بنانے پر زور دیا۔

وائٹ ہاؤٴس کے عہدے داروں نے بتایا ہے کہ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر غور کیا کہ رواداری کو فروغ دینے، مختلف النوع برادریوں کی حرمت کو یقینی بنانے اور سارے طبقوں کے اشتراک سے سیاسی ماحول کو پروان چڑھانے کے سلسلے میں امریکہ کیا مدد فراہم کر سکتا ہے۔

صدر تھائن سین کے ساتھ گفتگو میں، مسٹر اوباما نے حکومت برما پر اس بات کی اہمیت اجاگر کی کہ وہ تناؤ کے ماحول کا مداوا کرنے اور رخائین کی ریاست میں صورت حال میں بہتری لانے کے حوالے سے اضافی اقدامات کرے۔

اُنھوں نے تھائن سین اور اُن کی حکومت کی طرف سے امن عمل کے سلسلے پُرعزم انداز اختیار کرنے کا خیرمقدم کیا، اور کہا کہ جلد از جلد قومی سطح پر کارگر جنگ بندی کے قیام کی طرف قدم بڑھایا جائے۔

صدر اوباما اگلے ماہ میانمار کا دورہ کرنے والے ہیں، جہاں وہ دو عدد سربراہ علاقائی اجلاسوں میں شرکت کریں گے۔ متعدد تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ کسی حد تک جمعے کے دِن ہونے والے اِس سربراہ اجلاس کا آئندہ اجلاسوں سےتعلق تھا۔

جمعے کے روز ہونے والے اس اجلاس میں پہلی بار ملک کی طاقتور مسلح افواج کے سربراہ، سینئر جنرل مِن آنگ ہینگ اور آنگ سان سو چی کی ملاقات ہوئی۔

آنگ سان سو چی کی ’نیشنل لیگ فور ڈیموکریسی پارٹی‘ آئین میں ترمیم کرنے کی جستجو کرتی آئی ہے، جس کے تحت اس بات کو یقینی بنایا جانا ضروری ہے کہ پارلیمان میں فوج کم از کم 25 فی صد نشستیں اپنے پاس رکھے۔

آئین میں آنگ سان سوچی پر صدارتی عہدہ لڑنے پر پابندی عائد ہے، چونکہ اُن کے آنجہانی شوہر اور دونوں بچے برطانوی شہری ہیں۔

XS
SM
MD
LG