رسائی کے لنکس

logo-print

سبطین خان دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے


سبطین خان

قومی احتساب بیورو نے پنجاب کے وزیر جنگلات سبطین خان کا نیب عدالت سے دس روز کا جسمانی ریمانڈ حاصل کر لیا ہے۔

جمعے کے روز گرفتار ہونے والے سبطین خان کو ہفتے کو نیب عدالت میں پیش کیا گیا جہاں عدالت نے انھیں دس روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔

نیب حکام کے مطابق، سبطین خان سنہ 2007 میں مسلم لیگ قائد اعظم کی حکومت کا حصہ تھے۔ وہ اُس وقت صوبائی وزیر معدنیات تھے اور انہیں چنیوٹ میں مائنز ٹھیکہ کیس میں گرفتار کیا گیا ہے۔

سبطین خان پنجاب اسمبلی کے حقلے پی پی 88 میانوالی چار سے پاکستان تحریک انصاف کے ٹکٹ پر منتخب ہوئے ہیں اور موجودہ کابینہ میں وزیر جنگلات و جنگلی حیات ہیں۔

سبطین خان کی گرفتاری پر نیب حکام کی جانب سے جاری کردہ اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ سبطین خان پر چنیوٹ میں اربوں روپے کے ٹھیکے میں من پسند کمپنی کو نوازنے کا الزام ہے۔ ملزم نے سنہ 2007 میں نجی کمپنی کو ٹھیکہ دینے کے لیے غیر قانونی احکامات جاری کیے۔

اعلامیے کے مطابق، ملزم نے شریک ملزمان سے ملی بھگت کرکے خلاف قانون ٹھیکہ فراہم کیا۔ پنجاب حکومت نے سنہ 2018 میں نیب کو آگاہ کیا جس پر دوبارہ کارروائی ہوئی۔

نیب اعلامیے کے مطابق نجی کمپنی ماضی میں کان کنی کے تجربے کی حامل نہیں تھی۔ تجربہ نہ ہونے کے باوجود سابق وزیر نے ملی بھگت سے کمپنی کو ٹھیکہ فراہم کیا۔ پنجاب مائنز ڈیپارٹمنٹ نے بڈنگ میں دوسری کمپنی کو شامل ہی نہیں کیا اور نہ ہی ملزمان نے ایس ای سی پی کو منصوبے کی تفصیلات فراہم کیں۔

نیب حکام نے اعلامیہ میں لکھا ہے کہ لاہور ہائیکورٹ سےکیس ریفر ہونے پر نیب نےکارروائی کا آغاز کیا۔

نیب کے مطابق سبطین خان نے چنیوٹ کے اربوں روپے مالیت کے معدنی وسائل 25 لاکھ مالیت کی کمپنی کو فراہم کیے، ملزم کو ریمانڈ لینے کے لیے کل احتساب عدالت میں پیش کیا جائےگا۔

وائس آف امریکہ نے سبطین خان کی گرفتاری پر پنجاب حکومت کا مؤقف لینے کی کوشش کی۔ تاہم، وزیر اعلٰی پنجاب کے ترجمان سمیت کسی بھی حکومتی شخصیت نے اِس پر اپنا رد عمل نہیں دیا۔ سبطین خان وزیر اعظم پاکستان عمران خان کے عزیز اور جہانگیر خان ترین کے رشتہ دار ہیں۔

نیب اس سے قبل تین ارکان پنجاب اسمبلی کو آمدن سے زائد اثاثوں اور مبینہ مالی بے ضابطگیوں کے الزام پر گرفتار کر چکی ہے۔ جن میں ایک حکومتی وزیر عبدالعلیم خان، پنجاب اسمبلی میں قائد حزب اختلاف حمزہ شہباز اور رکن اسمبلی خواجہ سلمان رفیق شامل ہیں۔ عبدالعلیم خان اِس وقت ضمانت پر رہا ہیں جبکہ حمزہ شہباز اور خواجہ سلمان رفیق بدستور نیب کی حراست میں ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG