رسائی کے لنکس

logo-print

سعد رفیق گرفتار؛ حمزہ شہباز کے بیرونِ ملک جانے پر پابندی


خواجہ سعد رفیق عدالت کے باہر صحافیوں سے گفتگو کر رہے ہیں۔ (فائل فوٹو)

سماعت کے بعد عدالت نے خواجہ برادران کی درخواست ضمانت مسترد کردی جس پر عدالت میں موجود نیب کی ٹیم نے دونوں بھائیوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

لاہور ہائی کورٹ نے مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں خواجہ سعد رفیق اور خواجہ سلمان رفیق کی ضمانت قبل از گرفتاری کی درخواستیں مسترد کر دی ہیں جس کے بعد انہیں قومی احتساب بیورو (نیب) کے حکام نے حراست میں لے لیا ہے۔

قبل از گرفتاری ضمانت میں توسیع کے لیے خواجہ برادران منگل کو لاہور ہائی کورٹ میں پیش ہوئے تھے جہاں جسٹس طارق عباسی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے ان کی درخواستوں کی سماعت کی۔

سماعت کے دوران خواجہ سعد رفیق کے وکیل نے عدالت سے استدعا کی کہ کیس کو کسی اور ریجن میں منتقل کر دیا جائے۔ ان کے مؤکل کی ہر چیز کلئیر ہے اور ٹیکس ریٹرن میں شامل ہے۔

اس پر نیب کے وکیل نے عدالت سے کہا کہ چیئرمین نیب خواجہ برادران کے کیس کی منتقلی کی درخواست مسترد کر چکے ہیں۔

نیب کے وکیل کا کہنا تھا کہ خواجہ سعد رفیق کی اہلیہ نے قیصر امین بٹ کے ساتھ مل کر پیراگون ہاوسنگ اسکیم میں شراکت داری کی۔ غلط طریقے سے حاصل کی گئی آمدن کو ٹیکس میں شامل کر کے یہ نہیں کہا جا سکتا کہ وہ جائز ہے۔

طرفین کے دلائل سننے کے بعد عدالت نے خواجہ برادران کی درخواستِ ضمانت مسترد کردی جس پر عدالت میں موجود نیب کی ٹیم نے دونوں بھائیوں کو اپنی تحویل میں لے لیا۔

رکن قومی اسمبلی خواجہ سعد رفیق اور ان کے بھائی خواجہ سلمان رفیق کے خلاف نیب کی تحقیقاتی ٹیم پیراگون ہاؤسنگ سوسائٹی اور آشیانہ ہاوسنگ اسکیم میں مبینہ طور پر کی جانے والی کرپشن کی تحقیقات کر رہی ہے۔

دونوں بھائی کئی بار پیرا گون ہاؤسنگ اسکینڈل کی تحقیقات کے سلسلے میں نیب حکام کے سامنے پیش ہوچکے ہیں۔

دونوں بھائیوں نے نیب کی جانب سے ممکنہ گرفتاری کے پیشِ نظر لاہور ہائیکورٹ سے عبوری ضمانت لے رکھی تھی۔

اس موقع پر خواجہ سعد رفیق نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا کہ نیب ان کے خلاف ایک بھی ثبوت پیش نہیں کر سکا ہے اور نیب حکام انہیں زبردستی پیراگون ہاوسگت اسکیم کا مالک بنا رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ آئین اور قانون سے کھلواڑ ہو رہا ہے اور نیب ایک غلام کا کردار ادا کر رہا ہے۔

مسلم لیگ (ن) کے رہنماؤں کی گرفتاری کے بعد نیب لاہور نے اپنے اعلامیے میں کہا ہے کہ "خواجہ برادران کو پیراگون سٹی کرپشن کیس میں مبینہ طور پر مالی فوائد حاصل کرنے کے الزام میں گرفتار کیا گیا ہے۔ ایل ڈی اے کے مطابق یہ غیر قانونی ہاوسنگ اسکیم ہے جس سے خواجہ سلمان رفیق اور خواجہ سعد رفیق مالی فوائد لیتے رہے ہیں۔"

حمزہ شہباز کے مطابق ایف آئی اے نے انہیں بتایا ہے کہ چوں کہ ان کے خلاف نیب تحقیقات کر رہا ہے اس لیے وہ بیرونِ ملک نہیں جاسکتے۔ (فائل فوٹو)
حمزہ شہباز کے مطابق ایف آئی اے نے انہیں بتایا ہے کہ چوں کہ ان کے خلاف نیب تحقیقات کر رہا ہے اس لیے وہ بیرونِ ملک نہیں جاسکتے۔ (فائل فوٹو)

پنجاب کے وزیرِ قانون راجہ بشارت نے لاہور میں پنجاب اسمبلی کے اجلاس کے دوران ذرائع ابلاغ کے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ خواجہ برادران کی گرفتاری غیر قانونی نہیں کیوں کہ ان کے خلاف کئی ماہ سے کیس چل رہا تھا۔

ایک سوال کا جواب دیتے ہوئے وزیرِ قانون پنجاب نے کہا کہ حمزہ شہباز کے خلاف بھی تحقیقات ہو رہی ہیں۔ ان کے بھائی سلمان شہباز بیرونِ ملک جا کر واپس نہیں آئے اور تفتیشی اداروں کے ساتھ کوئی تعاون نہیں کیا۔

حمزہ شہباز کو بیرونِ ملک جانے سے روک دیا گیا

واضح رہے کہ وفاقی تحقیقاتی ادارے (ایف آئی اے) نے پنجاب اسمبلی میں اپوزیشن لیڈر حمزہ شہباز کو منگل کی صبح لندن جانے سے روک دیا تھا۔

حمزہ شہباز اپنے بھائی سے ملنے علامہ اقبال انٹرنیشنل ایئرپورٹ لاہور سے براستہ قطر لندن جا رہے تھے۔

حمزہ شہباز کے ترجمان کے مطابق جب وہ بورڈنگ کارڈ حاصل کرنے کے بعد امیگریشن کاؤنٹر پر پہنچے تو انہیں بتایا گیا کہ ان کا نام بلیک لسٹ میں شامل ہے کیونکہ ان کے خلاف نیب میں انکوائری چل رہی ہے۔ لہذا وہ باہر نہیں جا سکتے۔

ایف آئی اے لاہور کے ایک ڈائریکٹر نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا ہے کہ حمزہ شہباز کا پاسپورٹ بھی ضبط کر لیا گیا ہے۔

ایف آئی اے حمزہ شہباز کے خلاف آمدن سے زائد اثاثوں کے کیس کی تحقیقات کر رہی ہے۔

مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگزیب نے اپنے ردِ عمل میں کہا ہے کہ پنجاب اسمبلی میں قائدِ حزبِ اختلاف کو بیرونِ ملک جانے سے روکنا حکومت کی انتقامی کارروائی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG