رسائی کے لنکس

logo-print

'گرفتاری سیاسی ہے، مقدمات کا سامنا کریں گے'


فائل فوٹو

اسلام آباد میں احتساب عدالت نے جعلی اکاؤنٹس کیس میں گرفتار فریال تالپور کو نو روزہ جسمانی ریمانڈ پر نیب کے حوالے کردیا ہے، آصف زرداری کی ہمشیرہ نے گرفتاری کو سیاسی قرار دیا ہے۔

نیب نے اسی کیس میں آصف زرداری کے قریبی ساتھی انور مجید کے بیٹے سمیت کراچی سے مزید تین افراد کو بھی گرفتار کرلیا ہے۔

نیب نے گزشتہ روز سے گرفتار فریال تالپور کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کے رو برو پیش کیا۔

نیب پراسیکیوٹر نے موقف اپنایا کہ ملزمہ زرداری گروپ کی اکاؤنٹ ڈائریکٹر ہیں، ان کے دستخط سے 3 کروڑ روپے کی رقم اویس مظفر کے اکاؤنٹ میں منتقل ہوئی، فریال تالپور نے دیگر ملزمان کے ساتھ مل کر منی لانڈرنگ کی۔

نیب پراسیکوٹر نے مزید کہا کہ فریال تالپور کرپشن میں ملوث رہی ہیں لہذٰا مزید تفتیش کے لیے انھیں نیب کے حوالے کیا جائے۔

نیب پراسیکیوٹر سردار مظفر نے کہا کہ فریال تالپور پبلک آفس ہولڈر رہی ہیں، ابھی بھی ممبر صوبائی اسمبلی ہیں۔

نیب کی طرف سے موقف اپنایا گیا کہ زرداری گروپ کے اکاؤنٹ میں اربوں روپے کی مشکوک ٹرانزیکشنز ہوئیں، زرداری گروپ کا اکاؤنٹ فریال تالپور آپریٹ کرتی ہیں اور اکاونٹ میں جعلی بینک اکاؤنٹس سے رقوم منتقل ہوئیں۔

عدالت نے فریال تالپور کا 9 روزہ جسمانی ریمانڈ منظور کرکے نیب کے حوالے کردیا اور ملزمہ کو 24 جون کو دوبارہ عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا۔

عدالت آمد پر ذرائع ابلاغ سے غیر رسمی گفتگو کرتے ہوئے فریال تالپور نے کہا کہ انھیں اپنی گرفتاری سیاسی لگ رہی ہے۔ فریال تالپور نے کہا کہ وہ سیاسی کارکن ہیں پہلے بھی مقدمات کا سامنا کیا اب بھی کریں گی۔

انھوں نے کہا 'میرے والد، بھائی اور خاوند جیلوں میں رہے ہیں، مشرف کے دور میں بھی برا وقت برداشت کیا ہے۔'

فریال تالپور نے کہا کہ میرے لیے یہ کوئی مسئلہ نہیں ہے میں بے قصور ہوں، اگر مجھ پر صرف ڈیڑھ کروڑ کا الزام لگا ہے تو اربوں، کھربوں کی کرپشن کے دعوے کہاں ہیں۔؟

پروڈکشن آرڈر سے متعلق سوال پر فرتال تالپور نے کہا کہ یہ قانون کا تقاضا ہے۔

ریمانڈ کے بعد فریال تالپور کو احتساب عدالت سے واپس سب جیل منتقل کردیا گیا، زرداری ہائوس کے باہر جیالوں نے نیب کی گاڑی کے سامنے احتجاج بھی کیا۔

دوسری جانب جعلی اکاؤنٹس کیس میں ہی نیب نے اومنی گروپ کے سربراہ انور مجید کے ایک اور بیٹے ذوالقرنین اور رشتہ دار خواجہ سلمان اور اومنی گروپ کے پروجیکٹ ڈائریکٹر عبدالوحید کو گرفتار کرلیا، انور مجید کے تيسرے بیٹے نمر مجید کی گرفتاری کے لیے بھی چھاپے جاری ہیں۔

جعلی اکاؤنٹ، منی لانڈرنگ کیس ہے کیا؟

منی لانڈنگ کیس 2015ء میں پہلی دفعہ اسٹیٹ بینک کی جانب سے اٹھایا گیا، اسٹیٹ بینک کی جانب سے ایف آئی اے کو مشکوک ترسیلات کی رپورٹس بھیجی گئیں۔ جس کے بعد اومنی گروپ کا نام سامنے آیا۔

تحقیقاتی اداروں نے اپنی رپورٹ میں انکشاف کیا تھا کہ تمام اکاؤنٹس 2013ء سے 2015ء کے دوران 6 سے 10 مہینوں کے لیے کھولے گئے جن کے ذریعے منی لانڈرنگ کی گئی اور دستیاب دستاویزات کے مطابق منی لانڈرنگ کی رقم 35ارب روپے ہے۔

ستمبر میں سپریم کورٹ نے میگا منی لانڈرنگ کی تحقیقات کے لیے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم تشکیل دی جو اپنی رپورٹ سپریم کورٹ میں پیش کرچکی ہے۔

رپورٹ کے مطابق ٹیم نے 885 افراد کو سمن جاری کیا جس کے بعد 767 افراد اس کے روبرو پیش ہوئے، جے آئی ٹی نے 924 افراد کے 11500 اکاؤنٹس کی جانچ پڑتال کی جن کا کیس سے گہرا تعلق ہے، ان 172 افراد کو بھی جے آئی ٹی رپورٹ میں نامزد کیا گیا ہے۔

اس کیس میں آصف زرداری اور فریال تالپورسمیت دیگر با اثر شخصیات اور بعض بینکوں کے سربراہان کے نام سامنے آئے، اومنی گروپ کے مالک انور مجید سمیت آصف زرداری کے متعدد قریبی ساتھی بھی گرفتار ہوچکے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG