رسائی کے لنکس

logo-print

نیب تفتیشی افسر کامران فیصل کی لاش پوسٹ مارٹم کے بعد ورثا کے حوالے


پولیس کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی کامران فیصل کی وجہ موت معلوم ہوسکے گی۔

سپریم کورٹ آف پاکستان میں زیر سماعت رینٹل پاور کیس کی تفتیش کرنےوالے نیب کے افسر کامران فیصل کی لاش کا پوسٹ مارٹم مکمل کر لیا گیا۔ کامران فیصل کی لاش کی فرانزک ٹیسٹ رپورٹ ملنے کے ایک ہفتےبعد پوسٹ مارٹم رپورٹ تیار کی جائے گی۔

کامران فیصل کی لاش کا پوسٹ مارٹم کرنے لیے اسلام آباد کے پولی کلینک اسپتال میں ڈاکٹر عنایت اللہ بیگ کی سربراہی میں 6 ڈاکٹرز پر مشتمل میڈیکل بورڈ تشکیل دیا گیا تھا۔ تاہم پوسٹ مارٹم مکمل ہونے کے بعد لاش ورثا کے حوالے کردی گئی ۔جس کے بعد لاش کو ان کے آبائی علاقے میاں چنوں منتقل کردیا گیا۔

پوسٹ مارٹم سے قبل کامران کے والد نے میڈیا کو بیان میں کہا کہ " میرے بیٹے نے خودکشی نہیں کی ہے بلکہ اسے قتل کیا گیا ہے، چیف جسٹس پاکستان سے اپیل ہے کہ میرے بیٹے کے قتل کا ازخود نوٹس لیں"۔

رینٹل پاور کیس پر مامور نیب کے تفتیشی افسر کامران فیصل کے ماموں نے صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ" کامران فیصل خودکشی نہیں کرسکتا،تاہم کامران نے اہلخانہ کو دھمکیوں کے بارے میں آگاہ کیا تھا کہ اس کو دھمکیاں موصول ہورہی ہیں"۔

نیب ک ڈپٹی ڈائریکٹر رضا وردک نے میڈیا کو بیان دیتے ہوئے کہا ہے کہ" کامران فیصل کبھی خودکشی نہیں کرسکتا وہ میرا بہترین دوست تھا۔ کامران فیصل کس چیز کا ذہنی دباو تھا یہ معلوم نہیں جبکہ اس کو موصول ہونیوالی دھمکیوں کا بھی کوئی علم نہیں ہے"۔

رینٹل پاور کیس کی تفتیش کرنےوالے نیب کے افسر کامران فیصل جمعے کے روز اسلام آباد کی سرکاری رہائشگاہ میں مردہ حالت میں پائے گئے تھے۔ پولیس نے واقعے کیخلاف کاروائی کرتے ہوئے لاش کو پوسٹ مارٹم کیلئے اسپتال منتقل کرودایا تھا۔ پولیس ذرائع کے مطابق پوسٹ مارٹم رپورٹ آنے کے بعد ہی حقیقت کا ادراک ہوسکے گا۔

بتایا جاتا ہے کہ رینٹل پاور، کرائے کی بجلی کے معاہدوں کے کیس کی تفتیش کے دوران کامران فیصل کو دھمکیاں بھی موصول ہورہی تھیں جس کے باعث ان پر ذہنی دباو تھا۔

XS
SM
MD
LG