رسائی کے لنکس

logo-print

شریف خاندان کے خلاف نیب ریفرنسز کی سماعت تین جنوری تک ملتوی


فائل فوٹو

منگل کو ہونے والی سماعت کے دوران ہِل میٹل سے مریم نواز کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی رقوم کا ریکارڈ جب کہ قطری شہزادے کی جانب سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کو لکھے جانے والے خطوط کی کاپیاں بھی عدالت میں پیش کردی گئیں۔

پاکستان کے سابق وزیرِ اعظم نوازشریف اور ان کے اہلِ خانہ کے خلاف قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے دائر تین ریفرنسز کی سماعت آئندہ سال تین جنوری تک ملتوی کردی گئی ہے۔

احتساب عدالت نے سابق وزیرِ اعظم نوازشریف کی کریڈٹ انٹریز کا اصل ریکارڈ طلب کرلیا ہے۔

منگل کو ہونے والی سماعت کے دوران ہِل میٹل سے مریم نواز کے اکاؤنٹ میں منتقل کی گئی رقوم کا ریکارڈ جب کہ قطری شہزادے کی جانب سے مشترکہ تحقیقاتی ٹیم کے سربراہ کو لکھے جانے والے خطوط کی کاپیاں بھی عدالت میں پیش کردی گئیں۔

عدالت نے آئندہ سماعت پر استغاثہ کے دو گواہوں کے طلبی کے سمن جاری کردیے ہیں۔

منگل کو ہونے والی سماعت پر نواز شریف اپنی صاحبزادی مریم نواز اور داماد کیپٹن (ر) صفدر حسین کے ہمراہ احتساب عدالت میں پیش ہوئے۔ نوازشریف کی احتساب عدالت میں یہ دسویں پیشی تھی جب کہ ان کے خلاف دائر فلیگ شپ انویسٹمنٹ اور ایون فیلڈ پراپرٹیز ریفرنسز کی اب تک 16 سماعتیں ہوچکی ہیں۔

احتساب عدالت کے جج محمد بشیر نے کیس کی سماعت کی۔ العزیزیہ ریفرنس میں نجی بینک کے لاہور میں آپریشنل مینیجر یاسر شبیر نے بیان قلم بند کرایا جب کہ شریف خاندان کے وکیل خواجہ حارث نے ان پر جرح کی۔

گواہ نے نوازشریف اور مریم نواز کے اکاؤنٹس کی تفصیلات عدالت میں پیش کیں جب کہ عدالت میں نوازشریف کی 12 فروری 2010ء سے 30 جون 2017ء تک کی بینک اسٹیٹمنٹ بھی پیش کی گئی۔

گواہ نے اپنے بیان میں کہا کہ مریم نواز اور نواز شریف کے اکاؤنٹس میں بے ضابطگی یا غیر قانونی عمل نہیں دیکھا گیا۔ باہر سے آنے والے پیسے پر بینک نے کبھی اسٹیٹ بینک کو شکایت نہیں کی۔ نوازشریف کے چیک اور واؤچرز موجود ہیں۔

عدالت نے نوازشریف کے کریڈٹ انٹریز کا اصل ریکارڈ طلب کرلیا۔ العزیزیہ ریفرنس میں اب تک آٹھ گواہان اپنے بیانات قلم بند کراچکے ہیں۔

فلیگ شپ ریفرنس میں وزارتِ خارجہ کے ڈائریکٹر آفاق احمد نے بیان ریکارڈ کرایا اور قطری شہزادے کی جانب سے جوائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم (جے آئی ٹی) کے سربراہ واجد ضیا کو تحریر سر بمہر خط کی تفصیلات پیش کیں۔

انہوں نے بتایا کہ 28 مئی 2017ء کو قطری شہزادے کے سیکرٹری دوحا میں قائم پاکستان کے سفارت خانے آئے اور قطری شہزادے کی جانب سے واجد ضیا کو لکھا گیا خط سفارت خانے کے حوالے کیا گیا۔ یہ خط سفارت خانے نے 30 مئی کو واجد ضیا کو بھجوایا۔

آفاق احمد نے بتایا کہ 31 مئی کو جے آئی ٹی نے سیکرٹری خارجہ کو خط لکھا اور مجھے طلب کیا جس پر وہ سیکرٹری خارجہ کی ہدایت پر یکم جون کو جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہوئے۔

ایون فیلڈ پراپرٹی ریفرنس میں نیب کے اسسٹنٹ ڈائریکٹر شکیل انجم نے اپنا بیان قلم بند کرایا جس پر وکیلِ صفائی نے جرح مکمل کی۔

شریف خاندان کے وکیل کے استفسار پر گواہ نے بتایا کہ سپریم کورٹ کو آگاہ نہیں کیا کہ دستاویزات بطورِ ثبوت عدالت میں پیش کرنی ہیں۔ تصدیق شدہ دستاویزات پر مہریں دیکھی تھیں، کسی بھی دستاویزات پر تصدیق کنندہ کا نام اور تاریخ موجود نہیں۔ کسی دستاویزات پر نہیں لکھا کہ کب دستاویزات کے حصول کے لیے اپلائی کیا۔ یہ بھی نہیں لکھا کہ کب سپریم کورٹ سے وصول کیں۔

بعد ازاں عدالت نے تینوں نیب ریفرنسز کی سماعت آئندہ سال تین جنوری تک ملتوی کردی۔ آئندہ سماعت پر استغاثہ کے دو گواہ بیان ریکارڈ کرائیں گے۔

دورانِ سماعت کمرۂ عدالت میں اس وقت دلچسب صورتِ حال پیدا ہوئی جب بجلی کی لوڈشیڈنگ ہوئی اور مریم نواز نے عدالت میں موجود لیگی رہنماؤں میں خشک میوے تقسیم کیے۔

دورانِ سماعت مریم نواز کمرۂ عدالت میں ٹوئٹر استعمال کرتی رہیں جبکہ سابق وزیرِ اعظم نوازشریف نوٹس لیتے رہے ۔ کپیٹن (ر) صفدر کمرۂ عدالت میں تسبیح پڑھتے رہے۔ وزیرِ مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے ایم ڈی بیت المال کی ٹائی ٹھیک کی۔

سپریم کورٹ کے پاناما پیپرز کیس کے حتمی فیصلے میں دی گئی ہدایات کی روشنی میں قومی احتساب بیورو (نیب) کی جانب سے نواز شریف اور ان کے صاحبزادوں حسن نواز اور حسین نواز کے خلاف تین ریفرنسز دائر کیے گئے ہیں جبکہ مریم نواز اور کیپٹن ریٹائرڈ صفدر کا نام ایون فیلڈ ایونیو میں موجود فلیٹس سے متعلق ریفرنس میں شامل ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG