رسائی کے لنکس

پاناما پیپرز میں آنے والے ناموں کی تحقیقات کا فیصلہ


فائل فوٹو

پاناما لیکس کے انکشافات میں سامنے آنے والے ناموں میں سینیٹر عثمان سیف اللہ، بشیر داؤد اور مریم داؤد کے خلاف بھی تحقیقات شروع کی جائیں گے۔

قومی احتساب بیورو نے آف شور کمپنیاں رکھنے والی شخصیات کے خلاف تحقیقات کا فیصلہ کیا ہے جب کہ سابق وزیراعظم نواز شریف اور ان کے خاندان کے خلاف بھی نئی تحقیقات شرع کرنے کا بتایا جا رہا ہے۔

اطلاعات کے مطابق تحقیقات میں پنجاب کے وزیر اعلیٰ شہباز شریف، سابق وفاقی وزیرخزانہ اسحٰق ڈار اور متعدد سیاسی راہنماؤں کو بھی شامل کیا جائے گا۔

نیب وزیراعلیٰ خیبرپختونخواہ پرویز خٹک اور بعض دیگر سرکاری عہدیداروں کے خلاف غیر قانونی طریقے سے مالم جبہ میں وسیع رقبہ اراضی ایک غیر ملکی کمپنی کو فراہم کرنے کے الزام کی تحقیقات بھی کرے گی۔

مزید برآں پاکستان تحریک انصاف کے ایک راہنما اور عمران خان کے قریبی ساتھی ذوالفقار بخاری کے نام پر 15 آف شور کمپنیاں بتائی جاتی ہیں جن کی تحقیقات شروع کی جا سکتی ہے۔

پاناما لیکس کے انکشافات میں سامنے آنے والے ناموں میں سینیٹر عثمان سیف اللہ، بشیر داؤد اور مریم داؤد کے خلاف بھی تحقیقات شروع کی جائیں گے۔

دریں اثناء نیب نے اسلام آباد کے ترقیاتی ادارے (سی ڈی اے) کے سابق چیئرمین امتیاز عنایت الہی اور ادارے کے سابق رکن فنانس سعید الرحمٰن کو گرفتار کیا ہے۔ ان پر اختیارات کے ناجائز استعمال کا الزام ہے۔

نیب کے مطابق ان دونوں افراد نے شکرپڑیاں کلچرل کمپلیکس کی تعمیر کے دوران اپنے اختیارات کا مبینہ ناجائز استعمال کرتے ہوئے قومی خزانے کو کروڑوں کا نقصان پہنچایا۔

دونوں ملزمان کو احتساب عدالت میں پیش کیا گیا جس نے انھیں سات روزہ ریمانڈ پر نیب کے حوالے کر دیا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG