رسائی کے لنکس

logo-print

’پروڈکشن آرڈر پر میڈیا انٹرویو نہیں دیا جا سکتا‘


آصف زرداری قومی اسمبلی کے اجلاس میں تقریر کر رہے ہیں۔

گزشتہ روز شریک چیئرمین پاکستان پیپلز پارٹی اور سابق صدر آصف زرداری کا جیو نیوز کے میزبان حامد میر کو دیا گیا انٹرویو چند منٹوں بعد ہی روک دیا گیا۔ جس پر جہاں ایک طرف میڈیا پر پابندیوں سے متعلق بحث شروع ہو گئی۔ وہاں یہ سوال بھی اٹھتا کہ نیب کی حراست میں ہونے کی وجہ سے کیا آصف علی زرداری انٹرویو دے سکتے ہیں۔

ذرائع کے مطابق سابق صدر کا یہ انٹرویو پارلیمنٹ ہاؤس میں بلاول بھٹو زرداری کے کمرے میں ہفتے کے دن ریکارڈ کیا گیا۔

اس بارے میں سابق نیب پراسیکیوٹر راجہ عامر عباس کا کہنا ہے کہ اس معاملے کو تکنیکی طور پر دیکھنا ہو گا۔ چونکہ پروڈکشن آرڈرز اسپیکر قومی اسمبلی کی طرف سے قومی اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے جاری کئے گئے۔ لہذا آصف زرداری پابند تھے کہ وہ صرف قومی اسمبلی کےاجلاس میں شرکت کرتے۔ وہ بنیادی حق کو استعمال کرتے ہوئے صحافیوں سے کچھ بات چیت تو کر سکتے تھے۔ لیکن کسی خاص صحافی کو ایک گھنٹے کا خصوصی انٹرویو نہیں دے سکتے۔ قانون اس کی اجازت نہیں دیتا اور خاص طور پر ایسے میں کہ جب ابھی تفتیش مکمل نہیں ہوئی۔

اس سوال کے جواب میں کہ اگر کوئی ملزم ان پابندیوں کو بالائے طاق رکھتے ہوئے انٹرویو دیتا ہے تو کیا اس انٹرویو کو نشر کیا جا سکتا ہے؟ راجہ عامر عباس کا کہنا تھا کہ اگر کوئی صحافی الطاف حسین کا انٹرویو ریکارڈ کر لیتا ہے تو پاکستان کا ہر نشریاتی ادارہ پابند ہے کہ وہ اسے نشر نہ کرے۔ اسی طرح سابق صدر آصف علی زرداری کا انٹرویو بھی نشر نہیں کیا جانا چاہیئے تھا۔

دوسری جانب اسمبلی قواعد کے مطابق جب کوئی شخص پروڈکشن آرڈر پر پارلیمنٹ ہاؤس آتا ہے تو اس کے بعد وہ ایک ممبر پارلیمنٹ ہے، جو پارلیمان کی حدود میں آزاد شہری شمار ہوتا ہے، اس پر نیب قوانین یا کسی اور قانون نافذ کرنے والے ادارے کے احکامات کا اطلاق نہیں ہوتا۔

یاد رہے کہ وزیراعظم بجٹ سیشن اجلاس میں کہہ چکے ہیں کہ منی لانڈرنگ اور کرپشن کے الزام میں گرفتار افراد کے پروڈکشن آرڈر جاری نہیں ہونے چاہئیں اور انہیں پارلیمنٹ میں آ کر بات کرنے کا بھی موقع نہیں ملنا چاہیے۔

اس کے علاوہ منگل کے روز کابینہ اجلاس میں وزیراعظم نے اراکین پارلیمنٹ کے پروڈکشن آرڈر سے متعلق قوانین میں ترمیم کی ہدایت کی۔ وزارت قانون کو یہ معاملہ سپرد کرتے ہوئے وزیراعظم عمران خان نے مزید کہا کہ کرپشن اور منی لانڈرنگ میں ملوث قیدیوں کو جیل میں سیاسی قیدی کا درجہ نہیں ملنا چاہیے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG