رسائی کے لنکس

سری لنکا کو منانا بہت مشکل تھا: نجم سیٹھی


پی سی بی کے چیئر میں نجم سیٹھی میڈیا کو تفصیلات بتاتے ہوئے۔

انہوں نے کہا کہ ابھی بھی سری لنکا کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز اور بورڈ کے چند آفیشلز دورہ پاکستان کی مخالفت کر رہے ہیں۔

پاکستان کرکٹ بورڈ کے چیئرمین نجم سیٹھی نے نوید دی ہے کہ رواں سال ستمبر کے دوسرے ہفتے میں ورلڈ الیون، اکتوبر کے آخر میں سری لنکن کرکٹ ٹیم اور نومبر میں ویسٹ انڈیز کی کرکٹ ٹیم پاکستان آئیں گی۔

چیرمین پی سی بی کے مطابق پاکستان سپر لیگ اور انٹرنیشنل کرکٹ کو پاکستان لانا ان کے اہداف میں شامل ہے۔

لاہور میں قذافی سٹیڈیم میں پیر کو ایک پریس کانفرنس کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دورہ پاکستان کے لیے سری لنکا کی ٹیم کو منانا بہت مشکل تھا، لیکن سری لنکن بورڈ نے دلیری کے ساتھ فیصلہ کیا اور پاکستان آنے کی حامی بھر لی۔ جس کے لیے وہ جلد اپنی حکومت سے بات کریگی۔

انہوں نے کہا کہ ابھی بھی سری لنکا کے سابق ٹیسٹ کرکٹرز اور بورڈ کے چند آفیشلز دورہ پاکستان کی مخالفت کر رہے ہیں۔

نجم سیٹھی نے کہا کہ رواں سال نومبر میں ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان کا دورہ کرے گی جس کے لیے اچھے انتظامات کیے جائیں گے۔

انہوں نے کہا کہ دونوں ٹیموں کی پاکستان میں آمد ورلڈ الیون کی آمد سے مشروط ہے۔

نجم سیٹھی کے مطابق پاکستان میں انٹرنیشنل کرکٹ کی بحالی کے لیے مثبت جواب مل رہے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ ورلڈ الیون میں کون کون سے کھلاڑی شامل ہونگے، یہ ایک پہیلی ہے جس کا جواب آئندہ تین روز میں دے دیا جائے گا۔

نجم سیٹھی کا کہنا تھا کہ غیر ملکی کرکٹ ٹیمیں لاہور کے حفاظتی انتظامات پر مطمئن دکھائی دیتی ہیں۔ ورلڈ الیون اپنے تین میچز پاکستان میں کھیلے گی۔ جس کے لیے حفاظتی امور کے علاوہ تمام اخراجات پی سی بی کرے گا۔

"غير ملکي ٹيميں لاہور سے باہر کھيلنے کے ليے تيار نہيں، لیکن بورڈ کوشش کر رہا ہے کہ انہیں کراچی میں بھی کھیلنے پر راضی کیا جائے۔"

نجم سیٹھی نے بتایا کہ انٹرنیشنل کرکٹ کونسل کا سیکورٹی وفد رواں ہفتے جبکہ ویسٹ انڈیز کا سیکورٹی وفد ستمبر کے آخری ہفتے میں پاکستان کا دورہ کرے گا اور ویسٹ انڈیز کی ٹیم پاکستان میں تین ٹی ٹوینٹی میچز کھیلے گی۔

چیئرمین پی سی بی نے بتایا کہ حفاظتی انتظامات کر بہتر سے بہتر بنانے کے لیے ان کی پنجاب حکومت اور وفاقی حکومت سے بات ہو گئی ہے جو انتظامات میں بھرپور تعاون کرے گی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG