رسائی کے لنکس

logo-print

’نمرتا گھر کی رونق تھی، ہم نے اسے رانیوں کی طرح پالا‘


'ہماری تو نمرتا چلی گئی، خدارا باقی بچیوں کے ساتھ ایسا نہ کریں'
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:07 0:00

'ہماری تو نمرتا چلی گئی، خدارا باقی بچیوں کے ساتھ ایسا نہ کریں'

'ہماری بیٹی تو چلی گئی، بس اب ہم یہی چاہتے ہیں کہ کسی اور کی بیٹی کے ساتھ ایسا نہ ہو۔ جن لوگوں نے بھی ایسا کیا ہے، انہیں یہی کہوں گا کہ بچیوں کو پڑھنے دو، آزاد رہنے دو۔‘

یہ کہنا ہے نمرتا کے والد جے پال کا جو اپنی بیٹی کی آخری رسومات کی ادائیگی کے بعد غم سے نڈھال ہیں۔

ضلع گھوٹکی کے علاقے میر پور ماتھیلو میں دیوان برادری کے چندانی خاندان کا یہ آبائی گھر ہے۔ جہاں شہر بھر سے تعزیت کے لیے آنے والوں کا سلسلہ جاری ہے۔

نمرتا کی عمر 22 سال تھی اور وہ دو بھائیوں کی اکلوتی بہن تھی۔ نمرتا آصفہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج میں فائنل ایئر کی طالبہ تھی۔

چند ہفتوں بعد نمرتا کی ہاؤس جاب شروع ہونے والی تھی۔ لیکن ان کے اہلِ خانہ کو یہ اطلاع ملی کہ ان کی بیٹی نے ہاسٹل کے کمرے میں خودکشی کر لی ہے۔

نمرتا کی والدہ راج کماری نے ’وائس آف امریکہ‘ سے گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ بیٹی کی آخری رسومات کی ادائیگی کے وقت انہوں نے اپنی بیٹی کے جسم پر نشانات دیکھے ہیں۔ ان کے بقول نمرتا کے ہاتھوں اور پیروں پر کالے سیاہ نشانات تھے۔

نمرتا کی والدہ نے کہا کہ میری بیٹی کو باندھا گیا تھا اور اسے بہت تکلیف دی گئی۔ جس نے بھی ہماری بیٹی کے ساتھ یہ ظلم کیا ہے، خدا اس کے ساتھ انصاف ضرور کرے گا۔

ضلع گھوٹکی کے علاقے میر پور ماتھیلو میں چندانی خاندان کے آبائی گھر میں تعزیت کے لیے آنے والوں کا سلسلہ جاری ہے۔
ضلع گھوٹکی کے علاقے میر پور ماتھیلو میں چندانی خاندان کے آبائی گھر میں تعزیت کے لیے آنے والوں کا سلسلہ جاری ہے۔

نمرتا کی والدین سے آخری گفتگو

نمرتا کی والدہ نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ واقعے سے ایک روز قبل ان کی اپنی بیٹی سے فون پر بات ہوئی تھی۔ جس میں نمرتا نے کالج میں ہونے والی ایک پارٹی کے لیے خاص لباس منگوایا تھا اور کہا تھا کہ اسے وہ ڈریس فوری چاہیے لہٰذا وہ اسے جلد از جلد کوریئر کر دیا جائے۔

راج کماری نے بتایا کہ اپنے والد سے بات کرتے ہوئے نمرتا بہت خوش تھی۔ اس نے بتایا کہ میرا وائیوا (زبانی امتحان) بہت اچھا ہوا ہے اور میں اس بار ٹاپ ٹین طلباء کی فہرست میں شامل ہوں گی۔

راج کماری کا مزید کہنا تھا کہ نمرتا نے انہیں کہا کہ بہت جلد میری پڑھائی مکمل ہو جائے گی اور پھر میں آپ سب کے ساتھ ہوں گی۔ نمرتا کی والدہ کے بقول ان کی بیٹی کا کہنا تھا کہ وہ گوبھی چاول کھانے کو ترس گئی ہے اور اس نے اپنی آمد پر یہ کھانا بنانے کی فرمائش کی۔

راج کماری نے بتایا کہ نمرتا اپنے مستقبل اور اپنے ارادوں سے متعلق والدین کو آگاہ رکھتی تھی۔

نمرتا کو یاد کرتے ہوئے ان کی والدہ کا کہنا تھا کہ نمرتا نے گھر والوں کو کہا ہوا تھا کہ اگر کراچی میں اسے اچھی تنخواہ ملی تو وہ وہاں ہاؤس جاب کرے گی ورنہ وہ لاڑکانہ میں ہی ہاؤس جاب کر لے گی۔ جس پر نمرتا کے بھائی نے کہا کہ وہ فکرمند نہ ہو۔ کراچی میں ہی انتظام ہو جائے گا۔

واضح رہے کہ نمرتا کے والد جے پال کا خاندان پچھلے آٹھ برسوں سے کراچی میں مقیم ہے جب کہ وہ خود ریئل اسٹیٹ کا کاروبار کرتے ہیں۔

نمرتا کے اہلِ خانہ اس کی مبینہ خودکشی کے واقعے کو قتل قرار دیتے ہیں اور تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔
نمرتا کے اہلِ خانہ اس کی مبینہ خودکشی کے واقعے کو قتل قرار دیتے ہیں اور تحقیقات کا مطالبہ کر رہے ہیں۔

یہ خودکشی ہے یا قتل؟

واقعے کے فوراً بعد نمرتا کے بھائی ڈاکٹر وشال، جو ڈاؤ یونیورسٹی کراچی میں اسسٹنٹ پروفیسر کی حیثیت سے ذمّہ داریاں نبھا رہے ہیں، نے اس واقعے کو قتل قرار دیا۔

ڈاکٹر وشال کا کہنا تھا کہ انہوں نے نمرتا کے جسم پر جو نشانات دیکھے ہیں وہ ثابت کرتے ہیں کہ نمرتا کو مارا گیا ہے۔

نمرتا کو مبینہ طور پر زیادتی کے بعد قتل کیے جانے سے متعلق سوال پر نمرتا کے والد جے پال نے زور دیتے ہوئے کہا کہ ان کی بیٹی قتل کی گئی ہے۔ اس واقعے کو خودکشی کا رنگ دینے کے لیے یونیورسٹی کی انتظامیہ نے بہت کچھ ایسا کیا ہے جو شکوک و شبہات کو جنم دیتا ہے۔

’نمرتا کسی دباؤ یا پریشانی کا شکار تھی‘

نمرتا کے والد جے پال کا کہنا ہے کہ ان کی بیٹی نے اپنی یونیورسٹی میں پڑھائی کے چار برسوں میں کبھی بھی کسی پریشانی کا ذکر نہیں کیا اور نہ ہی اس واقعے سے قبل ہونے والی فون کال میں ایسا کچھ کہا تھا۔

نمرتا کی والدہ نے کہا کہ میری بیٹی میری دوست تھی۔ وہ ہر بات مجھ سے کہا کرتی تھی۔ میں تو اس کے بغیر ایک قدم بھی نہیں اٹھا سکتی تھی۔ میں اس سے ہر چھوٹی بات پر بھی مشورہ لیتی تھی۔

اپنی بیٹی کو یاد کرتے ہوئے راج کماری کا کہنا تھا کہ نمرتا ہمارے گھر کی رونق تھی۔ ہم نے اسے رانیوں کی طرح پالا اور کبھی اسے زمین پر بھی بیٹھنے نہیں دیا۔ جو نمرتا نے چاہا یا مانگا، ہم نے اور اس کے بھائیوں اس کی خواہش کو فوراً پورا کیا۔

راج کماری کے بقول ہمیں کبھی کوئی مالی مسئلہ نہیں رہا اور نہ ہی ہمارے گھر میں کوئی پریشانی رہی۔ نمرتا کے بارے میں مزید بتاتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میری بیٹی بہت ہمت والی، ہنس مکھ اور زندہ دل تھی۔ اسے کبھی کوئی پریشانی نہیں رہی۔

راج کماری کے مطابق اگر نمرتا کو کوئی پریشانی ہوتی تو وہ انہیں لازمی بتاتی۔نمرتا کی دوستیں بھی اس واقعے پر حیران و پریشان ہیں۔

نمرتا کی والدہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی سے ہر چیز سے متعلق مشورہ کرتی تھیں۔
نمرتا کی والدہ کا کہنا ہے کہ وہ اپنی بیٹی سے ہر چیز سے متعلق مشورہ کرتی تھیں۔

گھوٹکی مندر واقعہ اور نمرتا کی موت کے بعد حالات

نمرتا کے والد جے پال نے بتایا کہ گھوٹکی میں ہندو برادری کے سات سے آٹھ سو خاندان آباد ہیں جب کہ یہاں اکثریت مسلمانوں کی ہے۔

جے پال کے مطابق گزشتہ چار دنوں میں ہزاروں لوگ ہم سے تعزیت کرنے آئے ہیں۔ مسلمانوں نے نہ صرف غم اور دکھ کی اس گھڑی میں ہمارا ساتھ دیا بلکہ وہ اب بھی ہمارے ساتھ کھڑے ہیں۔

جے پال کہتے ہیں کہ ہماری بیٹی چلی گئی۔ اولاد کے غم میں ماں باپ بھی مر جاتے ہیں۔ خدارا سب سے گزارش ہے کہ بچیوں کو پڑھنے دیں۔

نمرتا کے والد کے بقول اس واقعے سے والدین فکرمند ہیں کہ ان کی بیٹیاں جو باہر پڑھنے نکلی ہیں، ان کی جان اور مستقبل کیسے محفوظ ہو گا۔

نمرتا قتل جیسے واقعات پہلے بھی ہو چکے ہیں

ایک مقامی سماجی رہنما ایڈووکیٹ جام عبدالفتح سمیجو کو دیوان برادری نے یونیورسٹی انتظامیہ سے بات چیت کے لیے اپنا نمائندہ مقرر کیا ہوا ہے۔ وہ اس واقعے کو یونیورسٹی انتظامیہ کی نا اہلی قرار دیتے ہیں۔

جام عبدالفتح نے یونیورسٹی کی جانب سے واقعے کی تحقیقات کے لیے کمیٹی بنانے کی سفارش کو مسترد کیا اور کہا اس کی غیر جانب دارانہ تحقیقات ہونی چاہیئں۔

ماضی کا حوالہ دیتے ہوئے جام عبدالفتح نے بتایا کہ اس سے قبل نواب شاہ میں بھی اسی قسم کا واقعہ ہو چکا ہے۔ نائلہ رند کے واقعے میں بھی یونیورسٹی ملوث تھی اور اب یہ واقعہ منظر عام پر آیا ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے واقعے کی اطلاع تاخیر سے دی۔

یونیورسٹی کی جانب سے مؤقف اپنایا گیا کہ لڑکی نے خودکشی کی ہے تو پھر پولیس کو بلایا جاتا۔ لیکن انتظامیہ اسے اسپتال لے گئی۔

جام عبدالفتح کے بقول پولیس کو دو گھنٹے بعد اطلاع دی گئی۔ جب علاقے کے ایس ایچ او موقع پر پہنچے تو لاش ایمرجنسی وارڈ میں موجود تھی۔

انہوں نے کہا کہ نمرتا کے گھر والے اطلاع ملنے پر جب کراچی سے پہنچے تو انہیں نمرتا کی لاش دیکھنے کی اجازت نہیں دی گئی۔

’وائس آف امریکہ‘ سے بات کرتے ہوئے جام عبدالفتح کا کہنا تھا کہ جب بات پوسٹ مارٹم کی آئی تو نمرتا کے بھائی ڈاکٹر وشال نے منع کیا کہ نمرتا کا پوسٹ مارٹم یہاں نہیں کیا جائے گا۔ کیوں کہ ڈاکٹر وشال کو ان پر بھروسہ نہیں تھا۔

ایڈووکیٹ جام عبدالفتح کے بقول کیس خراب ہونے سے بچانے کے لیے بعد ازاں نمرتا کے گھر والوں نے پوسٹ مارٹم کی اجازت دے دی۔

انہوں نے بتایا کہ تمام کارروائی مکمل ہونے کے بعد لاش کو گھر منتقل کرنے کے لیے انہیں ایمبولینس تک فراہم نہیں کی گئی۔

جام عبدالفتح سمیجو اس واقعے کو یونیورسٹی انتظامیہ کی نا اہلی قرار دیتے ہیں۔
جام عبدالفتح سمیجو اس واقعے کو یونیورسٹی انتظامیہ کی نا اہلی قرار دیتے ہیں۔

واقعے کے بعد سے ہندو برادری دباؤ کا شکار

دیوان برادری کے ایک فرد نے اپنا نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر وائس آف امریکہ کو بتایا کہ نمرتا کے واقعے پر ان کا خاندان بھی دباؤ کا شکار ہے۔ جس روز یہ واقعہ ہوا اور جس طرح اس پر بات کی گئی۔ اب یہ خاندان کھل کر اس مسئلے پر بات کرنے سے گھبرا رہا ہے۔

وائس آف امریکہ نے اس بات کی تصدیق کے لئے ڈہرکی کے ایک صحافی رمیش کمار سے بات کی۔ جو اس وقت اس پنچائتی ہال میں موجود تھے جہاں یونیورسٹی کی وائس چانسلر انیلہ عطاالرّحمٰن تعزیت کے لیے پہنچی تھیں۔ ہندو برادری اس واقعے پر خاصی برہم تھی لیکن جب وائس چانسلر نے صحافی کو تھپڑ مارا تو ہندو برادری دباؤ کا شکار ہو گئی۔

رمیش نے وائس چانسلر سے سوال کیا تھا کہ ابھی تحقیقات مکمل نہیں ہوئیں تو آپ کس طرح سے اسے بار بار خودکشی قرار دے رہی ہیں؟ جس پر انہوں نے صحافی کا موبائل فون چھین لیا اور اسے تھپڑ مارا تھا۔

سماجی رہنما جام عبدالفتح کا کہنا ہے کہ وائس چانسلر کی جانب سے اس طرح کا رویّہ اختیار کرنے کا مقصد ہندو برادری کو دباؤ میں لانا تھا کیوں کہ یونیورسٹی انتظامیہ پر سوالات اٹھ رہے تھے۔

جام عبدالفتح کے بقول اس واقعے کی مثال گھوٹکی واقعے جیسی ہے۔ جہاں ایک شخص کی غلطی پر کچھ شرپسندوں نے اس کی سزا تمام ہندوؤں کو دینے کی کوشش کی تھی۔

جے پال کے مطابق گزشتہ چار دنوں میں ہزاروں لوگ ان سے تعزیت کرنے آئے ہیں۔
جے پال کے مطابق گزشتہ چار دنوں میں ہزاروں لوگ ان سے تعزیت کرنے آئے ہیں۔

نمرتا کی موت کے مستقبل پر اثرات

رکنِ سندھ اسمبلی نصرت سحر عباسی کا کہنا ہے کہ نمرتا سے پہلے نائلہ، تانیہ، رمشا اور کئی دیگر بچیاں ماری گئیں۔ یہ معلوم کرنا ہو گا کہ وہ کونسی سوچ ہے جو ان لڑکیوں کو آگے بڑھنے سے روک رہی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اکثر بچیاں مڈل تک پڑھنے کے بعد آگے نہیں پڑھ پاتیں۔جو لڑکیاں آگے بڑھتی ہیں اور ان کے ساتھ اس قسم کے واقعات ہوں تو پھر کون اپنی بچیوں کو گاؤں اور دیہاتوں سے نکال کر پڑھنے کے لیے بھیجے گا؟ کون اپنی بچیوں کو ڈاکٹر، انجینئر یا پائلٹ بنائے گا؟

نصرت سحر عباسی کا مزید کہنا تھا کہ سب سے بڑی ذمّہ داری تو اداروں کے بڑوں کی ہے اور پھر ریاست کی بھی ذمّہ داری ہے۔ یونیورسٹی کی وی سی بھی ایک خاتون ہی ہیں۔ لیکن ان کا رویّہ اور فکر صرف اپنی کرسی بچانے کے لیے ہے۔

رکنِ سندھ اسمبلی نے کہا کہ نمرتا کا قتل ہم سب کے لیے ایک ٹیسٹ کیس ہے اور ہم اس پر اسمبلی میں بھی بات کرتے رہیں گے۔

نصرت عباسی کا کہنا تھا کہ ہندو برادری ویسے ہی احساس کمتری کا شکار ہے اور ایسے واقعات اور رویّے انہیں مزید اس احساس سے دوچار کریں گے۔ انہوں نے کہا کہ ریاست کا کردار بہت کمزور ہے۔

’وائس آف امریکہ‘ نے آصفہ میڈیکل اینڈ ڈینٹل کالج، لاڑکانہ کی وائس چانسلر سے رابطے کی بارہا کوششیں کیں لیکن ان سے رابطہ نہیں ہو سکا۔

ماضی میں ہونے والے دیگر واقعات اور نمرتا کی پراسرار موت نے سندھ کے دوسرے علاقوں میں پڑھنے والی لڑکیوں کی زندگیوں اور مستقبل سے متعلق کئی ایسے سولات کو جنم دیا ہے جن کے جوابات جاننے کے لیے بچیوں کے والدین بے چین دکھائی دے رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG