رسائی کے لنکس

logo-print

نقیب اللہ محسود کا قریبی دوست قتل


آفتاب محسود (فائل فوٹو)

ایک مبینہ جعلی پولیس مقابلے میں گزشتہ ماہ ہلاک ہونے والے قبائلی نوجوان نقیب اللہ محسود کے قریبی دوست اور پشتون لانگ مارچ کے متحرک کارکن آفتاب محسود کی لاش ڈیرہ اسماعیل خان سے برآمد ہوئی ہے۔

آفتاب کو نامعلوم افراد نے قتل کیا اور پوسٹ مارٹم رپورٹ کے مطابق انھیں تین گولیاں ماری گئی تھیں۔

مقامی پولیس کے مطابق واقعے کی تحقیقات شروع کر دی گئی ہیں اور اب تک چار افراد کو حراست میں لے کر ان سے تفتیش کی جا رہی ہے۔

مقتول کے بڑے بھائی ظفراللہ نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ آفتاب شام میں گھر سے نکلا تھا لیکن رات گئے اس سے جب فون پر رابطہ کیا گیا تو فون بند جا رہا تھا۔

"ہم نے سوچا دوستوں کے ساتھ ہو گا لیکن اگلے دن میرے والد کو فون آیا کہ آپ کے بیٹے کی لاش ادھر پڑی ہے۔۔۔وہ طالب علم تھا اس کا نہ تو جھگڑا تھا نہ ہماری کسی سے ذاتی دشمنی ہے۔"

نقیب اللہ محسود کو کراچی میں جس پولیس ٹیم نے دہشت گرد قرار دیتے ہوئے ہلاک کیا تھا اس کے سربراہ ایس ایس پی راؤ انوار مفرور ہیں اور پولیس انھیں ابھی تک گرفتار کرنے میں کامیاب نہیں ہو سکی ہے۔

راؤ انوار کی گرفتاری، پشتون نوجوانوں کے مبینہ ماورائے عدالت قتل اور دیگر ایسے ہی مسائل پر توجہ دلانے کے لیے رواں ماہ کے اوائل میں سیکڑوں قبائلیوں نے اسلام آباد میں نیشنل پریس کلب کے سامنے دس روز تک دھرنا دیا تھا۔

حکومت کی طرف سے مسائل کو جلد حل کروانے کی تحریری یقین دہانی کے بعد یہ دھرنا ختم کر دیا گیا تھا لیکن اس احتجاج کو بین الاقوامی سطح پر توجہ حاصل ہوئی تھی۔

آفتاب محسود کا تعلق جنوبی وزیرستان کے علاقے مکین سے تھا لیکن وہ ایک عرصے سے ڈیرہ اسماعیل خان میں مقیم تھے۔

تاحال ان کی ہلاکت کے محرکات سامنے نہیں آ سکے ہیں اور پولیس کا کہنا ہے کہ مقتول کے موبائل فون سے ملنے والے مواد کے ذریعے بھی تفتیش کا دائرہ بڑھا دیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG