رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان اور بھارت کا دوطرفہ روابط بڑھانے پر اتفاق


بھارتی وزیراعظم کے دورے سے متعلق جمعہ کو اس وقت پاکستان اور بھارت کے ذرائع ابلاغ میں کھلبلی مچ گئی جب وزیراعظم مودی نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ "میں آج دوپہر لاہور میں وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کا منتظر ہوں جہاں میں دہلی واپسی پر رکوں گا۔"

بھارت کے وزیراعظم نریندر مودی نے اپنے پاکستانی ہم منصب نواز شریف سے ملاقات میں دونوں ملکوں کے مابین تعلقات اور روابط کے فروغ پر اتفاق کیا ہے۔

بھارتی وزیراعظم کابل سے نئی دہلی جاتے ہوئے مختصر قیام کے لیے جمعہ کی سہ پہر لاہور پہنچے جہاں وزیراعظم نواز شریف نے ان کا استقبال کیا اور پھر دونوں رہنما ہیلی کاپٹر کے ذریعے لاہور کے نواح میں واقع جاتی امرا میں پاکستانی وزیراعظم کی رہائش گاہ تشریف لے گئے جہاں خوشگوار ماحول میں مختلف امور پر تبادلہ خیال کیا گیا۔

تقریباً ڈیڑھ گھنٹے تک جاری رہنے والی ملاقات کے بعد وزیراعظم مودی لاہور ایئر پورٹ سے بھارت روانہ ہوگئے ہیں۔

پاکستانی سیکرٹری خارجہ اعزاز احمد چودھری نے ذرائع ابلاغ کے نمائندوں کو اس ملاقات کی تفصیلات بتاتے ہوئے کہا کہ یہ خیر سگالی کا دورہ تھا جو کہ بھارتی وزیراعظم کی خواہش پر وقوع پذیر ہوا۔

"یہ طے ہوا کہ دونوں ملکوں کے درمیان روابط کو مزید آگے بڑھایا جائے گا تاکہ باہمی اعتماد سازی کی جا سکے اور دونوں ملکوں کے درمیان عوام کی سطح پر رواط بھی بڑھائے جائیں تاکہ وہ ماحول پیدا کیا جا سکے جس کے نتیجے میں امن کا عمل آگے بڑھ سکے۔"

بھارتی وزیراعظم کے دورے سے متعلق اس وقت پاکستان اور بھارت کے ذرائع ابلاغ میں کھلبلی مچ گئی جب وزیراعظم مودی نے ٹوئٹر پر ایک پیغام میں کہا کہ "میں آج دوپہر لاہور میں وزیراعظم نواز شریف سے ملاقات کا منتظر ہوں جہاں میں دہلی واپسی پر رکوں گا۔"

بھارتی وزیراعظم نے جمعہ کو کابل میں افغان پارلیمنٹ کی اس نئی عمارت کا افتتاح کیا تھا جس کی تعمیر کا منصوبہ بھارت کے تعاون سے 2007ء میں شروع کیا گیا تھا۔

پاکستان کے سابق سیکرٹری خارجہ شمشاد احمد خان نے وائس آف امریکہ سے گفتگو میں کہا کہ یہ دورہ نجی نوعیت کا ہے اور اس سے کسی بھی طرح کا نتیجہ اخذ کرنا قبل از وقت ہوگا۔

بھارت اور پاکستان کے درمیان کسی قسم کے رابطے اور اس قسم کے اعلیٰ سطحی دورے خوش آئند بات ضرور ہیں۔ ان سے ماحول میں بہتری آئے گی اور شاید ماحول میں بہتری سے کچھ راستے کھل جائیں جن میں دونوں ملک مذاکرات کی میز پر بیٹھ کر ایک تعمیری انداز میں اپنے متنازع مسائل کو حل کرنے کی طرف پیش قدمی کریں۔"

تاہم یہ امرقابل ذکر ہے کہ 2004ء کے بعد پہلی مرتبہ کسی بھارتی وزیراعظم نے پاکستان کا دورہ کیا ہے۔

بھارتی وزیرخارجہ سشما سوراج نے ٹوئٹر پر اپنے پیغام میں وزیراعظم مودی کو سراہتے ہوئے کہا کہ "یہ مدبر سیاستدان کا طریقہ ہے، پڑوسیوں سے ایسے ہی رشتے ہونے چاہیئں۔"

دونوں ہمسایہ ایٹمی قوتوں کے تعلقات رواں سال انتہائی کشیدہ اور سرد مہری کا شکار رہے اور اگست میں دونوں ملکوں کے خارجہ سیکرٹری سطح کے مذاکرات بھی طے شدہ وقت سے چند گھنٹے قبل منسوخ کردیے گئے تھے۔

لیکن ان تعلقات میں اچانک بہتری تیس نومبر کو موسمیاتی تغیرات سے متعلق پیرس میں منعقدہ کانفرنس کے موقع پر پاک بھارت وزرائے اعظم کی غیر رسمی مختصر ملاقات کے بعد آنا شروع ہوئی۔

رواں ماہ کے اوائل میں دونوں ملکوں کے قومی سلامتی کے مشیروں نے بنکاک میں ملاقات کی تھی جس کے بعد بھارتی وزیرخارجہ سمشا سوراج نے اسلام آباد میں پاکستانی مشیر خارجہ سرتاج عزیز سے ملاقات کے بعد دونوں ملکوں کے مابین جامع مذاکرات کی بحالی کا اعلان کیا تھا۔

XS
SM
MD
LG