رسائی کے لنکس

logo-print

نریندر مودی کا برطانیہ میں خیر مقدم نہیں کرتے: سیکولر تنظیم


انسانی حقوق کی تنظیم 'آواز نیٹ ورک' اور برطانیہ میں مقیم سکھوں، کشمیریوں، مسلمانوں، عیسائی، دلت برادری کے ارکان 'مودی کو خیر مقدم نہیں کرتے' نامی مہم کے لیے متحد ہوئے ہیں۔

برطانیہ کی ایک انسانی حقوق کی تنظیم کی جانب سے بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کی برطانیہ آمد کے خلاف جمعرات کو بھرہور احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا جس میں ملک بھر سے سماجی اور مذہبی تنظیمیں بھی حصہ لے رہی ہیں۔

انسانی حقوق کی تنظیم 'آواز نیٹ ورک' اور برطانیہ میں مقیم سکھوں، کشمیریوں، مسلمانوں اور عیسائیوں سمیت دلت برادری کے ارکان 'مودی کو خیر مقدم نہیں کرتے' نامی مہم کے لیے متحد ہوئے ہیں۔

نریندر مودی کی برطانیہ آمد کے خلاف مظاہرین کی جانب سے مظاہروں کا ایک سلسلہ منعقد کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے جس کے تحت 12 نومبر کو 10 ڈاؤننگ کے باہر اور 13 نومبر کو ویمبلے اسٹیڈیم کے باہر بڑے پیمانے پر احتجاجی مظاہرہ کیا جائے گا۔

بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کا یہ دورہ ایک ایسے وقت میں ہے جب ان کی سیاسی جماعت بھارتی جنتا پارٹی کو صوبہ بہار کے ریاستی انتخابات میں شکست ہوئی ہے اور ان کی حکومت کو سول سوسائٹی کی جانب سے مذہبی رواداری سے انحراف پر شدید تنقید کا نشانہ بنایا جا رہا ہے۔

مظاہرہ کا انعقاد کرنے والی تنظیم آواز نیٹ ورک کے مطابق احتجاجی مظاہرے میں متنوع ثقافتوں سے تعلق رکھنے والے ہزاروں برطانوی افراد کی شرکت متوقع ہے۔

آواز نیٹ ورک جو خود کو سیکولر تنظیم بتاتی ہے نے کہا ہے کہ ان کی تنظیم نے ایشیا اور برطانیہ میں فرقہ وارانہ سرگرمیوں کے خلاف ہمیشہ ڈٹ کر مقابلہ کیا ہے اور وہ بھارت میں بڑے پیمانے پر اقلیتی گروہوں کے خلاف مودی حکومت اور ان کی جماعت بھارتی جنتا پارٹی کی طرف سے امتیازی سلوک کو برداشت نہیں کرے گی۔

تنظیم کے ساتھ مظاہرین میں انڈین مسلم فیڈریشن، دلت یک جہتی ورک، انڈین ورکرز ایسوسی ایشن، مسلم پارلیمنٹ، آکسفورڈ ایشیا فورم، ساؤتھ ایشیا یک جہتی گروپ، ساؤتھ ہال بلیک سسٹرز، وائس آف دلت انٹرنیشنل خواتین کی تنظیمیں شامل ہیں۔

دریں اثناء تنظیم کی جانب سے نریندر مودی کے دورے کے خلاف احتجاج کا ایک منفرد طریقہ بھی اپنایا گیا اور نو نومبر کو برطانوی پارلیمنٹ کی عمارت پر مودی کی تصویر کے ساتھ بڑے بڑے لفظوں میں 'مودی کا خیر مقدم نہیں کرتے' کے الفاظ لکھ دیے گئے۔

بھارتی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق 2012ء میں نئی دہلی میں ایک بس میں اجتماعی ذیادتی کا شکار بنائی جانے والی میڈیکل کی طالبہ نربھیا کی کہانی 'انڈیاز ڈاٹر' نامی دستاویزی فلم کی ہدایتکارہ لیسلی اڈون کی طرف سے بھی برطانیہ میں مودی کی آمد کے خلاف 12 نومبر کے احتجاجی مظاہرہ کی حمایت کا اعلان کیا گیا ہے، بھارت میں اس فلم کی نمائش پر پابندی عائد ہے.

برطانیہ میں آباد ایک گجراتی کمیونٹی پتی دار کی طرف سے بھی وزیر اعظم نریندر مودی کے دورے کے خلاف حمایت کا اعلان کیا گیا ہے۔

یورپ انڈیا فورم نامی تنظیم کی جانب سے مودی کے استقبال کی مہم چلائی جا رہی ہے اور 13 نومبر کو تنظیم کی جانب سے مودی کے اعزاز میں ویمبلے اسٹیڈیم میں ایک استقبالیہ کی تقریب منعقد کی جائے گی جس میں لگ بھگ60 ہزار افراد کی شرکت متوقع ہے۔

تنظیم کا کہنا ہے کہ یہ تقریب 'دو عظیم قوموں کا شاندار مستقبل' کے نام سے کی جا رہی ہے جس میں معروف بھارتی نژاد برطانوی فنکاروں کی جانب سے ثقافتی شو پیش کیا جائے گا اور دیوالی کی مناسبت سے آتش بازی کا مظاہرہ کیا جائے گا۔

اس موقع کی مناسبت سے ایک خاص نغمہ ہیلو نمستے ترتیب دیا گیا ہے جبکہ تنظیم کی طرف سے ملک بھر میں اس روز 'مودی ایکسپریس' نامی بس سروس چلائی جا رہی ہے۔

XS
SM
MD
LG