رسائی کے لنکس

logo-print

ناسا میں 'کمپیوٹر' کہلانے والی خاتون ریاضی دان کا انتقال


سابق امریکی صدر براک اوباما، ناسا کی ریاضی دان کیتھرین جانسن کو صدراتی تمغہ پہنا رہے ہیں۔ 24 نومبر 2015

آج کے ترقی یافتہ دور میں خلائی سفر کی پیمائش کرنا، راکٹ کی رفتار میں کمی بیشی کو پیش نظر رکھنا، زمین کی گردش کا حساب لگانا کمپیوٹر کی ذمے داریوں میں شامل ہے۔ لیکن کمپیوٹر سے پہلے کے زمانے میں کسی انسان کے لیے درست حساب کرنا آسان کام نہیں تھا۔ امریکی خلائی ادارے ناسا میں خلائی دوڑ کے عہد میں یہ خدمات انجام دینے والی کیتھرین جانسن پیر کو انتقال کر گئیں۔ ان کی عمر 101 سال تھی۔

کیتھرین کا شمار امریکہ کے بہترین ریاضی دانوں میں کیا جاتا تھا۔ انہیں ناسا کے ابتدائی دور میں زمین کے مدار میں راکٹ کے سفر کے لمبے چوڑے حسابات ہاتھ سے کرنے کی وجہ سے ’’کمپیوٹر‘‘ کے نام سے پکارا جاتا تھا۔

کیتھرین اور ان کی ساتھی سیاہ فام خواتین ناسا کے ریاست ورجینیا میں قائم مرکز میں 1958 تک ایسے کمپیوٹنگ یونٹ میں کام کرتی رہیں جو نسلی امتیاز کی وجہ سے ادارے میں سب سے کٹا ہوا تھا۔

1961 اور 1962 میں کیتھرین جانسن نے اس مشن پر کام کیا جس کا مقصد پہلے امریکی کو خلا تک پہنچانا تھا۔ اس وقت تک ناسا کے پاس آئی بی ایم کمپیوٹر آ چکا تھا لیکن اس کے حسابات کی درستی کو کیتھرین نے جانچا۔

کیتھرین جانسن کے کردار کو دو ہزار سولہ میں بننے والی ہالی ووڈ فلم 'Hidden Figures' میں شامل کیا گیا تھا۔ فلم میں اداکارہ Taraji P. Henson نے کیتھرین کا کردار نبھایا تھا۔ فلم کو آسکر ایوارڈز کے لیے بھی نامزد کیا گیا تھا۔

کیتھرین جانسن نے ایک طرف ناسا میں غیر معمولی خدمات انجام دیں اور دوسری طرف ناسا اور امریکی معاشرے میں نسلی امتیاز کے خلاف جدوجہد کی۔ صدر اوباما نے کیتھرین کو ان کی قومی خدمات کے اعتراف میں سب سے بڑے سویلین اعزاز پریذیڈنٹ میڈل آف فریڈم سے نوازا تھا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG