رسائی کے لنکس

logo-print

فٹ بال گراؤنڈ جتنا بڑا غبارہ خلا کا کھوج لگائے گا


امریکی خلائی ادارہ ناسا فٹ بال کے میدان جتنا بڑا غبارہ خلا کی سرحد پر بھیجنے کا ارادہ رکھتا ہے جس کا مقصد یہ جاننا ہو گا کہ ستارے اور سیارے کیسے تخلیق ہوتے ہیں۔

'ایستھروس' نام کا یہ مشن انٹارکٹیکا سے دسمبر 2023 میں روانہ کیا جائے گا اور تین ہفتے فضا کے اختتام پر اس جگہ رہے گا جہاں اوزون کی تہہ موجود ہے۔

اس مشن میں دیوقامت غبارے کے علاوہ خاص قسم کی ٹیلی اسکوپ ہو گی جو ایسی روشنی کو پرکھ سکتی ہے جو انسانی آنکھ سے دکھائی نہیں دیتی۔

ناسا کے انجینئرز آئندہ ماہ اس تجربے کی تیاریاں شروع کریں گے۔ جس غبارے کو اس تجربے میں استعمال کیا جائے گا وہ پھولنے کے بعد 400 فٹ چوڑا ہوگا۔ اس کے ساتھ ٹیلی اسکوپ کے علاوہ ایک کولنگ سسٹم بھی ہو گا جو آلات کو ٹھنڈا رکھے گا۔

فار انفراریڈ ویولینتھ روشنی کو انسانی آنکھ سے نہیں دیکھا جاسکتا لیکن ان کی مدد سے خلا کے ان مقامات میں گیس کی مقدار اور رفتار کا پتا چلایا جاسکتا ہے جہاں ستارے تخلیق ہورہے ہوں۔

غبارہ خلا کی سرحد سے نیچے رہے گا لیکن پھر بھی اس کی بلندی ایک لاکھ 30 ہزار فٹ یعنی سطح زمین سے فاصلہ 25 میل ہو گا۔ ناسا کے سائنس دان زمین سے ٹیلی اسکوپ کو کنٹرول کر سکیں گے اور اس کا ڈیٹا فوری تجزیے کے لیے ڈاؤن لوڈ کیا جا سکے گا۔

ٹیلی اسکوپ ستاروں کی تخلیق اور اس عمل کی معلومات جمع کرے گی جسے 'اسٹیلر فیڈبیک' کہا جاتا ہے۔ جب عظیم الجثہ ستارے ٹوٹتے ہیں تو وہ اپنے مواد کو خلا میں پھینکتے ہیں۔ ان کے پھٹنے سے مواد بکھر بھی سکتا ہے اور ایک جگہ جمع ہو کر نئے ستارے بھی بن سکتے ہیں۔ اسٹیلر فیڈبیک کے بغیر کہکشاں کا مادہ اور گیس مل کر نئے ستارے نہیں بنا سکتے۔

ناسا کے ماہرین کا کہنا ہے کہ ان کے جدید کمپیوٹر اس عمل سے ناواقف ہیں۔ ایتھروس کے مشن کی بدولت وہ اس عمل کے تھری ڈی نقشے بنانے کے قابل ہوجائیں گے اور کمپیوٹر کہکشاں کے ارتقا کو نقل کرنے میں کامیاب ہوسکے گا۔

بنیادی طور پر اس مشن کے دو اہداف مقرر کیے گئے ہیں۔ ایک میسیئر 83 نام کی کہشاں جو زمین سے ڈیڑھ کروڑ نوری سال کے فاصلے پر موجود ہے اور روشن ترین کہکشاں ہے۔ دوسرا ہدگ ٹی ڈبلیو ہائیڈرائی نام کا ستارہ ہے جس کے گرد گَرد اور گیس کا غبار ہے جہاں نئے سیارے تخلیق ہوسکتے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG