رسائی کے لنکس

logo-print

'ناسا' کی خلا بردار پروازوں کی نگرانی پہلی بار خاتون کے سپرد


فائل فوٹو

امریکہ کے خلائی ادارے نیشنل ایروناٹکس اینڈ اسپیس ایڈمنسٹریشن (ناسا) نے پہلی مرتبہ کسی خاتون خلا باز کو خلائی مشن کا سربراہ مقرر کیا ہے۔

'ناسا' کے سربراہ جِم بریڈن اسٹین کا ٹوئٹر پر ایک ٹوئٹ میں کہنا تھا کہ کیتھی لوڈرز کا انتخاب ناسا کے 'ہیومن ایکسپلوریشن اینڈ آپریشن مشن' کے ڈائریکٹوریٹ کے سربراہ کے طور پر کیا گیا ہے۔

'ناسا' کا یہ ڈائریکٹوریٹ انسانوں کو خلا اور زمین کے مدار سے باہر بھیجے جانے والے مشنز کی نگرانی کرتا ہے۔ جب کہ اب اس ڈائریکٹوریٹ کے ماتحت نجی اداروں کے خلا میں بھیجے جانے والے مشنز کی نگرانی بھی شامل ہے۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ کیتھی نے نجی کمپنی کے عملے اور کمرشل کارگو کو خلا میں بھیجنے کا پروگرام شاندار انداز میں منظم کیا اور یہ درست شخصیت ہیں جو اس مشن کی قیادت کریں۔

ان کے بقول ناسا 2024 میں چاند پر خلا باز بھیجنے کی تیاری میں مصروف ہے جب کہ کیتھی لوڈرز اس مشن کی نگران ہوں گی۔

کیتھی لوڈرز 1992 سے ناسا میں خدمات انجام دے رہی ہیں۔ انہوں نے گزشتہ ماہ خلا میں نجی کمپنی 'اسپیس ایکس' کے راکٹ کے ذریعے دو خلا بازوں کو بین الاقوامی خلائی سینٹر بھیجنے کے مشن کی نگرانی کی تھی۔ یہ کسی بھی نجی کمپنی کے راکٹ کے ذریعے خلا بازوں کو خلا میں بھیجنے کا پہلا مشن تھا۔

انہوں نے کئی ایسے پروگراموں کی بھی نگرانی کی ہے جس میں نجی کمپنی اسپیس ایکس اور بوئنگ نے خلا میں بھیجی جانے والی محفوظ ترین سواری تیار کرنے کے تجربات کیے تھے۔

ناسا کے خلاباز، نجی کمپنی کا راکٹ
please wait

No media source currently available

0:00 0:03:00 0:00

گزشتہ ماہ خلائی مشن کی روانگی سے قبل بریفنگ میں کیتھی لوڈرز نے اسے ناسا اور اسپیس ایکس کا حیرت انگیز کارنامہ قرار دیا تھا۔

ناسا کے پروگرام کے تحت نجی ادارے خلا میں پروازیں بھیج سکیں گے۔ یہ پروگرام ایک دہائی قبل شروع کیا گیا تھا۔

اس مشن سے قبل صرف ناسا کے تیار کردہ اسپیس شٹل خلا میں بھیجے جاتے تھے۔

لگ بھگ ایک عشرے کے بعد یہ پہلا موقع ہے کہ امریکی خلاباز اپنی ہی سرزمین سے بین الاقوامی خلائی اسٹیشن گئے ہیں۔

سن 2011 میں ناسا کی طرف سے خلا میں راکٹ بھیجنے کا پروگرام ختم کیے جانے کے بعد امریکی سائنس دان بین الاقوامی خلائی اسٹیشن تک آمد و رفت کے لیے روس کی خلائی گاڑیاں استعمال کر رہے تھے۔

ناسا نے 2011 کے بعد امریکی خلاء باز خلاء میں کیوں نہیں بھیجا؟
please wait

No media source currently available

0:00 0:02:47 0:00

ناسا 2024 میں خلا میں مزید دو انسان بھیجنا چاہتا ہے جن میں سے ایک خاتون ہوں گی۔ 2024 میں جانے والا یہ مشن چاند پر اترے گا۔

رپورٹس کے مطابق ابھی تک یہ واضح نہیں ہے کہ ناسا کس کمپنی کو چاند پر جانے والے مشن کے لیے شٹل بنانے کا ٹھیکہ دیتی ہے۔

خیال رہے کہ ناسا نے 2019 میں اعلان کیا تھا کہ 2024 میں پہلی بار کوئی خاتون خلا باز چاند پر قدم رکھ سکیں گی۔

ناسا نے اس مشن کا نام آرٹمِس رکھا ہے جس میں چاند کے قطب جنوبی کا جائزہ لیا جائے گا۔

امریکہ کے صدر ڈونلڈ ٹرمپ کی صاحبزادی اور ان کی مشیر ایوانکا ٹرمپ نے کیتھی لوڈرز کی تقرری کو تاریخی اقدام قرار دیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG