رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستانی قومی ترانہ پہلی بار طبلے کی دھن پر


عاموس عزیز خان صرف طبلوں پر پاکستان کے قومی ترانے کی دھن پیش کر رہے ہیں۔

ثمن خان

بہت سے فن کار پاکستان کے قومی ترانے کو گٹار، پیانو، ستار، بانسری سمیت موسیقی کے مختلف آلات پر پیش کر چکے ہیں۔ لیکن پاکستان پرچم کے سفید حصے کے ترجمان عاموس عزیز خان نے اس یوم آزادی پر کچھ منفرد کیا ہے۔

مسیحی برادری سے تعلق رکھنے والے طبلہ نواز نے چودہ طبلوں پر اپنی اُنگلیوں کا جادو ایسے جگایا کہ لفظوں کو سر اور سروں کو زبان مل گئی۔

تقریباً ایک منٹ چالیس سیکنڈ کی ویڈیو عاموس خان اور اس کی ٹیم کی تقریبا ایک مہینے کی محنت کا ثمر ہے۔

عاموس خان نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ تقریبا ڈیڑھ ماہ پہلے اُنہوں نے سوچا کہ اس آزادی کے جشن میں وہ پاکستان کے عوام کو ایک یاد گار تحفہ دیں گے۔

مڈل پاس عاموس کے پاس اپنی سرزمین کو دینے کے لئے اپنے فن سے بڑھ کر کُچھ نہ تھا۔ بس اپنے دوست سے رابطہ کیا اور لگ گئے قومی ترانے کی دُھن طبلے پر بجانے کی تیاری کرنے۔​

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے عاموس خان نے بتایا کہ یوں تو ہر طبلہ نواز کے پاس تقریبا ًتین سے چار طبلے موجود ہوتے ہیں لیکن اس خاص دُھن کو بنانے کے لئے اُنہیں چودہ طبلوں کی ضرورت تھی، جو انُہوں نے اپنے دوستوں اور شا گردوں سے اس مقصد کے لئے ادھار لئے۔

اس کی پریکٹس کے لئے اُنہوں نے ہارمونیم کا سہارا لیا، اور پھر بلاول اور کیروانی نامی دو راگوں کے ملاپ سے ترانہ طبلے پر بجایا۔

طبلہ نواز عاموس خان کا تعلق لاهور سے ہے لیکن روزگار کے سلسلے میں وہ پاکستان کے دارالحکومت اسلام آباد میں رہائش پذیر ہیں۔

بچپن سے ہی موسیقی سے لگاؤ نے استاد رزاق ریاض خان کا شاگرد بنا دیا۔ اور پھر سفر شروع ہوا سر اور راگ کے ملاپ کا۔

وہ اب تک بے شمار کنسرٹس میں نامی گرامی گلوکاروں اور موسیقاروں کے ساتھ کام کر چکے ہیں اور تقربیات میں بھی اپنے فن کا جادو جگاتے ہیں۔

انہوں نے راول پنڈی میں عاموس خان اکیڈمی آف طبلہ کے نام سے ایک تربیتی مرکز قائم کر رکھا ہے جہاں وہ نئی نسل کو اس فن کی تربیت دیتے ہیں۔ اس طرح ان کا یہ شوق اب ان کے روزگار کا وسیلہ بھی بن گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG