رسائی کے لنکس

logo-print

فاٹا کے صوبہ خیبر پختونخوا میں انضمام کی آئینی ترمیم منظور


پاکستان کی قومی اسمبلی (فائل فوٹو)

جمعرات کو جب اجلاس شروع ہوا تو بل پیش کرنے کے لیے حکومت کو اپنے ہی ارکان کی عدم موجودگی کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

وفاق کے زیرِ انتظام قبائلی علاقے ’فاٹا‘ کے خیبر پختونخوا میں انضمام سے متعلق 31 ویں آئینی ترمیم قومی اسمبلی نے دو تہائی اکثریت سے منظور کرلی ہے۔

قومی اسمبلی کا اجلاس جمعرات کو اسپیکر ایاز صادق کی زیرِ صدارت پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوا جس میں فاٹا کو خیبر پختونخوا میں ضم کرنے سے متعلق آئینی ترمیم وفاقی وزیرِ قانون و انصاف محمود بشیر ورک نے پیش کی۔

بل کی اہمیت کے پیشِ نظر پاکستان تحریکِ انصاف کے چیئرمین عمران خان بھی دو سال کی غیر حاضری کے بعد اسمبلی کے اجلاس میں شریک ہوئے۔

جمعرات کو جب اجلاس شروع ہوا تو بل پیش کرنے کے لیے حکومت کو اپنے ہی ارکان کی عدم موجودگی کی وجہ سے پریشانی کا سامنا کرنا پڑا۔

بِل کی منظوری کے لئے آئینی طور پر 228 ارکان جب کہ کابینہ میں شامل نصف وزرا کی حاضری لازمی ہوتی ہے لیکن بیشتر حکومتی ارکان ایوان سے غائب تھے۔

وزیرِ اعظم شاہد خاقان عباسی ذاتی طور پر حکومتی ارکان کو فون کرکے ایوان میں آنے کی تلقین کرتے رہے جس کے بعد آئینی ترمیم پیش کرنے کے لیے تحریک پیش کی گئی۔

تحریک کی حمایت میں 229 جبکہ مخالفت میں 11 ووٹ آئے جس کے بعد بل کی شق وار منظوری کا عمل شروع ہوا اور بل کی کثرت رائے سے منظور کرلیا گیا۔

مسلم لیگ (ن) کی دو اتحادی جماعتیں جمعیت علمائے اسلام (ف) اور پختونخواہ ملی عوامی پارٹی (پی کے میپ) فاٹا کے خیبر پختونخوا میں انضمام کی مخالفت کرتی رہی ہیں اور ان دونوں جماعتوں کی قائدین مولانا فضل الرحمٰن اور محمود خان اچکزئی جمعرات کو ایوان میں موجود نہیں تھے۔ دونوں جماعتوں کے ارکان نے بل کی مخالفت کی اور ایوان سے واک آوٹ کیا۔

اصلاحاتی بِل کے تحت فاٹا سے قومی اسمبلی کی 12 نشستیں آئندہ پانچ برسوں تک برقرار رہیں گی جب کہ فاٹا سے منتخب موجودہ سینیٹرز بھی اپنی آئینی مدت پوری کریں گے۔ اس کے بعد قومی اسمبلی کی کل نشستوں کی تعداد 342 سے کم ہو کر 336 ہو جائے گی جب کہ سینیٹ کی نشستوں کی تعداد بھی 104 کے بجائے 96 رہ جائے گی۔

آئینی ترمیم کے تحت خیبر پختونخوا اسمبلی کی کل نشستوں کی تعداد 145 کر دی گئی ہے۔ فاٹا سے صوبائی اسمبلی کی نشستوں پر عام انتخابات 2018ء کے انتخابات کے ایک سال بعد ہوں گے۔

مجوزہ ترمیم کے تحت فاٹا میں صوبائی قوانین کا فوری اطلاق ہوگا اور منتخب حکومت قوانین پر عمل درآمد کے حوالے سے فیصلہ کرے گی۔

بل میں سپریم کورٹ اور پشاور ہائی کورٹ کا دائرہ کار فاٹا تک بڑھادیا گیا ہے جب کہ قبائلی علاقوں میں نافذ ’ایف سی آر‘ قانون ختم ہوجائے گا۔ اس کے ساتھ ساتھ 'فاٹا' سے متعلق صدرِ پاکستان اور گورنر خیبر پختونخوا کے خصوصی اختیارات بھی ختم ہوجائیں گے۔

آئینی ترمیم کے تحت فاٹا کے بنیادی ڈھانچے کی تعمیر اور اس علاقے کو ملک کے دیگر حصوں کے برابر لانے کے لیے آئندہ 10 برسوں تک اضافی فنڈز فراہم کیے جائیں گے جو کسی اور جگہ یا مقصد کے لیے استعمال نہیں ہو سکیں گے۔

نئی آئینی ترمیم کے تحت فاٹا کو خیبر پختونخوا میں انضمام کے ساتھ ساتھ قبائلی علاقوں میں انتظامی، عدالتی اور قانونی اصلاحات پر عمل درآمد شروع کیا جائے گا۔

واضح رہے کہ سابق وزیر اعظم نوازشریف نے لگ بھگ دو سال قبل اس وقت کے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کی سربراہی میں فاٹا اصلاحاتی کمیٹی کی تشکیل دی تھی جس نے تمام قبائلی ایجنسیوں کے دورے کر کے ایک رپورٹ تیار کی تھی اور اُس میں فاٹا میں اصلاحات تجویز کی گئی تھیں۔

ان اصلاحات پر گزشتہ دو برسوں سے بحث جاری تھی اور اس بارے میں قانون سازی نہ کرنے پر حکومت کو تنقید کا سامنا بھی کرنا پڑ رہا تھا۔

آئینی ترمیم ایسے وقت منظور کی گئی ہے جب موجودہ حکومت اور قومی اسمبلی کی مدت ختم ہونے میں صرف ایک ہفتہ رہ گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG