رسائی کے لنکس

logo-print

مردم شماری کے التوا پر سندھ کا سیاسی ماحول گرم، ہڑتال کا اعلان


احتجاج کے پہلے مرحلے میں ’سندھ یونائیٹڈ پارٹی‘ اور ’جئے سندھ محاذ‘ سمیت کئی قوم پرست جماعتوں نے جمعرات 31 مارچ کو صوبے بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

مردم شماری کے التوا نے سندھ کا سیاسی ماحول گرما دیا ہے۔ قوم پرست جماعتوں نے خبردار کیا ہے کہ وہ وفاقی حکومت کے فیصلے کے خلاف احتجاج کریں گے۔

احتجاج کے پہلے مرحلے میں ’سندھ یونائیٹڈ پارٹی‘ اور ’جئے سندھ محاذ‘ سمیت کئی قوم پرست جماعتوں نے جمعرات 31 مارچ کو صوبے بھر میں ہڑتال کا اعلان کیا ہے۔

سندھ یونائیٹڈ پارٹی کے سربراہ سید جلال محمود شاہ نے کراچی میں ایک پریس کانفرنس میں احتجاجی مظاہروں اور ہڑتال کا اعلان کیا۔ جلال محمود شاہ مردم شماری کے لیے تشکیل دی جانے والی سندھ کی سیاسی جماعتوں کی کمیٹی کے کنوینر بھی ہیں۔

جلا ل محمود شاہ کا کہنا تھا کہ سندھ کے لیے مردم شماری بقا کا مسئلہ ہے، یہ صوبے کی اشد ضرورت ہے، ایسے میں وفاقی حکومت کی جانب سے التوا کا اعلان سندھ کے لوگوں کے لیے ایک دھچکا ہے۔ وفاق سندھ کو اس دھچکے سے نکالے۔

ان کا یہ بھی کہنا تھا کہ ”مردم شماری کا انعقاد پہلے ہی 18 برسوں کے لمبے انتظار کے بعد ہونے جارہا تھا جو اب غیر معینہ مدت تک کے لیے ملتوی کردیا گیا ہے۔"

ان کے بقول مردم شماری کے التوا کی وجہ یہ بتائی جارہی ہے کہ مردی شماری کو پایہ تکمیل تک پہنچانے کے لیے فوج کے تقریباً تین لاکھ اہلکار درکار ہوں گے جو موجودہ حالات میں ممکن نہیں کیوں کہ فوج ضرب عضب آپریشن میں مصروف ہے۔

انہوں نے کہا کہ قوم پرستوں کے لیے مردم شماری کا معاملہ کھٹائی میں ڈالنا، کالا باغ ڈیم کے مسئلے کو اٹھانے کے مترادف ہے۔

انہوں نے خبردار کیا کہ اگر ہڑتال کے باوجود حکومت مردم شماری کے لیے کسی حتمی تاریخ کا اعلان نہیں کرتی تو پھر قوم پرست جماعتیں اس کے خلاف صوبے بھر میں احتجاج اور گدھرنے دیں گی۔

XS
SM
MD
LG