رسائی کے لنکس

logo-print

نیٹو کی سترہویں سالگرہ پر تنظیم کو اندرونی و بیرونی مسائل درپیش


فائل فوٹو

نیٹو کے دو روزہ اجلاس میں شرکت کے لیے، تنظیم کے سربراہان لندن پہنچنا شروع ہو گئے ہیں۔ یہ اجلاس منگل سے شروع ہو گا جو اتحاد کے قیام کی سترہویں سالگرہ کی مناسبت سے منعقد ہو رہا ہے۔ تاہم، اتحاد کے مابین بڑھتے ہوئے تناؤ کی وجہ سے جشن کا جوش و خروش ماند پڑ چکا ہے۔

شام کی لڑائی اور روس سے درپیش خدشات سربراہ اجلاس کے سر فہرست موضوع ہوں گے۔ نیٹو کے ساتھی ارکان امریکہ اور ترکی گذشتہ ماہ شمالی شام میں محاذ آرائی کے دہانے پر پہنچ گئے تھے، جس کے نتیجے میں اتحاد میں دراڑیں نظر آ رہی تھیں۔

لندن میں قائم ’رائل یونائٹڈ سروسز انسٹی ٹیوٹ‘ سے وابستہ، جوناتھن ایال نے اس ہفتے انٹرویو میں وائس آف امریکہ کو بتایا کہ ’’شمالی اوقیانوس کے اتحاد میں ترکی کی پوزیشن پیچیدہ نوعیت کی ہے‘‘۔

ان کے بقول، ’’ترکی کی جانب سے مشرق وسطیٰ میں فوجی کارروائی میں شامل ہونے کا فیصلہ اس کے زیادہ تر اتحادیوں کی خواہش کے برخلاف تھا، جس میں امریکہ شامل ہے؛ اور، روسی فوجی اسلحہ خریدنے کا ترکی کا فیصلہ متعدد یورپی ملکوں سے ٹکر لینے کے مترادف معاملہ ہے‘‘۔

نیٹو ارکان کہتے ہیں کہ بہتر ہو گا کہ ترکی اتحاد سے باہر رہے۔ ایال نے کہا کہ ’’نیٹو کا وجود یورپی سیکیورٹی کے لیے ہے۔ اسے اپنے آپ کو مشرق وسطیٰ کی پالیسیوں سے ہم آہنگ نہیں کرنا چاہیے‘‘۔

جہاں کبھی امریکی فوجیں امن قائم کیا کرتی تھیں، وہاں شمالی شام میں اب روسی افواج گشت کر رہی ہیں۔ امریکی فوج کے انخلا کے نتیجے میں نیٹو کے بارے میں امریکی مؤقف متاثر ہوا ہے۔ فرانسیسی صدر امانوئیل مکخواں نے حالیہ دنوں کہا ہے کہ اتحاد ’’دماغی لحاظ سے‘‘ مر چکا ہے۔ انھوں نے یورپ پر زور دیا کہ اپنی سلامتی کو یقینی بنانے کے لیے وہ سیکیورٹی کا ضروری ڈھانچہ تشکیل دے۔

گذشتہ ہفتے نیٹو کے سیکرٹری جنرل ژاں اسٹولٹن برگ نے اس بیان کو سخت ہدف تنقید بنایا۔

اسٹولٹن برگ نے اخباری نمائندوں کو بتایا کہ ’’یورپی اتحاد بین الاوقیانوس اتحاد کی جگہ نہیں لے سکتا۔ ہمیں دونوں کی ضرورت ہے۔ اور ہمارے لیے یہ بات سمجھنے کی بھی ضرورت ہے، خاص طور پر بریگزٹ کے بعد، کہ یورپی یونین یورپ کا دفاع نہیں کر سکتا‘‘۔

سال 2014ء میں کرائمیا کو زبردستی ضم کرنے اور جاسوسی کی جاری کارستانیاں، سائبر لڑائی اور ’ڈس انفارمیشن‘ کے پیش نظر، یورپ اب بھی روس کو سب سے بڑا خطرہ قرار دیتا ہے۔

ایال نے کہا ہے کہ نیٹو معاہدے کی شق 5 سے متعلق امریکی عزم پر یورپی تشویش، جس کا تعلق اجتماعی دفاع سے ہے، اس کا زمینی حقائق سے کوئی تعلق نہیں۔ ان کے الفاظ میں، ’’حقیقت یہ ہے کہ پینٹاگان کی جانب سے یورپ کے لیے مختص اخراجات میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے، ساتھ ہی امریکی فوجوں کی تعداد بھی بڑھ رہی ہے‘‘۔

ادھر، یورپ میں امریکی فوجوں کی تعیناتی کو روس مختلف زاویے سے دیکھتا ہے۔ ماسکو میں قائم ’رشیئن کونسل آن انٹرنیشنل افیئرز‘ سے وابستہ، آندرے کورتنوف نے کہا ہے کہ ’’باوجود اس بات کے کہ معاہدے کی شق نمبر 5 اُن کی سلامتی کا تحفظ یقینی بناتی ہے، مشرقی یورپ کے چند ملک چاہتے ہیں کہ امریکی فوج ان کی سرزمین پر قدم رکھے‘‘۔

وائس آف امریکہ کو انٹرویو دیتے ہوئے، انھوں نے کہا کہ ’’اس سے یہ بات ظاہر ہوتی ہے کہ بجائے نیٹو پر اعتماد کرنے کے، وہ زیادہ بھروسہ امریکہ پر کرتے ہیں‘‘۔

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے نیٹو کے یورپی ارکان سے بارہا مطالبہ کیا ہے کہ وہ ’’بوجھ برداشت کریں‘‘۔

بدھ کے روز جرمنی نے اس بات کا عہد کیا کہ وہ اپنی مجموعی قومی پیداوار (جی ڈی پی) کا دو فی صد نیٹو دفاع کے لیے مختص کرے گا۔ لیکن، 2030ء سے پہلے ایسا نہیں ہو سکتا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG