رسائی کے لنکس

logo-print

مشرقی یوکرین کو اسلحے کی فراہمی پر 'نیٹو' کی تشویش


یورپی یونین کے مبصرین نے منگل کو دونیسک کے نزدیک اسی نوعیت کے ایک اور فوجی قافلے کی نقل و حرکت کی بھی اطلاع دی ہے۔

مغربی ملکوں کے دفاعی اتحاد 'نیٹو' کے فوجی سربراہ نے یوکرین کے مشرقی علاقے میں سرگرم علیحدگی پسندوں کو مبینہ طور پر روس کی جانب سے ہتھیاروں اور دیگر فوجی ساز و سامان کی فراہمی پر "گہری تشویش" کا اظہار کیا ہے۔

منگل کو اٹلی کے شہر نیپلز میں نیٹو کے ایک ہوائی اڈے پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے امریکی فضائیہ کے جنرل فلپ بریڈ لو نے کہا کہ اتحاد مشرقی یوکرین کو بھاری اسلحے، فوجی گاڑیوں اور حربی آلات کی فراہمی پر تشویش کا شکار ہے۔

انہوں نے کہا کہ گزشتہ چند روز کے دوران یہ ساز و سامان روس سے مشرقی یوکرین لانے والے قافلوں میں نمایاں اضافہ ہوا ہے۔

'نیٹو' اور امریکہ کا دعویٰ ہے کہ یہ اسلحہ اور فوجی ساز و سامان بغیر کسی نشان والی گاڑیوں کے ذریعے روس سے یوکرین کے مشرقی علاقے میں منتقل کیا جارہا ہے جہاں یوکرین کی مرکزی حکومت سے علیحدگی کی مسلح تحریک زوروں پر ہے۔

روس مسلسل ان الزامات کی تردید کرتا آیا ہے لیکن اس کے باوجود حالیہ ہفتوں کے دوران مغربی ملکوں کی جانب سے یہ الزامات زور پکڑ گئے ہیں۔

خطے میں تعینات یورپی یونین کے مبصرین نے منگل کو مشرقی یوکرین کے علاقے اور علیحدگی پسندوں کے مضبوط گڑھ دونیسک کے نزدیک اسی نوعیت کے ایک اور فوجی قافلے کی نقل و حرکت کی اطلاع دی ہے۔

مبصرین کے مطابق سبز رنگ کے فوجی ٹرکوں پر مشتمل یہ قافلہ دونیسک کے نواح میں دیکھا گیا ہے جو شہر کے مرکز کی جانب جارہا تھا۔

عینی شاہدین کا کہنا ہے کہ قافلے میں شامل ٹرکوں پر کسی قسم کی علامات یا نمبر موجود نہیں تھے جن سے یہ جانا جاسکے کہ ان کا تعلق کہاں سے ہے۔

مبصرین نے کہا ہے کہ قافلے میں شامل ٹرکوں پر ترپال ڈھکے ہوئے تھے جب کہ ان میں سے پانچ ٹرکوں سے 120 ملی میٹر دہانے کی توپیں جب کہ دیگر پانچ سے ملٹی لانچ راکٹ نظام بندھے ہوئے تھے۔

منگل کو نیپلز میں صحافیوں کے ساتھ گفتگو کرتے ہوئے نیٹو کے سربراہ نے مشرقی یوکرین میں روسی فوجیوں کی موجودگی کا بھی دعویٰ کیا۔

ان کا کہنا تھاکہ علاقے میں 250 سے 300 روسی فوجی موجود ہیں جو علیحدگی پسند جنگجووں کی مدد کر رہے ہیں۔

جنرل لو بریڈ کامزید کہنا تھا کہ روس کی آٹھ بٹالین فوج یوکرین کی سرحد پر موجود ہے جب کہ ماسکو حکومت جوہری ہتھیار چلانے والا ایک فوجی دستہ کرائمیا بھجوارہی ہے۔

خیال رہے کہ کرائمیا یوکرین کا نیم خودمختار علاقہ تھا جس نے حالیہ کشیدگی کے آغاز پر یوکرین سے علیحدگی کا اعلان کرنے کے بعد روس کے ساتھ الحاق کرلیا تھا۔ امریکہ، یوکرین اور یورپی ممالک اس الحاق کو تسلیم نہیں کرتے۔

دریں اثنا یوکرینی فوج کے ایک ترجمان نے الزام عائد کیا ہے کہ روس کے "کرایے کے فوجی" مشرقی یوکرین کے ان علاقوں میں باغیوں کو تقویت اور مدد فراہم کر رہے ہیں جہاں ان کی یوکرینی فوج کے ساتھ لڑائی جاری ہے۔

یوکرینی وزارتِ خارجہ کے مطابق اس نے روس کو ایک احتجاجی مراسلہ بھی روانہ کیا ہے جس میں یوکرین کے خلاف "روس کے مسلسل جارحانہ کارروائیوں" پر احتجاج کیا گیا ہے۔

اس سے قبل گزشتہ ہفتے یوکرین حکومت نے روس پر الزام عائد کیا تھا کہ اس کا 30 ٹینکوں اور فوجیوں سے بھرے ٹرکوں پر مشتمل ایک قافلہ علیحدگی پسندوں کی مدد کے لیے مشرقی یوکرین میں داخل ہوگیا ہے۔ روس نے حسبِ سابق اس الزام کو یکسر مسترد کردیا تھا۔

XS
SM
MD
LG