رسائی کے لنکس

logo-print

کراچی کی شیریں جناح کالونی بھی نیٹو سپلائی کی بحالی کے لئے منتظر


شیریں جناح کالونی ۔۔۔کراچی کے ساحل سے لگی ہوئی ایک چھوٹی سی رہائشی بستی جہاں زیادہ تر غریب خاندان آباد ہیں۔ انہیں شاید نیٹو سپلائی کی بحالی کا اسی قدر شدت سے انتظار ہے جتنا متعلقہ حکومتوں اور ارباب اختیار کو ہے۔ اس کی وجہ بالکل واضح ہے ۔ نیٹو سپلائز۔۔۔ ان سینکڑوں گھرانوں کی روٹی روزی کا ذریعہ ہیں جو اس کالونی میں آباد ہیں۔

جب سے سپلائی لائن بند ہوئی ہے یہاں کے دن رات کا معمول ہی بدل گیا ہے۔ یہ لوگ ہر صبح اس آس پر آنکھ کھولتے ہیں کہ شائد آج سپلائی بحال ہوجائے گی اوران کے دکھ، درد دور ہوجائیں گے۔۔ آئل ٹینکرز کی قطاروں کے بیچ ڈرائیورز وقت گزاری کے لئے ٹولیوں کی شکل میں بیٹھ کر تاش کھیلتے اورایک امید پر پہاڑ جیسا دن گزرتے ہیں ۔

خوشی کی خبر سننے سے رہ نہ جائے ۔۔اس غرض سے ایک چھوٹا سا ٹی وی سیٹ انہوں نے اپنے قریب رکھا ہوا ہے۔۔۔خوشی کی خبر کے لئے یہاں موجود ہر شخص دل سے دعا کر رہا ہے۔ کیوں کہ وہ جانتا ہے نیٹو سپلائی بحال ہونے کی خبر ان کی زندگی میں پھر سے بہار یں لاسکتی ہے۔

انہیں شکایت ہے کہ سیاست سے قطع نظر نیٹو سپلائی کے کچھ انسانی پہلو بھی ہیں جن پر بات نہیں کی جاتی۔ مقامی اخبار ”ٹریبیون “ کے مطابق تقریباً 30ہزار آئل ٹینکرز نیٹو کے سامان کی فراہمی سے وابستہ ہیں۔ یہی نہیں بلکہ ان ہزاروں آئل ٹینکرز کے ساتھ ساتھ 10ہزار خاندانوں کامستقبل وابستہ ہے۔ کئی ٹھیکیدار اور ان کی کمپنیاں یہ فریضہ انجام دیتی ہیں۔ ان ٹھیکیداروں کا کہنا ہے کہ ان کے خاندان کی بقاء کا دار ومدار انہی ٹینکرز پر ہے ۔ ہم شدت سے نیٹو سپلائی بحال ہونے کے فیصلے کا انتظار کر رہے ہیں اور اس کے لئے دعائیں بھی مانگ رہے ہیں۔

کراچی سے افغانستان کے شہر قندھار تک کا سفر سخت موسم کے ساتھ ساتھ دیگر لحاظ سے بھی پرخطر ہوتا ہے، اس کے باوجودسپلائی بند ہونے کے بعد بھی یہ ڈرائیورز نیٹو سپلائی بحال ہونے کی امید میں اور کوئی کام نہیں کررہے۔ اس کی وجہ بہتر معاشی مواقع کی فراہمی ہے۔

نیٹو سپلائی کی بندش سے پریشان ایک چھوٹے ٹھیکیدار اسد کا کہناہے کہ نیٹوکے کنٹریکٹرز پیسے ایڈوانس میں ادا کرتے ہیں اور سرکاری آئل ڈسٹری بیوشن کمپنی کے برعکس این او سی بھی نہیں مانگتے جس کی مالیت 25 لاکھ روپے ہوتی ہے۔

بات کے سلسلے کو آگے بڑھاتے ہوئے اسد نے بتایا کہ قندھار تک ایک چکر کے کنٹریکٹر کو 4 لاکھ 20 ہزار روپے ملتے ہیں۔ اس رقم میں 90 ہزارکنٹریکٹر کا کمیشن ہوتا ہے جس میں انشورنس اور ٹریکنگ کے اخراجات بھی شامل ہوتے ہیں۔2 لاکھ 10 ہزار فیول اور قانون نافذ کرنے والے اداروں کی ادائیگیاں اور30 ہزار ڈرائیور اور ہیلپر کی تنخواہ شامل ہوتی ہے۔ ان اخراجات کو نکال کر مالک کو ایک لاکھ روپے کا فائدہ ہوتا ہے۔

XS
SM
MD
LG