رسائی کے لنکس

logo-print

نیٹو اجلاس میں مستقبل کی حکمت عملی پر غور


نیٹو کے سیکرٹری جنرل اینڈرس فوگ راسموسن نے کہا ہے ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ میں مالیاتی مسائل کے باوجود اس اتحاد کے پاس مناسب دفاعی صلاحیتیں موجود ہیں

نیٹو کے سربراہ نے ممبر ممالک پر زور دیا ہے کہ وہ ایک ایسے وقت میں جب ادارے کا بجٹ کٹوتیوں کی زد میں ہے، سیکیورٹی سے متعلق پالیسیوں میں زیادہ قریبی تعاون سے کام لیں۔

وہ برسلز میں نیٹو ممالک کے خارجہ اور دفاعی امور کے وزراء کے شاذ ونادر منعقد ہونے والے مشترکہ اجلاس سے خطاب کررہے تھے۔

نیٹو کے سیکرٹری جنرل اینڈرس فوگ راسموسن نے کہا ہے ہم یہ یقینی بنانا چاہتے ہیں کہ یورپ اور امریکہ میں مالیاتی مسائل کے باوجود اس اتحاد کے پاس مناسب دفاعی صلاحیتیں موجود ہیں۔

میٹنگ کے دوران ایک مختصر نیوز کانفرنس میں راسموسن نے کہا کہ نیٹو تنظیم کو مضبوط رکھنے کے لیے حقیقی کوششوں اور سچے عزم کی ضرورت ہے۔

دفاعی ادارے کے سیکرٹری جنرل نے کہا ہے اگلے ماہ شکاگو کے سربراہ اجلاس میں اتحاد ی ممالک کے فوجیوں کی عملیت میں اضافے کے لیے نئی پیش قدمی پر کام کیا جائے گا۔

جب کہ نیٹو کے کئی ماہرین کا خیال ہے کہ اس سلسلے میں مزید بہت کچھ کیے جانے کی ضرورت ہے۔

امریکی ریاست اوہائیو کی ویسلی یونیورسٹی کے پروفیسر شان کے کہتے ہیں کہ افغانستان اور لیبیا میں کارروائیوں کے دوران یہ انکشاف ہوا کہ نیٹو کے کئی شعبوں میں نمایاں خامیاں موجود ہیں۔

جب کہ نیٹو افغانستان میں اپنے ایک عبوری منصوبے پر عمل جاری رکھے ہوئے ہے جہاں طالبان کے حالیہ حملوں نے مغربی افواج کی کامیابیوں پر کئی سوال کھڑے کردیے ہیں۔ لیکن سرکاری عہدے داروں کا کہناہے کہ اگرچہ طالبان بڑے حملے کرسکتے ہیں لیکن حالیہ برسوں میں ان کی صلاحیتوں میں مجموعی طور پر نمایاں کمی ہوئی ہے۔

سیکرٹری جنرل راسموسن کا کہناہے کہ دفاعی اتحاد اور اس کے شراکت دار زیادہ تر جنگی کارروائیوں کی ذمہ داری اگلے سال افغان فورسز کے سپرد کرنے اور 2014ء تک غیر ملکی افواج کا ملک میں بڑا فوجی کردار ختم کرنے پر متفق ہیں۔

XS
SM
MD
LG