رسائی کے لنکس

logo-print

نیٹو کی جانب سے پاکستان کو تنقید کا سامنا


نیٹو کی جانب سے پاکستان کو تنقید کا سامنا

ایساف کے ایک ترجمان بریگیڈیر جنرل کارسٹن جیکبسن نے پیر کے روز کہا کہ اسلام آباد نے اس قسم کے گروپوں کے خلاف بہت کچھ کیا ہے اور خون سے اسکی قیمت ادا کی ہے لیکن اسلام آباد کو بلا شبہ مزید بہت کچھ کرنے کے ضرورت ہے۔

افغانستان میں نیٹو افواج نے پاکستان کو دہشت گردوں اور جنگجوؤں کو کنٹرول نا کرنے اور انہیں افغانستان میں کارروائیوں کی اجازت دینے پر تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔

ایساف کے ایک ترجمان بریگیڈیر جنرل کارسٹن جیکبسن نے پیر کے روز کہا کہ اسلام آباد نے اس قسم کے گروپوں کے خلاف بہت کچھ کیا ہے اور خون سے اسکی قیمت ادا کی ہے لیکن اسلام آباد کو بلا شبہ مزید بہت کچھ کرنے کے ضرورت ہے۔

جیکبسن کا کہنا تھا کہ پاکستان کو نیٹو کے مشن کے ساتھ مل کر کام کرنا ہوگا اور جنگجوؤں کو اپنا علاقہ استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینا ہوگی۔

دریں اثنا، امریکہ نے پاکستان کے بارے میں اپنے موقف پر کچھ نرمی دکھانا شروع کردی ہے اور دہشت گردی کے خلاف جنگ میں امریکہ اور پاکستان کے درمیان تعلقات میں زیادہ مفاہمانہ رویہ اپنالیا ہے۔

افغانستان اور پاکستان کے لیے خصوصی امریکہ ایلچی مارک گراسمین ، جو کہ اس ہفتے پاکستان کے دورے پر جائینگے، نے کہا ہے کہ دونوں فریقین کے درمیان گفتگو اب اس بات پر ہے کہ ہم اپنے مفادات کو کس طرح مشترک بنائیں اور ان پر مل کر کام کریں۔

لیکن انکا یہ بھی کہنا تھا کہ واشنگٹن پاکستان پر زور دیتا رہے گا کہ وہ محفوظ پناہ گاہیں ختم کرے جہاں سے جنگجو افغانستان میں حملے کرتے ہیں۔

XS
SM
MD
LG