رسائی کے لنکس

مشرقی ننگرہار میں فضائی کارروائیوں میں شہری ہلاکتیں، نیٹو کی چھان بین


شہری ہلاکتوں سے متعلق اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2017ء میں افغانستان کے مسلح تنازع میں 1700 سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ مزید متعدد لوگ زخمی ہوئے ہیں

افغانستان کے اہل کاروں کا کہنا ہے کہ مشرقی صوبہٴ ننگرہار میں بین الاقوامی افواج کی جانب سے رات گئے کی گئی انسدادِ دہشت گردی کے سلسلے کی فضائی کارروائیوں میں کم از کم 16 شہری ہلاک ہوئے، جن میں خواتین اور بچے شامل ہیں۔

ضلع ہسکہ مینا، جہاں یہ ہلاکتیں واقع ہوئیں، چوٹی کے ایک منتظم، ساز ولی نے جمعے کے روز ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ فضائی حملوں میں دو مختلف مقامات پر ایک موٹر گاڑی اور شہریوں کا ایک گروپ زد میں آیا۔

اُنھوں نے مزید بتایا کہ ہلاک ہونے والے آٹھ افراد، جو موٹر گاڑی میں سوار تھے، اُن کا ایک ہی خاندان سے تعلق تھا۔

’نیٹو رِزولوٹ سپورٹ مشن‘ کے ترجمان نے ’وائس آف امریکہ‘ کو بتایا کہ ’’ہم اِن الزامات کا جائزہ لے رہے ہیں اور مناسب وقت پر صورتِ حال سے آگاہ کریں گے‘‘۔

سکیورٹی کے مقامی اہل کاروں نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ افغان افواج، جنھیں غیر ملکی فضائی اعانت حاصل تھی، ضلعے میں داعش کے شدت پسندوں کے خلاف انسداد دہشت گردی کی کارروائیاں کر رہی ہیں۔ امریکی اور افغان حکام کے مطابق، ننگرہار کے متعدد اضلاع میں داعش کےشدت پسند گھسے ہوئے ہیں۔

طالبان باغی صوبے کے متعدد اضلاع میں بھی سرگرم عمل ہیں۔ مذہب نواز باغیوں کے ترجمان، ذبیح اللہ مجاہد نے دعویٰ کیا ہے کہ موٹر گاڑی کو میزائل لگا جس کے کچھ ہی دیر بعد، مقامی حکام اُس مقام پر جمع ہوئے، جب دوسری فضائی کارروائی میں نشانہ بن کر ہلاک ہوئے۔

شہری ہلاکتوں سے متعلق اقوام متحدہ کے اعداد و شمار کے مطابق، 2017ء میں افغانستان کے مسلح تنازع میں 1700 سے زائد شہری ہلاک ہو چکے ہیں، جب کہ مزید متعدد لوگ زخمی ہوئے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG