رسائی کے لنکس

logo-print

پاکستان افغان جنگجوؤں کے خلاف کاروائی کرے، نیٹو کا مطالبہ


تنظیم کے سیکریٹری جنرل آندرے فوغ راسموسن نے یہ موقف دہرایا کہ پاکستان کی حدود میں شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔

مغربی ممالک کے دفاعی اتحاد 'نیٹو' نے پاکستان سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کرے جو اس کی سرزمین کو افغانستان پر حملوں کے لیے استعمال کر رہے ہیں۔

برسلز میں نیٹو ممالک کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد تنظیم کے سیکریٹری جنرل آندرے فوغ راسموسن نے صحافیوں کے ساتھ گفتگو میں اس موقف کو دہرایا کہ پاکستان کی حدود میں شدت پسندوں کی محفوظ پناہ گاہیں موجود ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ اصل مسئلہ یہ ہے کہ دہشت گرد سرحد پار کرکے افغانستان میں حملے کرتے ہیں اور پھر دوبارہ پاکستان میں موجود اپنی محفوظ پناہ گاہوں کو لوٹ جاتے ہیں۔

راسموسن نے کہا کہ شدت پسندوں کی یہ سرحد پار سرگرمیاں افغانستان میں سیکیورٹی کی صورتِ حال میں بہتری کے لیے کی جانے والی نیٹو کی تمام کوششوں پر پانی پھیر رہی ہیں جن کے خلاف اتحاد کو اپنی "جنگ" میں شدت لانا ہوگی۔

انہوں نے کہا کہ نیٹو وزرائے خارجہ نے اپنے اجلاس میں پاکستان حکومت اور فوج پر زور دیا ہے کہ وہ اپنے سرحدی علاقوں میں پناہ لینے والے شدت پسندوں کے خلاف کاروائی کرے۔

ان کا کہنا تھا کہ نیٹو کو صرف افغانستان ہی نہیں بلکہ پورے خطے کے دیرپا امن اور استحکام کے لیے پاکستان کے مثبت تعاون کی ضروری ہے۔

منگل کو وزرائے خارجہ کے اجلاس سے قبل نیٹو کے سیکریٹری جنرل نے افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ بھی ملاقات کی جو امریکی وزیرِ خارجہ جان کیری کی دعوت پر برسلز میں موجود ہیں۔

امریکی وزیرِ خارجہ برسلز میں افغان صدر اور ان کے وفد کی پاکستانی وفد کے ساتھ ملاقات کی میزبانی کریں گےجس میں دونوں ممالک کے درمیان پیدا ہونے والی حالیہ کشیدگی میں کمی پر تبادلہ خیا ل کیا جائے گا۔

خیال رہے کہ پاکستانی وفد میں فوج کے سربراہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور سیکریٹری خارجہ جلیل عباس جیلانی بھی شامل ہیں۔
XS
SM
MD
LG