رسائی کے لنکس

logo-print

نیٹو نے جنوبی افغانستان میں بڑا حملہ شروع کردیا


فوجیں بالکل تیار حالت میں ہیں اور توقع ہے کہ وہ جلد ہی80 ہزار کی آبادی والے شہر مَرجاہ میں داخل ہوجائیں گی

امریکہ کے زیرِ قیادت نیٹو کی فوجوں نے جنوبی افغانستان کے صوبے ہلمند میں ایک بڑا حملہ شروع کردیا ہے۔ یہ صوبہ طالبان جنگجوؤں کا ایک مضبوط ٹھکانا ہے۔

اسی بڑی فوجی کارروائى کے تحت فوجی ہیلی کاپٹروں کو ہفتے کے روز صبح سویرے مَرجاہ میں اُترنا ہے ۔اس کارروائى کا مقصد اسی شہر پر دوبارہ کنٹرول حاصل کرنا ہے جو اس وقت طالبان کے افیون کے دھندے کا ایک اہم مرکز ہے۔

امریکی محمکہ دفاع کے عہدے داروں نے وائس آف امریکہ کو بتا یا ہے کہ فوجیں بالکل تیار حالت میں ہیں اور توقع ہے کہ وہ جلد ہی80 ہزار کی آبادی والے شہر مَرجاہ میں داخل ہوجائیں گی۔عہدے داروں کا اندازہ ہے کہ اُنہیں اس شہر میں چند سو سے لے کر ایک ہزار تک طالبان جنگجوؤں سے مقابلہ کرنا ہوگا۔

افغانستان میں طالبان جنگجوؤں نے جمعے کے روز بم کے اُس خود کُش حملے کی ذمّے داری کا دعویٰ کیا ہے ، جس میں کئى امریکی فوجی زخمی ہوئے تھے۔

یہ حملہ جمعرات کے روز پاکستان کی سرحد کے قریب مشرقی صوبے پاکتیا میں امریکی اور افغان فوج کے ایک مشترکہ اڈے پر کیا گیا تھا۔

صوبائى گورنر کے ایک ترجمان نے کہا ہے کہ حملے میں پانچ فوجی زخمی ہوئے تھے۔امریکہ کے فوجی عہدے داروں نے بھی امریکی مسلح افواج کے متعدد ارکان کے زخمی ہونے کی تصدیق کی ہے ، لیکن اور کوئى تفصیل فراہم نہیں کی۔

اسی دوران افغان فوج اور اتحاد کی فوجوں نے کہا ہے کہ وہ پاکتیا صوبے کے ضلع گردیز میں ایک واقعے کی چھان بین کررہی ہیں ۔

ان فوجوں نے جمعے کے روز ایک بیان جاری کیا ہے، جس میں کہاگیا ہے کہ افغان فوج اور بین الاقوامی سکیورٹی فورسز کے ارکان کو اِس ضلعے کے ایک احاطے میں دو ایسی عورتوں اور دو مَردوں کی لاشیں ملی ہیں ، جن کے ہاتھ پاؤں بندھے ہوئے تھے اور منہ میں کپڑے ٹھونس دیے گئے تھے۔

بیان میں کہا گیا ہے کہ یہ لاشیں جمعرات کو دیرگئے سکیورٹی کی ایک کارروائى کے دوران دستیاب ہوئى تھیں۔اُس کارروائى میں کئى جنگجو مارے گئے تھے اور آٹھ آدمیوں کو گرفتار کرلیا گیا تھا۔

XS
SM
MD
LG