رسائی کے لنکس

logo-print

افغان سیکیورٹی فورسز میں کرونا کی وبا، نیٹو حفاظتی سامان دے گا


کابل (فائل)

افغانستان میں نیٹو اتحاد نے ہفتے کے روز کہا ہے کہ کرونا وائرس سے نبردآزما ہونے میں افغان سلامتی افواج کو مدد دینے کے لیے ذاتی تحفظ کے لیے درکار طبی آلات کی سب سے بڑی رسد فراہم کی جا رہی ہے۔

اڑتیس ملکی ریزولوٹ سپورٹ مشن کی جانب سے اس اعلان سے چند ہی روز قبل موصول ہونے والی خبروں میں بتایا گیا تھا کہ افغان سیکیورٹی فورسز وبا کی زد میں آ چکی ہیں، جس کے نتیجے میں طالبان باغیوں کے میدان جنگ کے حملوں سے نمٹنے کی ان کی استعداد متاثر ہو رہی ہے۔

اتحاد نے ایک ٹوئٹ میں بتایا ہے کہ افغانستان بھر میں افغان نیشنل آرمی اور افغان نیشنل پولیس کے لیے درکار 14 لاکھ ماسک، پانچ لاکھ گلوز اور سرجیکل رسد کی کھیپ روانہ کی جا چکی ہے۔

اس اعلان میں نیٹو نے ملک میں امن کے حصول کی کوششوں میں افغان نیشنل ڈیفنس اینڈ سیکیورٹی فورسز کی حمایت کا اعادہ کیا ہے۔

واشنگٹن پوسٹ میں شائع ہونے والے ایک حالیہ مضمون میں افغان سیکیورٹی کے ایک نامعلوم اہلکار کے حوالے سے بتایا گیا ہے کہ ملک کے چار صوبوں میں اہلکار متاثر ہوئے ہیں، اور وائرس متاثرین کی تعداد میں 60 سے 90 فی صد تک اضافہ ہوا ہے۔

بتایا جاتا ہے کہ وبا پھوٹ پڑنے کی وجہ سے طالبان کی پر تشدد کارروائیاں روکنے اور انسداد دہشت گردی کی دیگر اہم کارروائیاں جاری رکھنے کے لیے فوج کی نفری کی دستیابی پر اثرا پڑا ہے، جن میں سیکیورٹی چوکیوں پر فرائض کی انجام دہی کا کام بجا لانا بھی شامل ہے۔

ادھر افغان وزارت دفاع نے ان خبروں کو مسترد کیا ہےکہ سیکیورٹی فورسز کا عملہ وبا سے بڑے پیمانے پر متاثر ہوا ہے۔ وزارت دفاع نے کہا ہے کہ فوجی اڈوں اور دیگر تنصیبات میں وائرس کا پھیلاؤ روکنے کے لیے تمام ضروری اقدامات کیے گئے ہیں۔

ہفتے کے روز صحت عامہ کی وزارت نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ افغانستان میں کرونا وائرس انفکشن تیزی سے پھیل رہا ہے؛ اور تین کروڑ ستر لاکھ آبادی والے ملک میں تقریباً 33000 افراد مرض میں مبتلا ہیں جب کہ اب تک ملک میں 826 افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

ساتھ ہی اطلاعات ہیں کہ طالبان کے چوٹی کے کمانڈر اور عسکریت پسند بھی کرونا وائرس میں مبتلا ہیں، جب کہ وہ اس کی تردید کرتے ہیں۔

افغان حکام نے اس بات کی تصدیق کی ہے کہ حالیہ ہفتوں کے دوران باغیوں کے حملوں میں سیکیورٹی فورسز کے سینکڑوں اہلکار ہلاک و زخمی ہوئے ہیں۔ لڑائی میں بیسیوں شہری بھی ہلاک ہوئے ہیں۔

تشدد کی یہ کارروائیاں ایسے میں ہو رہی ہیں جب متحارب فریق افغان امن مذاکرات کے خواہاں ہیں، تاکہ جنگ بندی اور اقتدار میں شراکت کے معاملات پر بات چیت کی جا سکے۔

دریں اثنا، افغانستان میں تعینات نیٹو کے اعلیٰ سویلین نمائندے، اسٹیفنو پوتیکوروو نے خبردار کیا ہے کہ طالبان کی پرتشدد کارروائیاں بین الافغان امن مذاکرات کا سلسلہ جاری کرنے کی کوششوں میں حائل ہیں۔

پوتیکوروو نے یہ بیان ایک ٹوئٹر میسج میں دیا، جس سے قبل انھوں نے برسلز میں نیٹو ارکان کو افغانستان کی صورت حال کے بارے میں آگاہ کیا۔

بقول ان کے، ہم نے زمینی حقائق سے متعلق بات کی، طالبان کی پر تشدد کارروائیاں بند ہونی چاہیئں جو قابل قبول نہیں ییں، چونکہ ان کی وجہ سے مسائل پیدا ہو رہے ہیں، جو امن مذاکرات کی راہ میں رکاوٹ ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG