رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: بازار میں راکٹ حملہ، 23 عام شہری ہلاک


فائل فوٹو

افغانستان کے جنوبی صوبہ ہلمند کے ایک بازار میں پیر کے روز ہونے والے راکٹ حملے میں کم از کم 23 افراد ہلاک جب کہ 15 زخمی ہو گئے۔ علاقے کے مکینوں نے الزام لگایا ہے کہ ضلع سنگین میں طالبان کے ساتھ لڑائی کے دوران افغان سیکیورٹی فورسز نے یہ راکٹ داغے تھے۔

ہلمند کے گورنر کے دفتر نے ان الزامات کو مسترد کرتے ہوئے اس کا الزام طالبان پر عائد کیا ہے۔ طالبان کے ترجمان، قاری یوسف احمدی نے اس حملے میں اپنے گروپ کے ملوث ہونے کی تردید کی ہے۔

افغانستان کے سب سے بڑے صوبے کے بڑے علاقے پر طالبان کا کنٹرول ہے یا وہ اثر و نفوذ رکھتے ہیں، اور اکثر ہی سرکاری افواج پر حملے کرتے رہتے ہیں۔۔

افغانستان کے صدر اشرف غنی کے دفتر نے حملے کی مذمت کرتے ہوئے، طالبان پر زور دیا ہے کہ وہ امن بات چیت کیلئے تشدد کا راستہ چھوڑ دیں۔

پیر کے روز ہوئے اس حملے سے، ایک روز پہلے، صوبہ ہلمند ضلع واشیر میں سڑک کنارے نصب بم سے، گاڑی ٹکرانے سے 8 عام شہری ہلاک ہوئے تھے۔ گزشتہ ہفتے ، دارالحکومت کابل میں سڑک کنارے نصب بم پھٹنے سے انسانی حقوق کے قومی کمشن کے دو ارکان سمیت عطیہ کنندگان کی ایک خاتون رابطہ کار بھی ہلاک ہوئی تھیں۔

ابھی تک کسی نے حملے کی ذمہ داری قبول نہیں کی، حالانکہ افغان عہدیداروں نے طالبان پر بم نصب کرنے کا الزام عائد کیا تھا۔حالیہ دنوں میں اقوام متحدہ نے بارہا خبردار کیا ہے کہ افغان تنازعے سے عام شہریوں کی ہلاکتوں میں ریکارڈ سطح کا اضافہ ہوا ہے۔ تنظیم نے متحارب فریقین پر زور دیا ہے کہ وہ امن بات چیت کا آغاز کریں۔

اسی دوران، امریکہ بھی افغان حریفوں پر زور دے رہا ہے کہ وہ قیدیوں کے تبادلے کے عل میں تیزی لائیں، تا کہ بین الافغان مکالمے کی راہ ہموار ہو سکے۔ امریکہ اور طالبان کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے تحت، قیدیوں کا تبادلہ اور بین الافغان مکالمہ، جنگ کے خاتمے کیلئے، اہم ترین اقدمات ہیں۔

افغان حکومت نے اب تک طالبان کے کل 5 ہزار کل قیدیوں میں، 4 ہزار رہا کئے ہیں۔ دوسری جانب طالبان نے اپنے زیرِ حراست ایک ہزار افغان فوجی قیدیوں میں سے 600 سے کچھ اوپر کو رہا کر ریا ہے۔

افغانستان کیلئے امریکہ کے خصوصی ایلچی، زلمے خلیل زاد نے اس سال فروری میں طالبان کے ساتھ سنگ میل کی حیثیت رکھنے والا معاہدہ طے کیا تھا۔ خلیل زاد نے اتوار کے روز سے، امن معاہدے کے فروغ کیلئے پاکستان، ازبکستان اور قطر کا دورہ شروع کیا ہے۔

طالبان نے اپنا سیاسی دفتر، قطر میں قائم کیا ہے، جس کے دارالحکومت دوحہ میں امریکہ اور طالبان کے درمیان معاہدہ طے پایا تھا۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اسی شہر میں آئندہ ماہ کے اوائل میں بین الافغان بات چیت منعقد ہو گی۔

اتوار کے روز اپنے بیان میں امریکی دفتر خارجہ کا کہنا تھا کہ اپنے سہ ملکی دورے کے دوران، خلیل زاد افغان فریقین پر زور دینے کیلئے حمایت حاصل کرنے کی کوشش کریں گے کہ وہ بین الافغان مکالمے سے پہلے، اپنے وعدے پورے کریں۔ ان میں خصوصی طور پر تشدد میں کمی اور وقت پر قیدیوں کا تبادلہ شامل ہیں۔

دفتر خارجہ نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ اپنے دورے کے دوران، امریکی ایلچی اور ان کا وفد، کرونا وائرس سے پھیلنے والی عالمی وبا کی وجہ سے ویڈیو لنک کے ذریعے افغان عہدیداروں سے بات چیت کریں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG