رسائی کے لنکس

logo-print

نیٹو سربراہی اجلاس کا آخری دن: افغانستان کے مستقبل پر غور


شکاگو میں نیٹو سربراہ اجلاس کے دوسرے اور آخری دن عالمی راہنما دہشت گردی کے خلاف جاری جنگ کے ایک عشرے کے بعد کے منصوبوں میں اپنی توجہ افغانستان پر مرکوز کیے ہوئے ہیں ۔

عہدے داروں کوتوقع ہے کہ پیر کے اجلاس میں وہ 2014ء میں افغانستان سے زیادہ تر غیر ملکی افواج کے انخلا سے قبل اگلے سال کے وسط تک سیکیورٹی کی ذمہ داریاں افغان فورسز کو منتقل کرنے کے منصوبوں کو حتمی شکل دے دیں گے۔

صدر براک اوباما نے کہاہے کہ سیکیورٹی کی ذمہ داریوں کی منتقلی کے کام بخوبی عمل ہورہاہے۔ لیکن ان کا یہ بھی کہناتھا کہ غیر ملکی افواج کو اس وقت تک افغانستان خالی نہیں کرنا چاہیے جب تک وہ اپنی سیکیورٹی کی ذمہ داریاں سنبھال نہ لے۔

مسٹر اوباما نے کہا کہ ہم افغانستان کو تنہا نہیں چھوڑیں گے۔

نیٹو کے سربراہ اینڈرز فاگ راسمسن نے کہاہے کہ 2014ء کے آخرتک نیٹو کی زیر قیادت جنگی کاروائیاں ختم ہوجائیں گی۔ لیکن ان کا یہ بھی کہناتھا کہ افغان فورسز کی تربیت ، مشوروں اور مدد کے لیے 2014ء کے بعد بھی وہاں نیٹو کی موجودگی قائم رہ سکتی ہے۔

اس وقت افغانستان میں بین الاقوامی اتحاد کے تقریباً ایک لاکھ 30 ہزار فوجی موجود ہیں۔

گذشتہ ہفتے فرانس کے نو منتخب صدر فرانسوا اولانت نے اپنے اس وعدے کا ایک بار پھر اعادہ کیا کہ ان کا ملک اس سال کے آخر تک وہاں سے اپنے تمام فوجی نکال لے گا۔ افغانستان میں فرانس کے لگ بھگ 3300 فوجی موجود ہیں ۔

یہ بھی توقع کی جارہی ہے کہ نیٹو ممالک کے راہنما 2014ء کے بعد افغانستان کی سیکیورٹی فورسز کی مالی مدد پر بھی بات چیت کریں گے جن پر اخراجات کا سالانہ تخمینہ چار ارب ڈالر سے زیادہ ہے۔اس رقم کا بڑا حصہ امریکہ ادا کرے گا، جب کہ نیٹو اتحاد سے ایک ارب 30 کروڑ ڈالر سالانہ فراہم کرنے کے لیے کہا گیا ہے۔

XS
SM
MD
LG