رسائی کے لنکس

logo-print

نیٹو قافلے پر حملے میں 50 ٹرک تباہ،7افراد ہلاک


اس سال اگست تک افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کی تعداد ایک لاکھ 50 ہزار ہو جائے گی ۔ نیٹو کو رسد پہنچانے والے قافلوں پر پاکستان میں حملوں میں اضافے کے پیش نظر امریکہ نے متبادل راستوں کے لیے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بات چیت شروع کر رکھی ہے۔

افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کے لیے سامان لے جانے والے ایک بڑے قافلے پر جدیدہتھیاروں سے کیے گئے حملے میں 50سے زائد ٹرک تباہ اور کم از کم سات افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔

پولیس حکام نے بتایا ہے کہ یہ کارروائی منگل کی شب اسلام آباد کے نواحی علاقے سنگ جانی میں کی گئی اور اس میں ایک درجن سے زائد مسلح افراد نے حصہ لیا جو گاڑیوں اور موٹر سائیکلوں پر سوار تھے۔

عینی شاہدین کے مطابق ٹرکوں کا قافلہ ترنول چیک پوسٹ کے قریب کھڑا تھا اور نامعلوم حملہ آور وں نے ٹرمینل میں داخل ہوتے ہی اِن پر اندھا دھند فائرنگ شروع کردی جس سے کئی ٹرکوں میں فوری طور پر آگ لگ گئی۔

اس حملے میں کم از کم چھ افراد زخمی بھی ہوئے جنہیں فوری طور پر پمزہسپتال منتقل کردیا گیا جہاں ڈاکٹروں نے کچھ کی حالت تشویش ناک بیان کی ہے۔

پولیس نے علاقے کو گھیرے میں لے کر قریب کے جنگلات میں حملہ آوروں کی تلاش شروع کر رکھی ہے اور کچھ مشکوک افراد کو حراست میں بھی لیا گیا ہے ۔

وفاقی وزیر داخلہ رحمن ملک نے وائس آف امریکہ سے خصوصی گفتگو میں کہا ہے کہ اسلام آباد کے قریب نیٹو کے قافلے پر حملہ ایک غیر معمولی واقعہ ہے اس لیے انھوں نے وزارت داخلہ کے متعلقہ عہدے داروں کو حکم دیا ہے کہ وہ نیٹو کے قافلوں کی نقل و حرکت کے دوران ان کی حفاظت کے لیے ایک حکمت عملی وضع کریں جس سے نیٹو کو آگاہ کیا جائے گا تاکہ مستقبل میں سامان لے جانے والے یہ ٹرک بحفاظت اپنی منزل تک پہنچ سکیں۔

دریں اثناء اسلام آباد پولیس کے ڈپٹی انسپکٹر جنرل آپریشنز بن امین نے وائس آف امریکہ سے انٹرویو میں اس حملے کے حوالے سے سکیورٹی میں کوتاہی کا ذمے دار نجی کمپنیوں کو قرار دیا جن کے پاس رسد لے کر جانے کا ٹھیکہ تھا۔ ان کے مطابق نجی کمپنیوں نے نہ تو اپنے طور پر سکیورٹی کا کوئی مناسب انتظام کررکھا ہے اور نہ ہی پولیس سے سکیورٹی طلب کررکھی ہے۔

بن امین کا کہنا تھا کہ اگر پولیس کو بروقت اطلاع دی جاتی تو یقینا گودام اور گاڑیوں کو مناسب سکیورٹی دی جاتی تاہم اُنھوں نے بتایا کہ پولیس اور فائر بریگیڈ نے موقع پر پہنچ کر آگ پر قابو پالیا اور حملے محفوظ رہنے والے ٹرکوں کو بدھ کی صبح پولیس کی حفاظت میں افغانستان روانہ کردیا گیا۔

ایک سوال کے جواب میں انھوں نے بتایا کہ حملے میں علاقے کو گھیرے میں لینے کے بعد درجنوں گاڑیوں کو تباہ ہونے سے بچانے میں بھی کامیابی ہوئی ہے۔

افغانستان میں تعینات لگ بھگ ایک لاکھ تیس ہزار (130,000 ) بین الاقوامی افواج کے لیے 75 فیصد رسد کا سامان پاکستان کے راستے بھیجا جاتا ہے اور طالبان شدت پسند اِن قافلوں پر پہلے بھی حملے کرتے آئے ہیں۔ لیکن پاکستانی دارالحکومت اسلام آبادکے قریب اس طرح کی کارروائی پہلی مرتبہ کی گئی ہے۔

ُاعلیٰ پاکستانی عہدے داروں کے مطابق روزانہ لگ بھگ پانچ ہزار ٹرک پاکستان کے راستے نیٹو افواج کے لیے رسد کا سامان لے کر افغانستان جاتے ہیں ۔ نیٹو حکام کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی فوج کی تیل کی40 فیصد ضروریات بھی پاکستان کے راستے پوری کی جاتی ہیں۔

توقع ہے کہ اس سال اگست تک افغانستان میں تعینات نیٹو افواج کی تعداد ایک لاکھ پچاس ہزار(150,000) ہو جائے گی ۔ نیٹو کو رسد پہنچانے والے قافلوں پر پاکستان میں حملوں میں اضافے کے پیش نظر امریکہ نے متبادل راستوں کے لیے وسطی ایشیائی ریاستوں کے ساتھ بات چیت شروع کر رکھی ہے۔

XS
SM
MD
LG