رسائی کے لنکس

logo-print

افغانستان: نیٹو نے کورینگل وادی خالی کردی


افغانستان میں نیٹو نے اپنے دستے مشرقی حصے میں واقع وادی ِکورینگل سے نکال لیے ہیں جس کے بارے میں ان کا کہنا ہے کہ یہ ان کی اُس حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد زیادہ آبادی والے علاقوں کی حفاظت پر فوجیوں کی کوششوں کو مرکوز کرنا ہے۔

افغانستان میں بین الاقوامی فورسز کے جوائنٹ کمانڈر لیفٹیننٹ جنرل ڈیوڈ رارڈ ریگز نے بدھ کے روز ایک بیان میں کہا کہ یہ اقدام شورش کو کچلنے سے متعلق امریکہ کی اس نئی حکمت عملی کا حصہ ہے جس کا مقصد شورش پسندوں کو شہری مراکز سے نکالنا ہے۔ انہوں نے کہا کہ فوجی ضرورت پڑنے پر اب بھی وادی میں کسی بحرانی صورت حال میں مدد کرسکیں گے۔

نیٹو کے فوجی مشرقی افغانستان کی ان دوسری الگ تھلگ چوکیوں کو خالی کر چکے ہیں جو ماضی میں طالبان کے اڈوں کے طورپر استعمال ہوتی رہی تھیں۔

کورینگل وادی کو خاص طورپر خطرناک خیال کیا جاتا ہے کیونکہ اس کے پتھریلے اور پہاڑی علاقے کو شورش پسند، فوجیوں پر حملوں اور پڑوسی ملک پاکستان سے ہتھیار اور جنگ جوؤں کی اسمگلنگ کے لیے استعمال کرتے ہیں۔



XS
SM
MD
LG