رسائی کے لنکس

logo-print

سرکاری ملازم ریٹائر نہیں ہونا چاہتے، سید نوید قمر


Naveed Qamar

پیپلز پارٹی کے رہنما سید نوید قمر کا کہنا ہے کہ سیاستدانوں کے پاس یہ موقع ہوتا ہے کہ وہ دوبارہ وزیراعظم منتخب ہو سکتے ہیں۔ سرکاری ملازموں کی خواہش ہوتی ہے کہ وہ کسی عہدے پر پہنچنے کے بعد ریٹائر نہ ہوں اور کام کرتے رہیں۔

انھوں نے یہ بات وائس آف امریکہ کے ساتھ ’فیس بک لائیو‘ انٹرویو میں گفتگو کرتے ہوئے کہی۔

سید نوید قمر نے کہا کہ حکومت ایک ہی دن میں آرمی ایکٹ ترمیمی بل منظور کرانا چاہتی تھی۔ افواج پاکستان کے سربراہوں کی تقرری پر پارلیمنٹ کی نگرانی کے نہ ہونے کی وجہ سے پیپلز پارٹی کو تحفظات تھے۔ اسی وجہ سے اسے قائمہ کمیٹیوں میں بھیجا گیا۔

انھوں نے کہا کہ پیپلز پارٹی چاہتی تھی کہ جب کسی فوجی سربراہ کو ایکسٹینشن دینی ہو تو وزیراعظم نیشنل سیکیورٹی کمیٹی کو اعتماد میں لیں۔ اس کے علاوہ عدالتوں کے پاس نظر ثانی کی گنجائش ہونی چاہیے تھی۔

پیپلز پارٹی کو دوسری جماعتوں، خاص طور پر مسلم لیگ ن کی طرف سے کہا گیا کہ وہ بل کی غیر مشروط طور پر حمایت کریں گے۔اس کے بعد پیپلزپارٹی نے تنہائى سے بچنے کے لیے بل کی حمایت کرنے کا فیصلہ کیا۔

سید نوید قمر نے کہا کہ آڈٹ کا طریقہ کار بہتر ہونا چاہیے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کے پاس بھیجے گئے 90 فیصد کیس واپس لے لیے جاتے ہیں۔ آڈیٹر جنرل کے طرف سے فوج کے خریداری کے سودوں پر پندرہ اعتراضات اٹھائے گئے تھے، جن میں سے چودہ واپس لے لیے گئے۔ پبلک اکاؤنٹس کمیٹی کو اعتراض تھا کہ آڈیٹر جنرل کو اس کے پاس فائل بھیجنے سے پہلے ان اعتراضات کا تفصیلی جائزہ لینا چاہیے تھا۔

معیشت پر بات کرتے ہوئے سابق وزیر خزانہ سید نوید قمر نے کہا کہ اپوزیشن نے حکومت کو اقتدار سنبھالتے ہی معاشی چارٹر کا مشورہ دیا جو اس نے مسترد کر دیا تھا۔ اب اس پر آئى ایم ایف پروگرام کے بعد ہی کام ہو سکتا ہے۔ حکومت عوام سے جھوٹے وعدے کر رہی ہے۔ ابھی اور مشکل دن آئیں گے۔حکومت آئى ایم ایف پروگرام کے خلاف عوام کو ریلیف نہیں دے سکتی۔

سید نوید قمر کا کہنا تھا کہ آج تک ملک میں کرپشن روکنے کے لیےکوئى ادارہ نہیں بنا۔ نیب صرف سیاسی احتساب کر رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ سندھ میں پیپلز پارٹی کی حکومت کو بدنام کیا جاتا ہے۔ ایم کیو ایم کو سندھ حکومت میں شامل کرنے کی بات آگے نہیں بڑھ سکی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG