رسائی کے لنکس

logo-print

اسلام آباد ہائی کورٹ: راول ڈیم پر سیلنگ کلب کی تعمیر پر نیول چیف سے جواب طلب


فائل فوٹو

اسلام آباد ہائی کورٹ نے اسلام آباد کے راول ڈیم کے کنارے پاکستان بحریہ کے سیلنگ کلب کے خلاف دائر درخواست میں بحریہ کا تحریری جواب جمع نہ ہونے پر برہمی کا اظہار کیا ہے۔

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے ریمارکس دیتے ہوئے بحریہ کے نمائندے سے کہا کہ آپ کو جواب دینے کا کہا تھا کہ بتائیں کس قانون کے تحت آپ کلب بنا اور چلا سکتے ہیں؟

اسلام آباد میں راول ڈیم کے کنارے پاکستان نیوی کے سیلنگ کلب کی تعمیر کے خلاف دائر درخواست پر سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ نے کی۔

کیس کی سماعت شروع ہوئی تو چیف اطہر من اللہ جسٹس نے ریمارکس دیے کہ ایک عمارت بنی ہی غیر قانونی ہے۔ اس پر وفاقی ترقیاتی ادارہ (سی ڈی اے) اب کیا کر لے گا؟

جس پر ڈپٹی اٹارنی جنرل نے آگاہ کیا کہ معاملے پر اٹارنی جنرل کی رائے مانگی گئی ہے۔

چیف جسٹس نے کہا کہ عدالت نے کہا تھا کہ کابینہ کو بتائیں اسلام آباد میں قوانین پر عمل نہیں ہو رہا۔ کسی کو آگے سفارشات بھیجنے کے لیے نہیں کہا گیا تھا۔

چیف جسٹس نے مزید ریمارکس دیے کہ کسی غریب کا کھوکھا گرایا جائے تو اس پر کیا آپ اٹارنی جنرل کی رائے مانگیں گے؟

چیف جسٹس اطہر من اللہ نے مزید کہا کہ مسلح افواج کی وردی ہمارے لیے قابل عزت و احترام ہے۔ اس وردی کی لاج رکھنا مسلح افواج کا ہی کام ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ ابھی تک پاکستان بحریہ نے بھی جواب جمع نہیں کرایا۔

عدالت نے سات اگست کو نیول چیف کو کلب کی تعمیر سے متعلق تفصیلی جواب جمع کرانے کا حکم دیتے ہوئے سماعت ملتوی کر دی۔

گزشتہ سماعت پر عدالت نے کلب کو سیل کرنے کا حکم دیتے ہوئے معاملہ وفاقی کابینہ کے سامنے رکھنے کی ہدایت کی تھی اور ریمارکس میں کہا تھا کہ یہ کوئی قبائلی علاقے نہیں ہیں بلکہ وفاقی دارالحکومت ہے۔ پاکستان بحریہ نے کس قانون اور اتھارٹی کے تحت کمرشل پراجیکٹس شروع کیے ہیں؟

راول ڈیم کے کنارے سیلنگ کلب کا افتتاح رواں ماہ کیا گیا تھا۔ صرف افواج پاکستان کے موجودہ اور ریٹائرڈ اہلکاروں، بیوروکریٹس، کاروباری شخصیات اور سفارت کار اس کی رکنیت حاصل کر سکتے ہیں۔ افواج پاکستان کے حاضر سروس اور ریٹائرڈ ملازمین کے لیے ممبرشپ فیس 10 ہزار رہے، بیوروکریٹس کے لیے ڈیڑھ لاکھ روپے جب کہ تاجروں اور سفارت کاروں کے لیے چھ لاکھ روپے تک ہے۔

کلب کے افتتاح کے بعد سی ڈی اے حرکت میں آئی تھی اور 13 جولائی کو پاکستان نیوی سیلنگ کلب کو اس کی تعمیر پر نوٹس جاری کیا تھا۔

سی ڈی اے کے بلڈنگ کنٹرول سیکشن کے نوٹس کے مطابق پاکستان نیوی سیلنگ کلب کو ہدایت کی گئی تھی کہ وہ کلب کی عمارت کی غیر قانونی اور غیر مجاز تعمیر کو فوری طور پر روکے۔

نوٹس میں لکھا گیا تھا کہ ماضی میں بھی پاکستان نیوی کو متعدد بار نوٹس بھیجے گئے مگر انہوں نے غیر قانونی تعمیرات نہیں روکیں۔

پاکستان بحریہ کے شعبہ تعلقات عامہ کے ڈائریکٹر کمانڈر راشد نذیر نے وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے معاملہ عدالت میں ہونے کے باعث کلب کے قانونی یا غیر قانونی ہونے پر موقف دینے سے انکار کیا تھا۔ لیکن یہ بھی کہا تھا کہ جب سے یہ کلب بنا ہے پاکستان بحریہ کے غوطہ خور اب تک 54 شہریوں کو ڈوبنے سے بچا چکے ہیں۔

ان کے مطابق سیلنگ کلب میں غوطہ خوروں کی تربیت ہوتی ہے اور وہ شمالی علاقوں اور آزاد جموں و کشمیر میں ریسکیو آپریشن میں حصہ لیتے ہیں کیوں کہ ملک کے شمال میں اس طرح کی یہ واحد سہولت ہے۔

اس کلب کی منظوری 1991 میں اس وقت کے وزیرِ اعظم نواز شریف نے دی تھی اور 1992 سے یہ کلب روال ڈیم پر قائم ہے۔ لیکن اب اس کلب میں جدت لائی گئی ہے اور بیوروکریٹس، تاجروں اور سفارت کاروں کو کلب کی ممبر شپ کی پیشکش اب کی گئی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG