رسائی کے لنکس

logo-print

پانامہ لیکس سے ویڈیو لیکس اور جج ارشد ملک کی فراغت، معاملہ ہے کیا؟


اسلام آباد احتساب عدالت کے سابق جج ارشد ملک جن کی خدمات ہائی کورٹ کو واپس کر دی گئی ہیں۔

سابق وزیراعظم نواز شریف اس وقت لاہور کی کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔ مریم نواز ان کی رہائی کے لیے ہر ممکن کوشش کر رہی ہیں اور اس سلسلے میں ان کی ایک بڑی کوشش اس کیس میں فیصلہ دینے والے جج ارشد ملک کی ویڈیوز ہیں جن سے انہوں نے یہ ثابت کرنے کی کوشش کی کہ جج ارشد ملک نے دباؤ کے تحت فیصلہ دیا۔ لہذا یہ فیصلہ کالعدم قرار دیا جائے۔

فیصلہ تو ابھی تک کالعدم نہیں ہوا البتہ جج ارشد ملک اپنے عہدے سے فارغ ہو گئے ہیں۔پانامہ لیکس سے شروع ہونے والے کیس میں شروع سے آخر تک بہت کچھ ہوتا رہا ہے۔

پانامہ لیکس اور شریف فیملی

سابق وزیر اعظم نواز شریف اور ان کے بچوں کی مشکلات کا آغاز 3 اپریل 2016 کو اس وقت ہوا جب پاناما کی ایک لا فرم موزیک فونسیکا سے چرائی گئی ایک کروڑ 15 لاکھ دستاویزات صحافیوں کے ایک بین الاقوامی کنسورشیم کے ذریعے تحقیقات کے بعد لیک ہوئیں، جس سے دنیا بھر کے امیر افراد کے 'آف شور' کمپنیوں کے ذریعے چھپائے گئے اثاثوں کا انکشاف ہوا۔ ان دستاویزات میں نواز شریف سمیت کئی حکمرانوں کے نام سامنے آئے۔

پاناما لیکس سے یہ منکشف ہوا کہ اس وقت کے وزیراعظم نواز شریف کے بچوں کی آف شور کمپنیاں ہیں اور وہ لندن کے مہنگے ترین علاقے مے فیئر میں فلیٹس کے بھی مالک ہیں۔

اس انکشاف کے بعد مخالفین کی جانب سے یہ الزامات لگائے گئے کہ یہ اثاثے مبینہ طور پر منی لانڈرنگ کے ذریعے بنائے گئے ہیں۔ جس پر تحقیقات شروع ہوئیں اور معاملہ سپریم کورٹ میں پہنچا۔ سپریم کورٹ کے حکم پر قائم کردہ جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم نے چند ہفتوں کے دوران تحقیقات مکمل کیں جن کی روشنی میں سپریم کورٹ نے نواز شریف کو تاحیات نااہل قرار دیتے ہوئے نیب کو ریفرنس دائر کرنے کا حکم دیا۔

ریفرنس دائر

سپریم کورٹ کے 28 جولائی 2017 کے فیصلے کی روشنی میں نیب نے نواز شریف اور ان کے بچوں کے خلاف تین ریفرنس 8 ستمبر 2017 کو احتساب عدالت میں دائر کیے۔ نیب کے مطابق نواز شریف نے اپنی وزارت اعلیٰ اور وزارت عظمیٰ کے دوران حسن اور حسین نواز کے نام بے نامی جائیدادیں بنائیں۔

اس دوران بچے ان کے زیر کفالت تھے اور بچوں کے نام 16 آف شور کمپنیاں بنائی گئیں۔ 4.2 ملین پاؤنڈ کی سرمایہ کاری کے لیے بچوں کے پاس آمدن کا کوئی ذریعہ نہیں تھا۔ نواز شریف ہی العزیزیہ اور ہل میٹل کمپنی کے اصل مالک ہیں۔

شریف خاندان کا موقف تھا کہ جے آئی ٹی کی تفتیش جانبدارانہ ہے۔ بچوں نے دادا سے ملنے والی رقم کے ذریعے مل اور کمپنی بنائی۔ العزیزیہ سٹیل ملز قطری سرمایہ کاری سے خریدی گئی۔ حسن نواز کو کاروبار کے لیے سرمایہ بھی قطری شہزادے نے فراہم کیا، جس کی بنیاد پر فلیگ شپ کمپنی بنائی گئی۔ تمام جائیدادیں بچوں کے نام ہیں۔ نوازشریف کا ان جائیدادوں سے کوئی تعلق نہیں ہے۔

العزیزیہ ریفرنس

ریفرنس کے مطابق العزیزیہ اسٹیل ملز سعودی عرب میں 2001 میں جلاوطنی کے دوران نواز شریف کے صاحبزادے حسین نواز نے قائم کی جس کے بعد 2005 میں ہل میٹل کمپنی قائم کی گئی۔ نیب نے اپنے ریفرنس میں الزام لگایا کہ اسٹیل ملز اور ہل میٹل کمپنی کے اصل مالک نواز شریف تھے. جب کہ جے آئی ٹی نے اپنی رپورٹ میں کہا کہ نواز شریف نے ہل میٹل کمپنی سے بطور گفٹ 97 فیصد فوائد حاصل کیے اور بطور کمپنی عہدیدار تنخواہ بھی حاصل کی اور کمپنی کے نام سے اقامہ بھی ان کے پاس موجود تھا۔

فلیگ شپ ریفرنس

فلیگ شپ ریفرنسز نواز شریف کی آف شور کمپنیوں سے متعلق ہے اور انہی کمپنیوں میں ایک کمپنی 'کیپٹل ایف زیڈ ای' تھی جس میں نواز شریف کمپنی کے چیئرمین تھے۔ اسی کمپنی کی چیئرمین شپ کو بنیاد بناتے ہوئے سپریم کورٹ نے نواز شریف کو نااہل قرار دیا تھا۔ اس ریفرنس میں بھی نیب کی جانب سے الزام تھا کہ فلیگ شپ کمپنیوں کے اصل فوائد نواز شریف لے رہے تھے اور وہی ان کمپنیوں کے مالک ہیں۔

ایون فیلڈ ریفرنس

ایون فیلڈ ریفرنس لندن میں شریف خاندان کے فلیٹوں سے متعلق تھا، جس کے متعلق جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کا کہنا تھا کہ لندن کے مہنگے ترین علاقوں میں یہ فلیٹس خریدے گئے لیکن ان کی خریداری کے لیے منی ٹریل فراہم نہیں کی گئی۔ ان فلیٹس کی ملکیت میں مریم نواز کو بھی شامل قرار دیا گیا اور ان کی جانب سے فراہم کردہ ٹرسٹ ڈیڈ کو فانٹ میں فرق کی وجہ سے جعلی کہا گیا۔

نوازشریف اور مریم نواز کی عدالت میں پیشیاں اور سزا

مسلم لیگ ن کے قائد نواز شریف 26 ستمبر 2017 کو پہلی بار احتساب عدالت ميں پيش ہوئے۔ 19 اکتوبر 2017 کو العزیزیہ اور 20 اکتوبر کو فلیگ شپ ریفرنس میں نواز شریف پر فرد جرم عائد کی گئی۔ 20 اکتوبر کو ہی سابق وزیر اعظم کے صاحبزادوں حسن اور حسین نواز کو مفرور قرار دیا گیا۔ 18 دسمبر 2018 کو آخری سماعت تک پیشیوں کی تعداد 134 ہو گئی۔

احتساب عدالت نمبر ایک اور دو میں مجموعی طور پر 183 سماعتیں ہوئیں۔ نواز شریف 134 بار پیش ہوئے۔ 49 سماعتوں پر حاضری سے استثنیٰ دیا گیا۔ العزیزیہ سٹیل میں 22 اور فلیگ شپ ریفرنس میں 16 گواہوں کے بیانات قلمبند کیے گئے۔ نواز شریف نے اپنی صفائی میں ایک بھی گواہ پیش نہیں کیا۔

احتساب عدالت میں ریفرنسز کی 103 سماعتيں جج محمد بشير نے کیں جب کہ جج ارشد ملک نے باقی 80 سماعتیں کیں۔ لندن کے ایون فیلڈ فلیٹس کیس کا فیصلہ پہلے آ گیا جس میں احتساب عدالت نے نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی مریم نواز کو 7 سال اور داماد کیپٹن (ر) محمد صفدر کو ایک سال قید و جرمانے کی سزا سنائی تھی جسے بعد ازاں اسلام آباد ہائی کورٹ نے معطل کر دیا۔

بعد ازاں نواز شریف کو فلیگ شپ ریفرنس سے بری کر دیا گیا البتہ العزیزیہ سٹیل کیس میں احتساب عدالت نے سات سال قید، دس سال کے لیے کسی بھی عوامی عہدے پر فائز ہونے پر پابندی، ان کے نام تمام جائیداد ضبط کرنے کا فیصلہ دیا اور تقریباً پونے چار ارب روپے کا جرمانہ بھی عائد کیا۔

نوازشریف کی ضمانت

سابق وزیراعظم نے ریفرنسز میں سزائیں سنائے جانے کے بعد بھرپور عدالتی جنگ لڑی جو اب بھی جاری ہے۔ نوازشریف کو ایون فیلڈ ریفرنس میں ریلیف مل گیا ہے اور اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کی گئی ان کی درخواستوں پر نوازشریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی سزائیں معطل کر دی گئی ہیں، تاہم کیس کی سماعت ابھی جاری ہے۔

دوسری جانب العزیزیہ سٹیل مل کیس میں اب تک اسلام آباد ہائی کورٹ سے انہیں کوئی ریلیف نہیں مل سکا اور 24 دسمبر 2018 کو اسلام آباد کی احتساب عدالت کے جج ارشد ملک نے انہیں جو سزا سنائی اس پر انہیں گرفتار کر کے جیل منتقل کر دیا گیا تھا۔

مارچ 2019 میں سپریم کورٹ نے انہیں چھ ہفتوں کے لیے طبی بنیادوں پر ضمانت دی، لیکن اس میں توسیع نہ ہونے پر انہیں دوبارہ جیل بھیج دیا گیا۔

ویڈیو انکشافات پر مریم نواز کی پریس کانفرنس

مسلم لیگ (ن) نے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو جاری کی ہے، جس میں ان کا کہنا ہے کہ نواز شریف کو سزا دباؤ پر سنائی گئی۔ لاہور میں مسلم لیگ (ن) کے صدر شہباز شریف، نائب صدر مریم نواز، شاہد خاقان عباسی اور احسن اقبال نے مشترکہ پریس کانفرنس کی۔ شہباز شریف نے کہا کہ نواز شریف کو نیب ریفرنس میں سزا بدترین ناانصافی ہے۔ امید ہے انہیں ضرور انصاف ملے گا۔

پریس کانفرنس میں نواز شریف کو العزیزیہ ریفرنس میں سزا سنانے والے احتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی خفیہ ویڈیو دکھائی گئی جس میں انہوں نے ن لیگ کے ہمدرد ناصر بٹ کو اپنے گھر پر بلا کر ملاقات کی اور ان سے نواز شریف کے خلاف نیب ریفرنس کے فیصلے پر گفتگو کی۔

ارشد ملک نے ویڈیو میں مبینہ طور پر کہا کہ نواز شریف کو سزا سنانے کے بعد میرا ضمیر ملامت کر رہا ہے اور مجھے ڈراؤنے خواب آتے ہیں۔ میں اس کا ازالہ کرنا چاہتا ہوں۔ نواز شریف پر نہ ہی کوئی الزام ہے، نہ ہی کوئی ثبوت ہے۔ میں نے میاں صاحب سے زیادتی کی۔ جج نے کہا کہ نواز شریف تک یہ بات پہنچائی جائے کہ ان کے کیس میں جھول ہے اور ان کے خلاف ایک دھیلے کی بھی منی لانڈنگ کا ثبوت نہیں۔ جے آئی ٹی نے بیرون ملک جائیداد کی تحقیقات ہی نہیں کی۔ جج نے کہا کہ سزا کا فیصلہ قانون سے متصادم ہے اور کیس میں دوہرا معیار اپنایا گیا جو غیر قانونی ہے اور معاملات کو مشکوک بناتا ہے۔ لندن فلیٹس کا پاناما کیس سے کوئی تعلق نہیں بنا۔ حسین نواز پاکستانی شہری نہیں۔ حسین نواز کے متعلق کوئی ثبوت نہیں ملا کہ پیسے سعودی عرب بھجوائے گئے۔ ویڈیو میں جج ارشد ملک نے کہا کہ ان کی ایک غیر اخلاقی ویڈیو کے ذریعے انہیں نواز شریف کو سزا سنانے کے لیے بلیک میل کیا گیا۔

اس پریس کانفرنس میں مریم نواز کا کہنا تھا کہ وعدہ کیا تھا نوازشریف کے لیے آخری حد تک جاؤں گی اور انہیں مرسی نہیں بننے دوں گی۔ تو یہ وہ آخری حد ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس پریس کانفرنس کے بعد مجھے بھی خطرہ ہے۔ آج پوری دنیا نے دیکھ لیا کہ امپائر سے مل کر کون کھیلتا رہا۔ دھرنوں کے پیچھے کیا محرکات تھے۔ آج انہیں جاننے کی ضرورت نہیں رہی۔ عمران خان تم سلیکٹڈ ہو۔ تمہارے لیے نوازشریف کے خلاف بساط بچھائی گئی، اداروں کی بیساکھیاں چھوڑو میدان میں آ کر مقابلہ کرو۔

جج ارشد ملک کا ردعمل

7 جولائی کو حتساب عدالت کے جج ارشد ملک کی مبینہ ویڈیو سامنے آنے کے حوالے سے رجسٹرار احتساب کورٹ نے جج ارشد ملک کا تردیدی بیان جاری کیا جس میں ان کا کہنا تھا کہ مجھ پر بالواسطہ یا بلا واسطہ کوئی دباؤ نہیں تھا۔ کوئی لالچ بھی میرے پیش نظر نہیں تھا۔ میں نے یہ فیصلہ خدا کو حاضر ناظر جان کر قانون و شواہد کی بنیاد پر دیا۔

جج ارشد ملک نے اپنے بیان میں کہا کہ پریس کانفرنس کے ذریعے مجھ پر سنگین الزامات لگا کر میرے خلاف سازش کی گئی۔ الزامات لگا کر میرے ادارے، میری ذات اور میرے خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کی سازش کی گئی۔ مریم نواز کی پریس کانفرنس میں دکھائی گئی ویڈیو جعلی اور جھوٹی ہے۔ اس ویڈیو میں ملوث افراد کے خلاف قانونی چارہ جوئی کی جائے۔

انہوں نے کہا کہ میں راولپنڈی کا رہائشی ہوں جہاں میں جج بننے سے پہلے وکالت کرتا رہا ہوں۔ ویڈیوز میں دکھائے گئے کردار ناصر بٹ کا تعلق بھی اسی شہر سے ہے۔ میری ناصر بٹ سے پرانی شناسائی ہے۔ ناصر بٹ اور اس کا بھائی عبداللہ بٹ عرصہ دراز سے مختلف اوقات میں مجھ سے بے شمار دفعہ مل چکے ہیں۔ مریم نواز کی پریس کانفرنس کے بعد یہ ضروری ہے کہ سچ منظر عام پر لایا جائے۔

جج ارشد ملک نے بیان میں کہا کہ نوازشریف صاحب اور ان کے خاندان کے خلاف مقدمات کی سماعت دوران مجھے ان کے نمائندوں کی طرف سے رشوت کی پیش کش کی گئی۔ مجھے تعاون نہ کرنے کی صورت میں سنگین نتائج کی دھمکیاں بھی دی گئیں۔ دھمکیوں کو میں نے سختی سے رد کرتے ہوئے حق پر قائم رہنے کا عزم کیا۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کی کارروائی

اسلام آباد ہائی کورٹ کے چیف جسٹس جسٹس اطہر من اللہ اس وقت تعطیلات پر بیرون ملک ہیں اور ان کی عدم موجودگی میں جسٹس عامر فاروق قائم مقام چیف جسٹس کے طور پر کام کر رہے ہیں۔ جسٹس عامر فاروق نے جج ارشد ملک پر عائد الزامات کے پیش نظر چیف جسٹس سپریم کورٹ جسٹس آصف سعید کھوسہ سے بھی ملاقات کی۔ 11جولائی کو انہوں نے جج ارشد ملک سے بھی ملاقات کی۔

12 جولائی کی صبح جج ارشد ملک نے چیف جسٹس اسلام آباد ہائی کورٹ کو ایک خط تحریر کیا جس کے ساتھ ان کا ایک بیان حلفی بھی موجود تھا جس میں انہوں نے اس کیس میں اپنی بے گناہی ثابت کرنے کی کوشش کی۔ لیکن اس کے کچھ ہی دیر بعد ترجمان اسلام آباد ہائی کورٹ نے میڈیا کو آگاہ کیا کہ جج ارشد ملک کی خدمات وزارت قانون کو واپس کر دی گئی ہیں اور دوپہر کے وقت وزیر قانون فروغ نسیم نے اعلان کیا کہ ارشد ملک کو اسلام آباد کی احتساب عدالت سے فارغ کر کے ان کی خدمات لاہور ہائی کورٹ کو واپس کر دی گئی ہیں۔

جج ارشد ملک کا بیان حلفی

ذرائع کا کہنا ہے کہ جج ارشد ملک نے اپنے بیان حلفی میں کہا ہے کہ نوازشریف اور ان کے ساتھیوں کی طرف سے سماعت کے دوران بھی مجھ سے رابطہ کرنے اور ملنے کی کوشش کی جاتی رہی۔ سماعت کے دوران ان کی ٹون دھمکی آمیز ہو گئی۔ 16 سال پہلے ملتان کی ایک قابل اعتراض ویڈیو مجھے دکھائی دکھا کر تعاون کرنے کی دھمکی دی گئی۔

جج ارشد ملک کا کہنا تھا کہ مجھے رائے ونڈ بھی لے جایا گیا اور نوازشریف سے ملاقات بھی کرائی گئی۔ جج کے بیان حلفی میں کہا گیا ہے کہ ناصربٹ اور ایک اور شخص مجھ سے مسلسل رابطے میں رہا۔ فیملی کو بھی بتایا کہ میں شدید دباؤ میں ہوں اور دھمکیاں دی جا رہی ہیں۔ فیصلے کے بعد بھی مجھے دھمکیاں دی گئیں اورکہا گیا تعاون کریں۔ کہا گیا آپ ہمارے بتائے ہوئے جملے ایک ویڈیو میں ریکارڈ کر دیں ورنہ ویڈیو لیک کر دیں گے۔

جج ارشد ملک کے بیان حلفی میں کہا گیا ہے کہ جب میں عمرہ کرنے گیا تو وہاں حسین نواز سے ملاقات کرائی گئی۔ حسین نواز نے کہا ہم سے تعاون کریں۔ ہم آپ کو بیرون ملک سیٹ کر دیں گے۔ حسین نواز نے 25 اور پھر 50 کروڑ کی آفر کی۔ پیشکش قبول نہ کرنے کی صورت میں خطرناک نتائج کی دھمکیاں دیں اور کہا کہ آپ کو سعودی عرب سے پاکستان جانے کی ضرورت نہیں۔آپ یہاں یا کسی اور ملک جانا چاہتے ہیں تو دستاویزات بنوا دیں گے۔

بیان حلفی میں کہا گیا ہے کہ مہر جیلانی اور ناصرجنجوعہ سے میری پرانی شناسائی ہے۔ جب احتساب عدالت میں تعینات ہوا تو یہ دونوں آئے تھے۔ ناصرجنجوعہ نے کہا میرے کہنے پر آپ کی تعیناتی ہوئی۔ کیسز کی سماعت کے دوران ایک نجی محفل میں بھی ان سے ملاقات ہوئی۔ ناصر جنجوعہ نے مجھے کہا دونوں کیسز میں نواز شریف کو بری کریں۔ مجھے کہا گیا کہ ان کیسز میں بری کرنے پر میاں صاحب منہ مانگی رقم دیں گے۔ میں نے ناصر جنجوعہ کو کہا 56 سال 6 مرلہ کے گھر میں گزارے ہیں۔ کیسز کا فیصلہ اپنے حلف کے مطابق دوں گا۔ مجھے کچھ نہیں چاہئے۔ ناصرجنجوعہ نے کہا 10 ملین یورو دیے جا سکتے ہیں اور 2 ملین اس وقت میری گاڑی میں ہی موجود ہیں۔ میں نے رشوت سے انکار کیا اور واضح کیا کہ فیصلہ میرٹ پر کروں گا۔ رشوت سے انکار پر دبے الفاظ میں نقصان پہنچانے کی دھمکیاں دی گئیں۔

ارشد ملک نے کہا کہ ناصر بٹ نے پھر ملتان ویڈیو کی دھمکی دی۔ ناصر بٹ کے ساتھ شاید 6 اپریل کو جاتی امرا گیا تھا۔ میاں صاحب کے سامنے ناصر بٹ نے خود ہی بولنا شروع کر دیا۔ میں نے نواز شریف کو کہا ہل میٹل میں سزا میرٹ پر دی ہے اور فلیگ شپ میں نامکمل شواہد پر بری کیا۔ نواز شریف کو میری باتیں پسند نہیں آئیں اور ہم وہاں سے چلے گئے۔ بیان حلفی میں کہا گیا ہے کہ جاتی امرا سے واپسی پر ناصر بٹ نے غصے میں کہا کہ جاتی امرا میں آپ نے زبان کی لاج نہیں رکھی۔ آپ نے بات خراب کی۔ اب سزا کے خلاف اپیل میں میاں صاحب کی مدد کریں۔ میاں صاحب کے اطمینان کے لیے سزا کے خلاف اپیل پر تجاویز دیں۔ جس طرح کی بلیک میلنگ کی جا رہی تھی تو مجھے ناصر بٹ کی بات ماننی پڑی۔

ارشد ملک ویڈیو اسکینڈل سپریم کورٹ میں

جج ارشد ملک ویڈیو لیک اسکینڈل کیس سپریم کورٹ میں سماعت کے لیے مقرر کر دیا گیا ہے اور چیف جسٹس کی سربراہی میں 3 رکنی بینچ 16 جولائی کو اس کی سماعت کرے گا۔ یہ درخواست سابق ایم پی اے اشتیاق مرزا کی طرف سے دائر کی گئی ہے جس میں درخواست گزار نے ویڈیو لیک معاملے کی مکمل تحقیقات کی استدعا کی ہے۔

درخواست گزار کا کہنا ہے کہ جج ارشد ملک نے رشوت کی پیش کش کا جو الزام لگایا ہے وہ سنجیدہ نوعیت کا ہے اور 6 جولائی کی مریم نواز کی پریس کانفرنس کا ریکارڈ پیمرا سے طلب کیا جائے۔ درخواست کے مطابق اس ویڈیو سے یہ تاثر ملتا ہے کہ عدلیہ آزادی سے کام نہیں کرتی اور اس پر دباؤ ڈالا جاتا ہے۔ لہذا وفاقی حکومت کو ہدایت کی جائے کہ عدلیہ کی آزادی کے لیے اقدامات کرے۔

اب تک کی تمام کارروائی کے بعد مسلم لیگ(ن) نے نواز شریف کی سزا کا فیصلہ کالعدم قرار دینے کا مطالبہ کیا ہے، جب کہ حکومت کا کہنا ہے کہ سسلین مافیا اب دھمکیوں پر اتر آیا ہے اور جج ارشد ملک کو دھمکیوں کے ذریعے اپنی مرضی کا فیصلہ لینے کی کوشش کی گئی۔

نواز شریف اس وقت جیل میں ہیں۔ لیکن مریم نواز نے نوازشریف کی رہائی کے لیے جس انداز میں عدلیہ اور ریاستی اداروں پر وار کیا ہے اگر وہ کامیاب ہو گیا اور نواز شریف جیل سے باہر آ گئے تو مستقبل میں مسلم لیگ(ن) کی سیاست مریم نواز کے گرد ہی گھومے گی جس میں شہباز شریف اور ان کے بیٹے حمزہ شبہاز پس منظر میں جاتے نظر آ رہے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG