رسائی کے لنکس

بھارتی اخباروں میں پاکستان کی سپریم کورٹ کے فیصلے پر اداریے


روزنامہ انڈیا ایکسپریس لکھتا ہے کہ کچھ لوگ اس بات پر اصرار کر سکتے ہیں کہ عدلیہ شریف خاندان کی طرف سے اپنے دفاع کو مسترد کرنے میں حق بجانب ہے۔ مگر دوسرے لوگ یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے کے نااہل قرار دینا عدالت کا نہیں پارلیمنٹ کا کام ہے۔ اخبار کے مطابق ان قیاس آرائیوں کے باوجود کہ اس معاملے میں درپردہ فوج کا ہاتھ ہے، فوج کبھی بھی کھل کر سامنے نہیں آئی۔

سہیل انجم

بھارت کے تقریباً تمام بڑے اخباروں نے پاکستان کی سپریم کورٹ کی طرف سے نواز شریف کو وزارت عظمیٰ کے لیے ناہل قرار دیے جانے اور نواز شریف کے مستعفی ہونے پر اداریے اور تجزیاتی مضامین شائع کیے ہیں۔

کثیر الاشاعت انگریزی روزنامہ دی ٹائمس آف انڈیا نے اپنے اداریے میں لکھا ہے کہ اس فیصلے سے پاکستان مسلم لیگ نون کے وجود کو کوئی خطرہ نہیں۔ البتہ ایسی صورت میں جبکہ ایک سال کے بعد وہاں انتخابات ہونے والے ہیں، نواز شریف کی بے دخلی سے یقینی طور پر سیاسی مباحثہ تیز ہو جائے گا۔ اخبار کے مطابق بھارت پاک تعلقات کے حوالے سے اس واقعہ کی کوئی اہمیت نہیں۔ تاہم اس سے وہاں کی جمہوریت کو جو پہلے سے ہی نازک ہے، اور کمزور ہو جائے گی۔

روزنامہ ہندوستان ٹائمز کے مطابق عدالتی فیصلے نے نواز شریف کے اختیارات کمزور کر دیے ہیں جس سے فوج کی مدد ہوگی اور طاقت کا توازن فوجی جنرلوں کی طرف جھک جائے گا۔ سیاسی منظرنامہ سے نواز شریف کے ہٹ جانے کی وجہ سے پاکستان میں سیاسی اتھل پتھل ہوگی اور اس سے یقینی طور پر بھارت پاک رشتوں کو خطرہ لاحق ہوگا۔ اخبار نے اس پر شبہ ظاہر کیا ہے کہ اس صورت حال کا انتخابی فائدہ عمران خان کی پارٹی کو ہوگا۔

روزنامہ ڈی این اے لکھتا ہے کہ بھارت کے لیے حکمت عملی بہت سادہ سی ہے کہ اس بات کا انتظار کیا جائے کہ نواز شریف کا جانشین کسے بنایا جاتا ہے۔ اخبار کے خیال میں پاکستان میں سیاسی اتھل پتھل کو ہی دوام حاصل ہے سیاسی استحکام کو نہیں اور پاکستان کے عوام کو اسی صورت حال کے ساتھ جینا ہے۔

روزنامہ انڈیا ایکسپریس لکھتا ہے کہ کچھ لوگ اس بات پر اصرار کر سکتے ہیں کہ عدلیہ شریف خاندان کی طرف سے اپنے دفاع کو مسترد کرنے میں حق بجانب ہے۔ مگر دوسرے لوگ یہ دلیل دے سکتے ہیں کہ نواز شریف کو وزیر اعظم کے عہدے کے نااہل قرار دینا عدالت کا نہیں پارلیمنٹ کا کام ہے۔ اخبار کے مطابق ان قیاس آرائیوں کے باوجود کہ اس معاملے میں درپردہ فوج کا ہاتھ ہے، فوج کبھی بھی کھل کر سامنے نہیں آئی۔

ہندی روزنامہ نوبھارت ٹائمز اپنے اداریے میں لکھتا ہے کہ پاکستان میں جب بھی ایسی صورت حال پیدا ہوتی ہے فوج کے اقتدار پر قابض ہونے کا اندیشہ بڑھ جاتا ہے۔ حالانکہ کچھ لوگ یہ کہہ کر اس امکان کو مسترد کرتے ہیں کہ آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ سے نواز شریف کے اچھے رشتے ہیں۔ اخبار مشورہ دیتا ہے کہ بھارت کو بہت محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ کیونکہ بقول اس کے سیاسی غیر یقینی کا فائدہ اٹھا کر بھارت مخالف طاقتیں پہلے سے زیادہ سرگرم ہو سکتی ہیں۔

روزنامہ دینک ہندوستان پاکستان کی عدلیہ کی ستائش کرتے ہوئے لکھتا ہے کہ پاکستان میں بھلے ہی جمہوریت کو طویل عمر نہ ملتی ہو اور فوج من مانی کرتی ہو لیکن عدلیہ سرگرم اور آزاد ہے۔ اخبار نے بھارت میں ان لوگوں کے خلاف کارروائی نہ ہونے پر اظہار افسوس کیا جن کے نام پاناما پیپرس میں آئے تھے۔

کثیر الاشاعت اردو روزنامہ انقلاب کے مطابق اب سرگرم سیاست میں نواز شریف کی واپسی تقریباً ناممکن ہے۔ اس نے دیگر شعبوں میں بدعنوانی کے خلاف کارروائی نہ کیے جانے پر سوال اٹھایا ہے۔

روزنامہ راشٹریہ سہارا نے پیشین گوئی کی ہے کہ نواز شریف کی جماعت کو اب پہلے جیسی عوامی حمایت حاصل نہیں ہوگی اور عمران خان زیادہ طاقتور انداز میں ابھر کر سامنے آئیں گے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG