رسائی کے لنکس

شہباز شریف متبادل وزیر اعظم نامزد


فائل فوٹو

سپریم کورٹ کی طرف سے وزارت عظمیٰ کے لیے نااہل قرار دیے جانے کے بعد نواز شریف کی جگہ اس منصب کے لیے مسلم لیگ ن نے پنجاب کے وزیراعلیٰ شہباز شریف کے نام کی توثیق کی ہے جب کہ حزب مخالف نے اپنے رابطے اور مشاورت کا عمل تیز کر دیا ہے۔

جمعہ کو پاناما پیپرز معاملے پر سپریم کورٹ کے پانچ رکنی بینچ نے نواز شریف کو عوامی عہدے کے لیے نااہل قرار دیتے ہوئے ان کے اور ان کے بچوں کے خلاف احتساب بیوروں میں ریفرنس بھیجنے کا حکم دیا تھا۔

ہفتہ کو اسلام آباد میں ہونے والے مشاورتی اجلاس میں مسلم لیگ ن نے فیصلہ کیا کہ شہباز شریف قومی اسمبلی کی نسشت کے لیے انتخاب لڑیں گے اور اس عرصے کے دوران رکن قومی اسمبلی شاہد خاقان عباسی کو وزیراعظم کے منصب کے لیے نامزد کیا جائے گا۔

دوسری طرف حزب مخالف کی سب سے بڑی جماعت پاکستان پیپلزپارٹی کا کہنا ہے کہ وہ اپوزیشن کی دیگر جماعتوں سے مشاورت کر کے امیدوار میدان میں اتارے گی۔ اس کے لیے ان جماعتوں کا اجلاس آئندہ ہفتے متوقع ہے۔

حزب مخالف کی پاکستان تحریک انصاف نے بھی ہفتہ کو اسلام آباد میں موجودہ سیاسی صورتحال پر مشاورتی اجلاس طلب کر رکھا تھا جس کے بعد صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے وائس چیئرمین شاہ محمود قریشی کا کہنا تھا کہ نواز شریف کی خالی ہونےو الی قومی اسمبلی کی نشست پر ان کی جماعت کی طرف سے ڈاکٹر یاسمین رشید کو امیدوار کے طور پر میدان میں اتارا جائے گا۔

اپوزیشن کی ایک اور جماعت عوامی نیشنل پارٹی کے سربراہ اسفند یار ولی نے پشاور میں صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ انھیں سپریم کورٹ کے فیصلے پر تحفظات ہیں لیکن وہ اسے تسلیم کرتے ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ پارلیمنٹ کو اپنے اختیارات کو مضبوط بنانے کے لیے اقدام کرنا ہوں گے اور ان کی جماعت ملک میں جمہوریت اور اس کے تسلسل کی ہر کوشش کی حمایت کرتی ہے۔

سیاسی امور کے تجزیہ کار احمد بلال محبوب کہتے ہیں کہ موجودہ صورتحال میں مسلم لیگ ن سمیت تمام سیاسی جماعتوں کو فہم و فراست اور تدبر کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG