رسائی کے لنکس

logo-print

پاناما دستاویزات: وزیراعظم کا عدالتی کمیشن بنانے کا اعلان


منگل کی شب قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم نواز شریف کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ان پر اور ان کے اہلِ خانہ پر الزامات عائد کر رہے ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ حقائق عوام کے سامنے آئیں۔

پاکستان کے وزیرِاعظم میاں محمد نواز شریف نے پاناما دستاویزات کے نتیجے میں اپنے خاندان پر لگنے والے الزامات کی تحقیقات کے لیے عدالتِ عظمیٰ کے ریٹائرڈ جج پر مشتمل عدالتی کمیشن تشکیل دینے کا اعلان کیا ہے۔

منگل کی شب ٹیلی ویژن پر قوم سے خطاب کرتے ہوئے وزیرِاعظم پاکستان کا کہنا تھا کہ کچھ لوگ اپنے سیاسی مقاصد کے حصول کے لیے ان پر اور ان کے اہلِ خانہ پر الزامات عائد کر رہے ہیں لیکن وہ چاہتے ہیں کہ حقائق عوام کے سامنے آئیں۔

انہوں نے کہا کہ الزام لگانے والوں کو چاہیے کہ وہ عدالتی کمیشن کے سامنے پیش ہوں اور اپنے الزامات کے حق میں ثبوت پیش کریں۔

اپنے خطاب میں وزیرِاعظم میاں نواز شریف نے اپنے خاندان کے کاروبار اور اثاثوں کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ ان کا خاندان محنت اور دیانت داری سے اس مقام تک پہنچا ہے اور انہوں نے کبھی ایک پیسہ بھی غلط طریقے سےنہیں کمایا۔

انہوں نے کہا کہ وہ الزامات کی تازہ لہر کے مقاصد بخوبی سمجھتے ہیں لیکن وہ اپنی توانائیاں اس پر ضائع نہیں کرنا چاہتے۔

اپنے خطاب کے آغاز میں انہوں نے اپنے خاندانی پس منظر سے بھی قوم کو آگاہ کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ میں اپنی پوری سیاسی زندگی میں پہلی بار ذاتی حوالے سے کچھ کہنے کے لیے قوم کے سامنے حاضر ہوا ہوں۔ یہ گزارشات مجھے اس لیے کرنا پڑ رہی ہیں کیوں کہ مجھے اور میرے خاندان کو کچھ لوگ نشانہ بنارہے ہیں اور 25 سال سے لگائے جانے والے الزامات کو آج پھر دہرایا جارہا ہے۔

انہوں نے کہا کہ قیامِ پاکستان سے کئی سال قبل ان کے والد میاں محمد شریف نے لاہور میں اپنے کاروبار کا آغاز کیا تھا اور 'اتفاق فاوٴنڈریز‘ کی بنیاد ڈالی تھی جو قیام پاکستان تک ایک مستحکم کاروباری ادارہ بن چکا تھا۔

وزیرِاعظم کا اپنے خطاب میں کہنا تھا کہ دو جنوری 1972 کو اس وقت کے وزیرِاعظم ذوالفقار علی بھٹو کی حکومت نے ’اتفاق فاوٴنڈریز‘ کو قومیا لیا تھا لیکن ظلم و زیادتی کے باوجود والد صاحب کے حوصلے اور عزم میں کمی نہ آئی اور انہوں نے تباہ حال ڈھانچے کو دوبارہ اپنے پیروں پر کھڑا کیا۔ انہوں نے کہا کہ اس زمانے میں بھی ان کے والد قومی خزانے میں کروڑوں روپے جمع کراتے رہے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم سیاست میں آنے کے بعد بھی ذاتی انتقام کا نشانہ بنتے رہے۔ انہوں نے کہا کہ 1989ء میں ان کی فیکٹری کے لیے خام مال لانے والے ایک بحری جہاز کو ایک سال تک مال اتارنے کی اجازت نہیں دی گئی تھی جس پر انہیں 50 کروڑ کا نقصان برداشت کرنا پڑا۔

انہوں نے کہا کہ وہ اور ان کا خاندان سالہا سال تک یک طرفہ احتساب کے پل صراط پر چلتے رہے۔ سعودی بینکوں سے قرض لے کر مکہ میں کارخانہ لگایا۔ ہم سیاست میں آنے کے بعد بھی ذاتی انتقام کا نشانہ بنتے رہے اورقانون و انصاف کے ہر معتبر فورم سے سرخرو ہو کر نکلے۔ ہمارے کاروبار کو روک دیا گیا، تالے لگا دیے گئے۔ صرف اتنا کہوں گا کہ کرپشن سے کمانے والے اپنے نام کمپنی نہیں رکھتے۔

وزیراعظم نے کہا کہ ہم نے تو وہ قرض بھی اتارے ہیں جو ہم پر واجب بھی نہ تھے۔ میرے خاندان نے پونے چھ ارب کے واجب الادا قرضوں کی ایک ایک پائی ادا کی۔

انہوں نے کہا کہ ان کے صاحبزادے حسن نواز 1994ء سے لندن اور حسین نواز2000ء سے سعودی عرب میں مقیم ہیں۔

انہوں نے کہا کہ انہوں نے یا ان کے خاندان کے کسی فرد نے قومی امانت میں رتی بھر بھی خیانت نہیں کی۔

وزیراعظم نے الزامات کا جائزہ لینے کے لیے اعلیٰ سطحی عدالتی کمیشن قائم کرنے کے فیصلے سے قوم کو آگاہ کرتے ہوئے کہا کہ اعلیٰ سطح کے کمیشن کے سربراہ ریٹائرڈ جج ہوں گے۔ ان کا کہنا تھا کہ میں چاہتا ہوں اصل حقائق پوری قوم کے سامنے آجائیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ الزام لگانے والے اس کمیشن کے سامنے پیش ہوں اور اپنے موقف کے حق میں ثبوت پیش کریں۔

XS
SM
MD
LG