رسائی کے لنکس

logo-print

العزیزیہ کیس: نواز شریف کی سزا آٹھ ہفتے کے لیے معطل


سابق وزیر اعظم نواز شریف۔ (فائل فوٹو)

اسلام آباد ہائی کورٹ نے العزیزیہ اسٹیل مل کیس میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کی طبی بنیادوں پر ضمانت منظور کرتے ہوئے آٹھ ہفتے کے لیے ان کی سزا معطل کر دی ہے۔

درخواست کی سماعت اسلام آباد ہائی کورٹ کے جسٹس عامر فاروق اور جسٹس محسن اختر کیانی پر مشتمل دو رکنی بینچ نے کی۔ عدالت نے مختصر فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو آٹھ ہفتوں کے لیے ضمانت پر رہائی کا حکم دیا۔

عدالت نے حکم دیا کہ نواز شریف کو اپنی ضمانت کی توثیق کے لیے آٹھ ہفتے بعد آرٹیکل 401 کے تحت پنجاب حکومت سے رجوع کرنا ہو گا جو ضمانت میں مزید توسیع کا فیصلہ کرے گی۔

عدالتی کارروائی میں کیا ہوا؟

دوران سماعت قومی احتساب بیورو(نیب) نے نواز شریف کو مستقل ضمانت کی بجائے مخصوص وقت کے لیے ضمانت دینے پر زور دیا۔ نیب کے وکیل نے بتایا کہ رواں سال بھی سپریم کورٹ نے نواز شریف کو طبی بنیادوں پر چھ ہفتے کے لیے ضمانت پر رہا کیا تھا۔ عدالت نے کیس نمٹانے کے لیے نواز شریف کے وکیل خواجہ حارث کو چار آپشنز دیے۔ جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ ضمانت پر رہائی کا معاملہ حکومت کے سپرد کیا جا سکتا ہے۔ نواز شریف کی سزا نیب کی تجویز کردہ مدت تک کے لیے معطل کی جا سکتی ہے یا ہم آپ کی درخواست منظور یا مسترد کر سکتے ہیں۔ خواجہ حارث نے معاملہ انتظامیہ کے سپرد کرنے کی مخالفت کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت نواز شریف کی شدید مخالف ہے۔

اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔
اسلام آباد ہائی کورٹ کے دو رکنی بینچ نے درخواست کی سماعت کی۔

جسٹس محسن اختر کیانی نے کہا کہ وزیر اعظم یا وزیر اعلٰی کسی پارٹی کا نہیں بلکہ ملک اور صوبے کا ہوتا ہے۔ خواجہ حارث نے کہا کہ آپ آئین اور قانون کے تحت اس درخواست کا فیصلہ کر دیں۔ اٹارنی جنرل نے تو عبوری ضمانت کی بھی مخالفت کی تھی۔

سماعت مکمل ہونے پر عدالت نے محفوظ فیصلہ سناتے ہوئے نواز شریف کو آٹھ ہفتوں کے لیے ضمانت پر رہا کرنے کا حکم دیا۔

بعد ازاں عدالت نے نواز شریف کی سزا معطلی کا مختصر تحریری فیصلہ بھی جاری کر دیا ہے جس کے تحت نواز شریف کی ضمانت پر رہائی کے لیے 20، 20 لاکھ روپے کے دو مچلکے جمع کرانے کا حکم دیا گیا ہے۔

فیصلے کے مطابق نواز شریف کی آٹھ ہفتوں کے لیے رہائی کی مدت ضمانتی مچلکے داخل کیے جانے کے بعد شروع ہو گی۔ سابق وزیرِ اعظم سزا معطلی کی مدت پوری ہونے کے بعد بھی طبعیت ناساز رہنے کی صورت میں پنجاب حکومت سے رجوع کر سکیں گے۔

فیصلے میں لکھا گیا ہے کہ صوبائی حکومت جب تک نواز شریف کی درخواست پر فیصلہ نہیں کرے گی ان کی ضمانت برقرار رہے گی اور اگر نوازشریف نے صوبائی حکومت سے رابطہ نہ کیا تو آٹھ ہفتوں کی مدت کے بعد ان کی ضمانت ختم تصور کی جائے گی۔

مسلم لیگ ن کا ردعمل

فیصلے کے بعد مسلم لیگ ن کے سیکریٹری جنرل احسن اقبال نے ذرائع ابلاغ کو بتایا کہ موجودہ حکومت نواز شریف کے کیس میں انصاف کرنے کی پوزیشن میں نہیں ہے۔ احسن اقبال نے کہا کہ نواز شریف کی خرابی صحت کے ذمہ دار وزیر اعظم عمران خان ہیں۔ عدالتی فیصلے پر احسن اقبال نے کہا کہ بہتر ہوتا کہ عدالت آٹھ ہفتے کی تلوار لٹکائے بغیر ضمانت کا فیصلہ دیتی۔

احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان نے امریکہ میں تقریر کے دوران نواز شریف کے لیے اپنے تعصب کا برملا اظہار کیا ہے۔ اور انہوں نے سب کے سامنے کہا کہ وہ وطن واپس جا کر ان سے سہولتیں واپس لیں گے۔ احسن اقبال نے کہا کہ عمران خان کے اس بیان کے بعد نواز شریف سے طبی سہولتیں بھی واپس لے لی گئیں۔ احسن اقبال نے کہا کہ ہم عمران خان کو متنبہ کرتے ہیں کہ اگر نواز شریف کو کچھ ہوا تو اس کی براہ راست ذمہ داری ان پر عائد ہو گی۔

حکومت کا ردعمل

وزیر اعظم پاکستان کی معاون خصوصی برائے اطلاعات فردوس عاشق اعوان کا کہنا تھا کہ ہم امید کرتے ہیں جس مقصد کے لیے نواز شریف کو ضمانت دی گئی ہے وہ پورا ہو گا۔ ان کا کہنا تھا کہ ہم بیمار اور کمزور نواز شریف کی بجائے صحت مند اور توانا نواز شریف کا سیاسی محاذ میں مقابلہ کرنا چاہتے ہیں۔

وزیر اعلٰی پنجاب کی عدالت آمد

دوران سماعت پنجاب کے وزیر اعلٰی سردار عثمان بزدار عدالت میں پیش ہوئے اور بتایا کہ سابق وزیر اعظم نواز شریف سروسز اسپتال میں علاج کی سہولیات سے مطمئن ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے استفسار کیا کہ آپ کو بلانے کا مقصد یہ پوچھنا تھا کہ پنجاب کی جیلوں میں قیدیوں کو کیسی سہولیات دی جاتی ہیں۔ جس پر عثمان بزدار نے جواب دیا کہ انہوں نے ایک سال میں پنجاب کی آٹھ جیلوں کا دورہ کیا ہے وہاں قیدیوں کو مناسب سہولیات فراہم کی جا رہی ہیں۔

جسٹس عامر فاروق نے ریمارکس دیے کہ قیدیوں کی طبی بنیادوں پر رہائی کے لیے انتظامیہ کے پاس اختیارات موجود ہیں۔ انتظامیہ آرٹیکل 401 کے تحت ان معاملات کی ذمہ داری خود کیوں نہیں لیتی۔

مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف، پرویز رشید سمیت دیگر عدالت کے باہر موجود ہیں۔
مسلم لیگ ن کے رہنما خواجہ آصف، پرویز رشید سمیت دیگر عدالت کے باہر موجود ہیں۔

میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش

سماعت کے دوران سروسز اسپتال لاہور کے میڈیکل سپریڈینٹ(ایم ایس) ڈاکٹر سلیم چیمہ نے نواز شریف کی میڈیکل رپورٹ عدالت میں پیش کی۔ نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان بھی عدالت میں موجود تھے۔

سروسز اسپتال کے ایم ایس نے عدالت کو بتایا کہ نواز شریف کی صحت تسلی بخش نہیں ہے۔ انہیں دل، گردوں اور بلڈ پریشر کا عارضہ لاحق ہے۔

انہوں نے بتایا کہ انتہائی پروفیشنل ڈاکٹرز پر مشتمل ٹیم نواز شریف کا علاج کر رہی ہے۔ تاہم ایک مرض کا علاج شروع کر دیتے ہیں تو دوسرا مرض سر اٹھا لیتا ہے۔ ایم ایس نے بتایا کہ دوران علاج نواز شریف کو ہارٹ اٹیک کی شکایت ہوئی۔ نواز شریف کو خون پتلا کرنے کے لیے دل کی ادویات دی جاتی ہیں لیکن اس سے پلیٹ لیٹس کی تعداد کم ہو جاتی ہے۔ ڈاکٹر نے بتایا کہ عام آدمی کے پلیٹ لیٹس کی تعداد ایک لاکھ تک ہونی چاہیے۔

نواز شریف کے ذاتی معالج ڈاکٹر عدنان نے عدالت میں بتایا کہ وہ 20 سال سے نواز شریف کی صحت کے معاملات دیکھ رہے ہیں۔ لیکن نواز شریف کو اتنا بیمار پہلے کبھی نہیں دیکھا۔ ڈاکٹر عدنان نے کہا کہ انہیں خدشہ ہے کہ کہیں ہم نواز شریف کو کھو نہ دیں۔

نواز شریف کو لاحق مرض قابلِ علاج ہے: ڈاکٹر شمسی
please wait

No media source currently available

0:00 0:01:15 0:00

ہفتے کو اسلام ہائی کورٹ کے چیف جسٹس اطہر من اللہ اور جسٹس محسن اختر کیانی نے شہباز شریف کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئے منگل تک نواز شریف کی عبوری ضمانت منظور کی تھی۔

نواز شریف سات روز سے لاہور کے سروسز اسپتال میں زیر علاج ہیں۔ نواز شریف کو پلیٹ لیٹس کم ہونے کے باعث نیب حوالات سے اسپتال منتقل کیا گیا تھا۔ انہیں چوہدری شوگر مل کیس میں نیب نے حراست میں لیا تھا جس پر لاہور ہائی کورٹ نے جمعے کو انہیں ضمانت دے دی تھی۔ جب کہ العزیزیہ اسٹیل مل کیس میں گزشتہ سال احتساب عدالت نے انہیں سات سال قید کی سزا سنائی تھی۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG