رسائی کے لنکس

ڈکٹیٹر کو وطن واپس لانے کی کسی میں جرأت نہیں: نواز شریف


فائل فوٹو

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ججز احتساب عدالت کے سپروائزر بن کر بیٹھ گئے ہیں۔ ہدایت بھی دی جارہی ہے اس کو بھی لے آؤ اور اس کو بھی لے آؤ لیکن کسی میں جرات نہیں کہ ڈکٹیٹر کو پاکستان واپس بلالے۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف نے کہا ہے کہ ان کے خلاف عدالتِ عظمیٰ کے فیصلے کو نہ انہوں نے قبول کیا ہے اور نہ ہی قوم قبول کرے گی اور اقامے کی خفت مٹانے کے لیے انہیں احتساب عدالت سے سزا دلانے کی کوشش ہورہی ہے۔

منگل کو اسلام آباد میں احتساب عدالت کی کارروائی کور کرنے والے کورٹ رپورٹرز سے ملاقات میں سابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ جب ان کے خلاف کوئی ثبوت نہیں ملا تو معاملے کو ختم کردینا چاہیے تھا لیکن جب معاملہ ختم ہونے کی طرف جاتا ہے تو اسے جان بوجھ کر لٹکا دیا جاتا ہے۔

انہوں نے دعویٰ کیا کہ ان کے خلاف کوئی ثبوت نہ ہونے کا ان ججوں کو بھی علم ہے جنہوں نے پاناما کیس کا فیصلہ دیا۔

سابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ آئے روز ان کے اور شہباز شریف کے خلاف ریفرنسز دائر کیے جا رہے ہیں لیکن کسی میں جرات نہیں کہ وہ ڈکٹیٹر کو وطن واپس لے آئے۔

انہوں نے کہا کہ نیب والے تحقیقات کے نام پر قومی خزانے کے خرچ پر بیرونِ ملک جاتے ہیں اور سیر سپاٹے کرکے واپس آجاتے ہیں۔ جو ضمنی ریفرنس لائے جارہے ہیں ان کا کیا مقصد ہے؟ اب مزید کیا کرنا چاہتے ہیں؟ ججز کو کیس اختتام تک پہنچانا چاہیے لیکن اب ان کے بقول جج بھی خفت سے بچنا چاہتے ہیں۔

نواز شریف کا کہنا تھا کہ ججز احتساب عدالت کے سپروائزر بن کر بیٹھ گئے ہیں۔ ہدایت بھی دی جارہی ہے اس کو بھی لے آؤ اور اس کو بھی لے آؤ لیکن کسی میں جرات نہیں کہ ڈکٹیٹر کو پاکستان واپس بلالے۔

انہوں نے کہا کہ ویسے تو عدالتوں میں کئی کئی سال تک فیصلے نہیں ہوتے لیکن ان کے خلاف فیصلہ چھ ماہ میں کرنے کا کہا گیا ہے۔ غریبوں کو چاہیے کہ وہ اپنے کیس میں نواز شریف لکھ دیا کریں تو فیصلے جلد آئیں گے کیوں کہ بقول ان کے ججز کو ان سے خاص محبت ہے۔

انہوں نے چیف جسٹس ثاقب نثار کا نام لیے بغیر لاہور کے ایک اسپتال کے ان کے دورے پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ جج اسپتالوں ضرور جائیں مگر اپنے گھر کی بھی خبر لیں۔

نوازشریف کا کہنا تھا کہ انہوں نے کبھی اختیارات سے تجاوز، کرپشن، سرکاری عہدے کا ناجائز یا اپنے منصب کا غلط استعمال نہیں کیا۔

انہوں نے کہا کہ ان کا قصور یہ ہے کہ جب وہ وزیرِ اعظم تھے تو اسٹاک ایکسچینج میں 19 ہزار سے 53 ہزار تک اضافہ ہوا۔ سڑکیں بنائیں۔ دہشت گردی اور لوڈ شیڈنگ کا خاتمہ ہوا۔ لیکن انہیں شاباش دینے کے بجائے کیس بنادیے گئے۔

شہبازشریف سے اختلاف کے حوالے سے سابق وزیرِ اعظم کا کہنا تھا کہ انہیں اور شہباز شریف کو الگ کرنے کا شوشہ اسحاق خان کے دور سے شروع ہوا۔ پرویز مشرف کے زمانے میں بھی یہ کوشش کی گئی لیکن کسی کو کامیابی نہیں ملی اور اب اس خواہش کی تکمیل کو چھوڑ دینا چاہئے۔

نواز شریف منگل کو بھی اسلام آباد کی احتساب عدالت میں پیش ہوئے تھے جہاں ان کے خلاف قومی احتساب بیورو کی جانب سے دائر ریفرنسز کی سماعت ہورہی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG