رسائی کے لنکس

logo-print

نواز اور مریم کی طرف سے اپیل پیر کو دائر کی جائے گی


فائل فوٹو

میریم اور صفدر کے وکلاء کی ٹیم میں شامل نسیم ثقلین نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کرنے کے لیے اپپل تیار کر لی گئی ہیں۔

نواز شریف، مریم نواز اور کیپٹن صفدر کی طرف سے احتساب عدالت کے فیصلے کے خلاف پیر کو اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کی جائے گی ۔

اس کے ساتھ ہائی کورٹ میں احتساب عدالت کے فیصلے کو معطل کرنے کے لیے بھی الگ سے درخواستیں دائر کی جائیں گی۔

اس بات کی تصدیق پاکستان مسلم لیگ نواز کے سینٹر پرویز رشید اور مریم نواز اور ان کے شوہر کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کی قانونی ٹیم میں شامل نسیم ثقلین نے اتوار کو وائس آف امریکہ سے گفتگو کرتے ہوئے کی۔

میریم اور صفدر کے وکلاء کی ٹیم میں شامل نسیم ثقلین نے کہا کہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کرنے کے لیے اپپل تیار کر لی گئی ہیں۔

انہوں نے کہا "ٹرائل کورٹ کے فیصلے کے خلاف اسلام آباد ہائی کورٹ میں اپیل دائر کرنے کے لیے مریم صفدر اور کیپٹن (ریٹائرڈ) صفدر کی طرف سے اپیلیں تیار کر لی ہیں اور یہ ممکنہ طور پر پیر کو دائر کی جائیں گی۔ اس میں قانونی اور حقائق کے جو بھی جواز میسر ہیں ان کو بنیاد بنا کر یہ اپیل فائل کریں گے۔"

دوسری طرف مسلم لیگ (نواز ) کے سینیٹر پرویز رشید نے بھی اس بات کی تصدیق کی ہے کہ وکلا کی ایک دوسری ٹیم نوازشریف کی طرف سے اسی طرح کی اپیل پیر کو ہی اسلام آباد ہائی کورٹ میں دائر کرے گی۔

مریم اور صفدر کی قانونی ٹیم کے رکن نسیم ثقلین نے مزید کہا کہ اس کے علاوہ اسلام آباد ہائی کورٹ میں نواز شریف، مریم اور صفدر کی طرف سے احتساب عدالت کے فیصلے کو معطل کرنے کی الگ الگ درخواستیں بھی دائر کی جائیں گی۔

"اس کے ساتھ ان کی سزا کو معطل کرنے کے لیے عدالت سے درخواست کریں گے کہ احتساب عدالت کی طرف سے (نواز، مریم اور صفدر) کو سنائی گئی سزائیں معطل کر تے ہوئے انہیں ضمانت پر رہا کیا جائے۔"

انہوں نے کہا کہ "چونکہ نیب کے قانون میں ضمانت سے متعلق کوئی پرویژن موجود نہیں ہے اس لیے ہم اس کو (ضمانت کو ) حاصل کرنے کے لیے معزز عدالت کی رٹ سے متعلق دئے گئے دائر ہ سماعت کو استعمال کریں گے۔"

دوسری طرف اطلاعات کے مطابق وفاقی وزارتِ قانون کی جانب سے جاری کیے جانے والے نوٹیفکیشن کے مطابق اسلام آباد کی احتساب عدالت نمبر ايک نواز شریف کے خلاف العزیزیہ اسٹیل ملز اور فلیگ شپ ریفرنسز کا ٹرائل جیل میں ہی کرے گی۔

مسلم لیگ کے سینٹر پرویز رشید نے جیل کے اندر نواز شریف اور دیگر کے خلاف جیل میں ٹرائل کرنے کے فیصلے پر تحفظات کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ صاف و شفاف اور اوپن ٹرائل آئین کے تحت ہر شہری کا حق ہے اور اگر ایسا ہوتا ہے تو اس فیصلے کے خلاف قانونی چارہ جوئی کریں گے۔

اس بار ے میں وزارت قانون کے عہدیداروں کا ردعمل جاننے کے درخواست کے باوجود ان کا موقت تاحال سامنے نہیں آیا ہے۔ تاہم بتایا گیا ہے کہ یہ فیصلہ سیکورٹی وجوہات کی بنا پر کیا گیا ہے۔

واضح رہے کہ 6 جولائی کو اسلام آباد کی احتساب عدالت نے بدعنوانی کے ایک مقدمے میں سابق وزیر اعظم نواز شریف کو 10 سال، ان کی صاحبزادی کو 7 سال اور ان کے داماد کپٹن صفدر کو ایک سال قید کی سزائیں سنائی ہیں اور جمعہ 13 جولائی کو وطن واپسی پر احتساب عدالت کے حکام نے نواز اور مریم کو گرفتار کر کے اڈیالہ جیل منتقل کر دیا گیا ہے جہاں کپٹی صفدر پہلے ہی سے قید ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG