رسائی کے لنکس

بارہ اکتوبر سے پہلے نواز شریف کی پیشی


سابق وزیر اعظم نواز شریف کو جمعے کو احتساب عدالت لایا گیا۔

سابق وزیر اعظم نواز شریف کو آج سے 20 سال قبل بھی سنگین صورتِ حال کا سامنا تھا اور آج بھی اُن کے لیے حالات سازگار نہیں۔ تب بھی وہ اسٹیبلشمنٹ کے نشانے پر آ گئے تھے اور آج بھی اسٹیبلشمنٹ اُنہیں سکھ کا سانس نہیں لینے دے رہی۔

نواز شریف کا جارحانہ انداز:

گیارہ اکتوبر 2019 کو پہلے سے سزا یافتہ پاکستان کے سابق وزیر اعظم نواز شریف کو چوہدری شوگر ملز کیس میں پہلے نیب نے گرفتار کیا اور احتساب عدالت میں پیش کیا۔ عدالت پیشی کے موقع پر نواز شریف خاصے پر اعتماد اور اپنے مؤقف پر ڈٹ جانے والے نظر آئے۔ ایک لمحے کو یوں لگا کہ شاید نواز شریف عرصے سے اِس پیشی کا انتظار کر رہے ہیں۔ تاکہ ذرائع ابلاغ کے سامنے ایک مرتبہ پھر سے اپنا موقف عوام کے سامنے اور میڈیا کے توسط سے "اُن" کو دے سکیں۔

سرکاری پہرہ داروں، نواز شریف کی حفاظت پر مامور سرکاری اہلکاروں اور مسلم لیگ ن کے حامی وکلا کے ہوتے ہوئے کیمرے اُن تک پہنچانا تو ناممکن تھا۔ مگر موبائل فون کے کیمروں کے ذریعے میاں صاحب نے ایک مرتبہ پھر اپنے عزم اور نعرے کو دہراتے ہوئے کہا کہ وہ آج بھی اپنے نعرے ’ووٹ کو عزت دو‘ پر قائم ہیں۔

بقول ان کے "مجھ پر کوئی کیس نہیں ہے۔ میں صرف ووٹ کو عزت دو کے نعرے کی وجہ سے آج یہاں پر ہوں۔ میں یہ سمجھتا ہوں کہ یہی ووٹ کو عزت دو دنیا بھر میں پاکستان کو عزت کا مقام دلائے گی۔ پاکستان کی عزت دنیا میں بڑھائے گی اور اگر ہم نے دنیا میں عزت کمانی ہے تو اپنے لوگوں کو پہلے عزت دینی ہو گی۔ اگر یہ سمجھتے ہیں کہ ووٹ کو عزت دو والوں کو ڈرا لیں گے تو ہم ان سے ڈرنے والے نہیں ہیں۔"

سابق وزیر اعظم نے کہا کہ "مولانا صاحب نے 2018 کے الیکشن کے فوراً بعد مؤقف اپنایا تھا کہ اسمبلیوں سے استعفٰے دیں۔ انہوں نے کہا تھا کہ ہم احتجاج کریں گے۔ اُس وقت ہم نے کہا کہ نہیں۔ لیکن میں سمجھتا ہوں کہ مولانا کی بات میں اُس وقت وزن تھا۔ آج میں سمجھتا ہوں کہ مولانا صاحب کی بات کو رد کرنا بالکل غلط ہو گا۔ کل میں نے شہباز شریف صاحب کو اپنا موقف لکھ کر بھیجا ہے وہ جلد سب کو آگاہ کریں گے۔ ہم مولانا صاحب کے جذبے کو بھی بہت سراہتے ہیں۔"

نواز شریف نے اپنی گفتگو جاری رکھتے ہوئے کہا کہ آج انہیں اکبر الہ آبادی کا ایک شعر یاد آ رہا ہے۔ انھوں نے کہا کہ: "اکبر نے سنا ہے اہل غیرت سے یہی، جینا ذلت سے ہو تو مرنا اچھا."

شعر سناتے ہوئے میاں صاحب خاصے جارحانہ موڈ میں نظر آئے اُن کے لہجے اور چہرے پر تلخی نمایاں تھی۔

تجزیہ کاروں کی رائے:

سینئر صحافی اور تجزیہ کار حامد میر کہتے ہیں کہ نواز شریف کا آج یہ کہنا کہ انہوں نے مولانا صاحب کی بات کو رد کیا تھا۔ اُس وقت نواز شریف صاحب اور مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی جو ملاقات ہوئی تھی اُس میں دونوں کا الگ الگ موقف تھا۔ وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے حامد میر نے کہا کہ اُب اگر نواز شریف صاحب اِس لیے یہ کہہ رہے ہیں کہ مولانا صاحب کی بات کو رد کرنا غلط تھا تو وہ جیل میں ہیں اور نیب نے انہیں ایک اور مقدمے میں گرفتار کر لیا ہے تو یہ اُن کی ذاتی رائے ہو سکتی ہے۔

بقول حامد میر "اِس حکومت کو کم از کم چھ مہینے ایک سال دیں تا کہ یہ حکومت عوام کے سامنے ایکسپوز ہو جائے اور اُس کے بعد لوگ خود بخود کہیں گے کہ ہماری اِس حکومت سے جان چھڑائی جائے۔ یہ متحدہ اپوزیشن کا فیصلہ تھا اور مولانا فضل الرحمٰن استعفوں کے حامی تھے۔ باقی کوئی بھی پارٹی استعفوں کی حامی نہیں تھی اور بعد میں انہی فضل الرحمٰن نے صدارتی الیکشن میں حصہ بھی لے لیا تھا۔ مولانا فضل الرحمٰن صاحب کی جماعت خود اسمبلی میں آ کر بیٹھ گئی تھی اور انہی کی جماعت کے رہنما خیبرپختونخوا اسمبلی میں قائد حزب اختلاف بنے."

سینئر صحافی اور تجزیہ کار احمد ولید سمجھتے ہیں پاکستان میں سول قیادت اور اسٹیبلشمنٹ ماضی میں آمنے سامنے رہے ہیں۔ نوے کی دہائی میں دو، ڈھائی سال بعد ہی سویلین حکومت ختم ہوتی رہی ہے۔ ان کے بقول 1999 میں جب نواز شریف کی حکومت ختم کی گئی تو اس وقت نواز شریف اپنے قریبی ساتھیوں کو یہ بتاتے تھے کہ وہ ملک میں سویلین بالادستی قائم کرنا چاہتے ہیں۔

وائس آف امریکہ سے بات کرتے ہوئے احمد ولید نے کہا کہ اُس وقت نواز شریف کہا کرتے تھے کہ اب ایسا نہیں ہو گا کہ سویلین بالادستی کو کوئی دبائے۔ احمد ولید نے کہا کہ اُس وقت نواز شریف نے ایک بیان پر اس وقت کے آرمی چیف جنرل جہانگیر کرامت سے استعفی بھی لے لیا تھا۔ جب کہ ان کے بھائی شہباز شریف نے انہیں ایسا کرنے سے منع بھی کیا تھا۔

احمد ولید کہتے ہیں کہ "بارہ اکتوبر سے پہلے نواز شریف کو ایک نئے کیس میں عدالت میں پیش کیا گیا۔ اِس سے قبل ڈیل کی باتیں چل رہی تھیں۔ نواز شریف اور مریم دونوں خاموش ہو گئے جس سے ڈیل کا تاثر بڑھنے لگا۔ لیکن اب یہ واضح ہو گیا ہے کہ نواز شریف پیچھے ہٹنے کو تیار نہیں۔ نواز شریف نے دبنگ انداز میں کہہ دیا کہ وہ پیچھے نہیں ہٹیں گے چاہے انہیں گوانتاناموبے جیل یا کالا پانی ہی لے جائیں۔ نواز شریف اِس وقت اسٹیبلشمنٹ کے ساتھ جارحانہ موڈ میں ہیں۔

قانون کے مطابق کسی بھی سزا کاٹنے والے مجرم کو ایک نئے کیس میں عدالت میں پیش کیا جا سکتا ہے۔ قانونی ماہر ایڈوکیٹ آفتاب مقصود کہتے ہیں کہ قانون میں یہ گنجائش موجود ہے کہ پولیس یا تفتیشی ایجنسی کسی بھی نئے کیس میں پہلے سے سزا یافتہ قید مجرم کو نئے کیس میں گرفتار کر کے ریمانڈ حاصل کر سکتی ہے۔ انھوں نے بتایا کہ ایسی صورت میں مجرم کی پہلے والی سزا برقرار رہے گی اور ساتھ ساتھ چلتی رہے گی۔

انھوں نے کہا کہ "سی آر پی سی کا سیکشن ایک سو اکسٹھ، ایک سو باسٹھ، ایک سو سڑسٹھ، تین سو چوالیس اور نیب کا سیکشن چوبیس کے تحت کسی بھی ملزم کو جیل سے نئے کیس میں گرفتار کیا جا سکتا ہے اور اُس کا ریمانڈ لیا جا سکتا ہے۔ عدالت ضروی سمجھے تو ملزم کا ریمانڈ دے سکتی ہے۔"

12 اکتوبر 1999:

جنرل ریٹائرڈ پرویز مشرف کی جانب سے بارہ اکتوبر 1999 کو لگائے گئے مارشل لا کو 20 سال ہو گئے ہیں، جب انہوں نے اُس وقت کے منتخب وزیر اعظم کو معزول کر کے اقتدار پر قبضہ کیا تھا۔

بارہ اکتوبر 1999 کو اُس وقت کے وزیر اعظم نے لیفٹیننٹ جنرل ضیاالدین بٹ کو جنرل کے عہدے پر ترقی دے کر نیا آرمی چیف بنایا۔ لیکن جبری ریٹائر کیے گئے آرمی چیف پرویز مشرف نے وزیر اعظم کا یہ فیصلہ قبول نہ کیا۔

پرویز مشرف کے وفادار ساتھی جرنیلوں نے کراچی ائیرپورٹ سمیت اہم مقامات پر قبضہ کیا۔ ٹرپل ون برگیڈ کے فوجی اہلکار وزیر اعظم سیکرٹریٹ پہنچے جہاں نواز شریف کو بندوق کے زور پر معزول کرکے پابند سلاسل کردیا گیا۔ جس پر خصوصی عدالت میں پرویز مشرف کے خلاف سنگین غداری کا مقدمہ زیر سماعت ہے جبکہ پرویز مشرف اِن دنوں بیمار ہیں اور وہ طویل علالت کے باعث عرصہ دراز سے دبئی میں ہیں۔

نواز شریف آج بھی العزیزیہ ملز کیس میں احتساب عدالت کی جانب سے کوٹ لکھپت جیل میں قید ہیں۔ بیس سال قبل بھی نواز شریف جیل میں تھے اور بیس سال بعد بھی نواز شریف جیل کی سلاخوں کے پیچھے ہیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG