رسائی کے لنکس

logo-print

کمرہ عدالت میں مریم نواز کی سیلفیوں پر جج برہم


مریم نواز کمرہ عدالت میں داخل ہوئیں تو ان کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں نے کمرے کی کنڈی لگا دی تاکہ مزید لوگ اندر نہ آ سکیں۔

پنجاب کے صوبائی دارالحکومت لاہور کی احتساب عدالت میں مریم نواز کو جوڈیشل ریمانڈ میں توسیع کے لیے پیش کیا گیا تو اُس موقع پر کارکنان کی بڑی تعداد وہاں موجود تھی جو کمرہ عدالت تک جاپہنچی۔

سابق وزیرِ اعظم نواز شریف کی صاحبزادی مریم نواز اپنے شوہر محمد صفدر، پاکستان مسلم لیگ (ن) کی ترجمان مریم اورنگ زیب، رکن پنجاب اسمبلی عظمٰی بخاری اور دیگر کے ہمراہ کمرہ عدالت میں داخل ہوئیں تو پہلے سے موجود افراد نے اُن کے ساتھ سیلفیاں لینا شروع کردیں۔

جیسے یہ حکومت آئی تھی ویسے ہی واپس بھی جائے گی: مریم نواز
please wait

No media source currently available

0:00 0:00:58 0:00

مریم نواز کے کمرہ عدالت میں داخل ہونے کے بعد اُن کی سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں نے کمرے کی کنڈی لگا دی تاکہ مزید لوگ اندر نہ آ سکیں۔

احتساب عدالت کے جج جواد الحسن کمرہ عدالت میں داخل ہوئے تو اس کے باوجود سیلفیوں کا سلسلہ جاری رہا جس پر جج نے برہمی کا اظہار کرتے ہوئے کمرہ عدالت میں موبائل فون بند کرنے اور اِسے استعمال نہ کرنے کا حکم دیا۔

سماعت شروع ہوئی تو جج نے مریم نواز اور عباس یوسف کو روسٹرم پر طلب کیا تاہم رش کے باعث مریم نواز کو بیٹھنے کی اجازت دے دی گئی۔ جس پر مریم نواز مسلم لیگ ن کے مرکزی رہنما امیر مقام اور اپنے شوہر محمد صفدر کے ساتھ کرسی پر بیٹھ گئیں۔

کمرہ عدالت میں جج کی موجودگی میں شور شرابہ اور سیلفیاں لی جاتی رہیں۔
کمرہ عدالت میں جج کی موجودگی میں شور شرابہ اور سیلفیاں لی جاتی رہیں۔

دوران سماعت مریم نواز کے وکیل امجد پرویز نے عدالت سے درخواست کی کہ اُنہیں اُن کے مؤکل کے ساتھ علیحدگی میں ملنے دیا جائے۔ جس پر عدالت نے درخواست منظور کرتے ہوئے کہا کہ صرف وکلاء کی ٹیم مل سکتی ہے۔ اگر کوئی اور غیر متعلقہ شخص ملاقات میں شریک ہوا تو اُس کے ذمہ دار آپ ہوں گے۔

عدالت نے مریم نواز اور اُن کے چچا زاد بھائی عباس یوسف کا مزید چودہ روزہ جوڈیشل ریمانڈ منظور کرتے ہوئے انہیں دوبارہ 23 اکتوبر کو عدالت کے روبرو پیش کرنے کا حکم دیا۔

مریم نواز عدالت سے باہر نکلیں تو صحافیوں کی بڑی تعداد ان سے بات چیت کے لیے وہاں موجود تھی۔ لیکن اُن کے ذاتی محافظوں، سیکیورٹی پر مامور اہلکاروں، پارٹی کارکنوں اور دیگر کے ہوتے ہوئے ایسا کرنا ناممکن تھا۔

عدالت نے مریم نواز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی۔
عدالت نے مریم نواز کے جوڈیشل ریمانڈ میں 14 روز کی توسیع کردی۔

مریم نواز سے ایک صحافی نے ​مولانا فضل الرحمٰن کے آزادی مارچ سے متعلق سوال کیا تو انہوں نے کہا ’جس غلط طریقے سے یہ حکومت آئی تھی اُسی طرح واپس جائے گی انشاءاللہ۔‘

مریم نواز اِن دنوں کوٹ لکھپت جیل لاہور میں قید ہیں۔ انہیں قومی احتساب بیورو (نیب) نے چوہدری شوگر ملز کیس میں رواں سال آٹھ اگست کو اس وقت گرفتار کیا تھا جب وہ جیل میں قید اپنے والد سے ملاقات کے لیے وہاں پہنچیں تھیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG