رسائی کے لنکس

چار روز کی مسافت کے بعد نواز شریف کی لاہور آمد


چار روز قبل اسلام آباد سے قافلے کی صورت میں براستہ جی ٹی روڈ سفر کا آغاز کرنے والے سابق وزیراعظم نواز شریف ہفتہ کی شام اپنی منزل لاہور کی حدود میں داخل ہوگئے جن کے ساتھ حکمران جماعت مسلم لیگ ن کے کئی راہنما اور کارکنوں کی ایک بڑی تعداد بھی ریلی کی صورت میں یہاں پہنچی۔

شاہدرہ کے مقام پر نواز شریف اپنے کارکنوں سے خطاب کریں گے جہاں تیار کیے گئے خصوصی پنڈال میں سہ پہر ہی سے کئی ایک سینیئر راہنما یہاں موجود لوگوں کے سامنے کی جانے والی تقاریر میں اپنی جماعت کے موقف کا اعادہ کرتے رہے۔

گزشتہ تین دنوں میں وہ ایک رات راولپنڈی اور دوسری جہلم میں گزار چکے ہیں جب کہ ہفتہ کی شام گوجرانوالہ پہنچنے پر اپنے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد سے خطاب کے بعد انھوں نے یہ رات یہیں بسر کرنے کا فیصلہ کیا تھا۔

ہفتہ کی صبح گوجرانوالہ سے لاہور کے لیے روانگی سے وقت بھی گردونواح سے کارکنوں کی ایک بڑی تعداد اس ریلی میں شریک ہوئی جب کہ وزیر خارجہ خواجہ آصف سیالکوٹ سے کارکنوں کا ایک قافلہ لے کر نواز شریف کی ریلی میں شریک ہوئے۔

لاہور کے راستے میں بھی کارکنان موجود تھے اور مریدکے پہنچنے پر نواز شریف نے وہاں موجود مسلم لیگ ن کے کارکنوں اور حامیوں سے خطاب کرتے ہوئے ایک بار پھر اسی موقف کو دہرایا کہ انھوں نے کوئی کرپشن نہیں کی اور انھیں جس انداز سے عہدے سے ہٹایا گیا وہ کسی طور بھی مناسب نہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ "آپ نے مجھے وزیراعظم بنا کر اسلام آباد بھیجا اور چند لوگوں نے مجھے واپس بھیج دیا۔ مجھے بتاؤ کیا آپ لوگوں کو یہ فیصلہ قبول ہے، کیا آپ کو اپنے مینڈیٹ کی یہ توہین قبول ہے؟"

نواز شریف نے مزید کہا کہ "یہ ایک مذاق ہے اور پاکستانی اس فیصلے کو رد کرتے ہیں۔"

عدالت عظمیٰ کی طرف سے پاناما پیپرز معاملے پر سنائے گئے فیصلے کے نتیجے میں نا اہل قرار پانے کے بعد نواز شریف گزشتہ ماہ وزات عظمیٰ کے منصب سے علیحدہ ہوئے تھے اور بدھ کو انھوں نے اسلام آباد سے اپنے آبائی شہر لاہور کے لیے براستہ جی ٹی روڈ ریلی کی صورت میں سفر کا آغاز کیا تھا۔

اپنے اس سفر کے دوران حامیوں سے کیے جانے والے اپنے خطاب میں وہ اپنے اسی موقف کو دہراتے ہوئے آ رہے ہیں کہ ان پر بدعنوانی کا کوئی الزام ثابت نہیں ہوا اور اب وقت آ گیا ہے کہ عوام کے ووٹ کا احترام کیا جائے۔

گوجرانوالہ میں بھی اپنے خطاب میں ان کا کہنا تھا کہ عوام کے مینڈیٹ کو رد کرتے ہوئے انھیں منصب سے فارغ کر دیا گیا۔

ہفتہ کو لاہور میں گجو متہ سے شاہدرہ تک چلنے والی میٹرو بس سروس صرف ایم اے او کالج تک ہی چلے گی۔

ان تمام علاقوں میں مسلم لیگ ن کے حامیوں کی طرف سے بڑے بڑے خیرمقدمی بینرز اور پوسٹرز آویزاں کیے گئے ہیں۔

حزب مخالف نواز شریف کے ریلی اور اس میں کی جانے والی تقاریر کو عدلیہ کی توہین اور اداروں سے متعلق عدم اعتماد پیدا کرنے کی کوشش قرار دیتی ہے لیکن مسلم لیگ ن ان دعوؤں کو مسترد کرتی ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG