رسائی کے لنکس

logo-print

پاپ سنگر نازیہ حسن کو بچھڑے 19 برس بیت گئے


فائل فوٹو

ماضی کی معروف پاپ گلوکارہ اور پاکستان میں پاپ موسیقی کے بانیوں میں شمار کی جانے والی نازیہ حسن کی 19 ویں برسی پر شائقین ان کی مدھر آواز میں گائے ہوئے گیتوں کو یاد کر رہے ہیں۔

نازیہ حسن اگر آج زندہ ہوتیں تو 54 برس کی ہوتیں۔

پاپ گلوکارہ، وکیل اور سماجی کارکن نازیہ حسن 3 اپریل، 1965 کو کراچی میں پیدا ہوئیں۔ انہوں نے موسیقی کے اپنے کیریئر کی ابتدا دس سال کی عمر میں کی۔ تاہم جب انہوں نے 15 برس کی عمر میں بالی ووڈ کی فلم ’’قربانی‘‘ کے لیے گانا ’’آپ جیسا کوئی میری زندگی میں آئے تو بات بن جائے‘‘ گایا تو وہ شہرت کی بلندیوں پر پہنچ گئیں اور انہیں فلم فیئر ایوارڈ سے نوازا گیا۔

بعد میں انہوں نے اپنے بھائی زہیب حسن کے ساتھ مل کر متعدد البم ریلیز کیے، جن میں ’’بوم بوم‘‘ (1982) ، ’’ینگ ترنگ‘‘ (1984) اور ’’ہاٹ لائن‘‘ (1987) شامل ہیں۔

ان کا آخری البم ’’کیمرہ کیمرہ‘‘ (1992) منشیات کے خلاف ملک گیر مہم کا حصہ تھا۔

ان کے گیتوں ’’ڈسکو دیوانے‘‘، ’’تیری میری ایسی دوستی‘‘، ’’بوم بوم‘‘، ’’تیرے لیے‘‘، ’’لیکن میرا دل‘‘، ’’آؤ ناں‘‘ اور ’’دل کی لگی‘‘ نے شائقین کو اپنا گرویدہ بنا لیا۔

نازیہ حسن کا کیریئر 15 برس پر محیط رہا اور اس دوران گلوکاری اور شو بز کے میدان کی سب سے مقبول شخصیات میں شمار ہوتی رہیں۔

نازیہ حسن نے 1992 میں گلوکاری ترک کر دی اور 30 مارچ، 1995 کو ایک کاروباری شخصیت مرزا اشتیاق بیگ سے شادی کر لی۔ لیکن وہ شادی سے پہلے ہی کینسر کے موذی مرض میں مبتلا ہو چکی تھیں۔

7 اپریل، 1997 کو ان کا بیٹا عارض حسن پیدا ہوا۔

انہیں اپنی زندگی کے آخری ایام میں یہ دکھ بھی سہنا پڑا کہ وفات سے محض دس روز قبل انہیں طلاق ہو گئی۔

نادیہ حسن نے اپنی زندگی آخری سال پھیپھڑے کے کینسر کے خلاف لڑتے ہوئے گذارے اور 13 اگست، 2000 کو وہ لندن میں 35 برس کی عمر میں انتقال کر گئیں۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG