رسائی کے لنکس

logo-print

شام میں جنگ بندی کے باوجود جاری لڑائی میں 50 افراد ہلاک


تشدد کے یہ واقعات ترکی کی سرحد کے قریب ادلیب صوبے اور حلب کے شمال میں واقع شہروں میں پیش آئے۔

شام میں جمعہ کو لڑائی کے مختلف واقعات میں 50 افراد ہلاک ہو گئے ہیں یہ ہلاکتیں اس عارضی جنگ بندی کے وقفہ کے آخری دن ہوئیں جس کا اعلان شامی فوج نے رمضان کے مہینے کے اختتام پر منائے جانے والے عید کے تہوار کے لیے کیا تھا۔

تشدد کے یہ واقعات ترکی کی سرحد کے قریب ادلیب صوبے اور حلب کے شمال میں واقع شہروں میں پیش آئے۔

شام میں جنگ پر نظر رکھنے والی تنظیم سیرئین آبزرویٹری فار ہیومن راٹس کا کہنا ہے کہ ادلیب صوبے میں واقع گاؤں درخوش میں ہونے والی فضائی کارروائیوں میں دو بچوں سمیت 23 افراد ہلاک ہوئے۔

یہ واضح نہیں ہے کہ آیا یہ حملہ شامی یا روسی جنگی جہازوں نے کیا ہے۔ یہ علاقہ القاعدہ سے منسلک النصرہ گروپ سمیت کئی باغیوں گروپوں کے اتحاد کے کنٹرول میں ہے۔

سیرئین آبزرویٹری کے مطابق حلب شہر کے باہر متعدد بچوں سمیت کم ازکم 25 افراد ہلاک ہوئے۔ باغیوں نے مارٹر گولوں سے یہ حملہ اس وقت کیا جب سرکاری فوجوں نے باغیوں کے زیر کنٹرول اہم سپلائی لائن پر قبضہ کرنے کے لیے پیش قدمی کی۔

شامی حکومت کی طرف سے عیدالفطر کے موقع پر 72 گھنٹوں کے لیے عارضی جنگ بندی کا وقفہ جمعہ کو ختم ہو گیا۔ اس عارضی جنگ بندی پر شاید ہی عمل کیا گیا ہو اور مبصرین کا ماننا ہے کہ عارضی جنگ بندی کا اطلاق بدھ سے ہونا تھا تاہم تمام فریقوں نے اس کے بعد بھی لڑائی جاری رکھی۔

XS
SM
MD
LG