رسائی کے لنکس

logo-print

دنیا بھر میں تقریباً 50 کروڑ افراد بے روزگار ہیں: اقوام متحدہ


رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 15 سے 24 سال کی عمر کے 26 کروڑ 70 لاکھ نوجوان روزگار، تعلیم یا تربیت حاصل نہیں کر پا رہے۔

اقوام متحدہ نے اپنی ایک رپورٹ میں کہا ہے کہ دنیا بھر میں تقریباً 50 کروڑ افراد یا تو بے روزگار ہیں یا انہیں جزوی بے روزگاری کا سامنا ہے جس کے باعث معاشرتی بدامنی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

رپورٹ کے مطابق سال 2009 سے 2019 تک دنیا بھر میں ہڑتالوں اور احتجاجی تحریکوں کی تعداد میں اضافہ نوٹ کیا گیا جس کی وجوہات میں یہ امر بھی شامل تھا کہ زیادہ تر بے روزگار افراد ان تحریکوں اور ہڑتالوں کا حصہ بنے۔

فرانس کے خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' نے اقوامِ متحدہ کی ذیلی تنظیم انٹرنیشنل لیبر آرگنائزیشن (آئی ایل او) کی رپورٹ کے حوالے سے بتایا ہے کہ گزشتہ برس بے روزگاری کی شرح پانچ اعشاریہ چار فی صد تھی جس میں تبدیلی کی توقع نہیں کی جارہی تھی لیکن رواں برس کے اختتام تک بے روزگاری کی مجموعی تعداد میں اضافے کا امکان ہے۔

رپورٹ میں معاشی سست روی اور آبادی میں اضافے کو بے روزگاری میں اضافے کی اہم وجہ قرار دیا گیا ہے۔

رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ 15 سے 24 سال کی عمر کے 26 کروڑ 70 لاکھ نوجوان روزگار، تعلیم یا تربیت حاصل نہیں کر پا رہے۔

آئی ایل او نے اپنی سالانہ ورلڈ ایمپلائمنٹ اینڈ سوشل آؤٹ لک رپورٹ میں کہا کہ سال 2019 میں رجسٹرڈ بے روز گار افراد کی تعداد 18 کروڑ 80 لاکھ تھی جو رواں سال کے اختتام تک 19 کروڑ 50 لاکھ ہونے کی توقع ہے۔

فائل فوٹو
فائل فوٹو

آئی ایل او کے سربراہ گائے رائڈر کے مطابق عالمی سطح پر روزگار کی شرح میں گزشتہ دس برسوں کے دوران اضافہ نہیں ہوا جس سے لاکھوں محنت کش افراد کے لیے بہتر زندگی گزارنا مشکل تر ہو گیا ہے۔

گائے رائڈر کا کہنا ہے کہ زیادہ اور کم آمدنی والے ملازم پیشہ افراد کے درمیان فاصلہ انتہائی غیر مساوی ہے۔ زیادہ آمدنی والے 20 فی صد افراد کو جو رقم کمانے میں ایک سال لگتا ہے، کم آمدنی والوں کو یہ رقم کمانے میں 11 سال لگ جاتے ہیں۔ یہ صورتِ حال اندازے سے بھی کہیں زیادہ خراب ہے۔

آئی ایل او کے سربراہ نے متنبہ کیا ہے کہ کام سے متعلق عدم مساوات اور مستقل مزاجی کو برقرار رکھنا بیشتر افراد کو مناسب روز گار کی تلاش سے روک رہا ہے جو انتہائی تشویش ناک ہے۔

ان کے بقول، "مناسب بے روزگار تک رسائی نہ ہونا پوری دنیا میں بڑھتی ہوئی احتجاجی تحریکوں اور بدامنی کو ہوا دے رہا ہے۔"

آئی ایل او کے سوشل ان ریسٹ انڈیکس یعنی سماجی بدامنی انڈیکس کے مطابق سال 2009 سے سال 2019 تک دنیا بھر میں ہونے والے مظاہروں اور ہڑتالوں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے۔

آئی ایل او کی رپورٹ میں اس امر پر بھی روشنی ڈالی گئی ہے روزگار افراد کی اکثریت بھی کم اجرت پر ملازمتیں کرنے پر مجبور ہے۔ اُنہیں بنیادی تحفظ اور ضروریات تک حاصل نہیں۔

رپورٹ میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ سال 2019 میں 63 کروڑ سے زائد افراد ایسے تھے جنہیں غیر معیاری حالات میں ملازمیتں کرنا پڑ رہی تھیں۔ اس کا مطلب یہ ہے کہ ان میں اتنی سکت بھی نہیں تھی کہ وہ ساڑھے تین ڈالر یومیہ کما سکیں۔

آئی ایل او کی رپورٹ میں جنس، عمر اور جغرافیائی محلِ وقوع جیسی چیزوں کے ذریعے کار آمد آمدنی اور ملازمت تک رسائی میں عدم مساوات کے بارے میں خبردار کیا گیا ہے۔

فیس بک فورم

XS
SM
MD
LG